چلڈرن ہسپتال:گٹرمیں گرکر ہلاکت پر ورثا انصاف کے منتظر

چلڈرن ہسپتال:گٹرمیں گرکر ہلاکت پر ورثا انصاف کے منتظر

سواسال بعدبھی 3سالہ بچے کی انکوائری ادھوری ،کسی ملزم کو سزا نہ دی جا سکی

لاہور (سجاد کاظمی سے )چلڈرن ہسپتال لاہور میں 3 سالہ بچے باسم کی ہلاکت کے افسوسناک واقعہ پرانصاف کا حصول تاخیر کا شکار ، وزیراعلیٰ کے نوٹس کے باوجود تقریباًسواسال بعد بھی انکوائری مکمل نہ ہو سکی۔ باسم 16 نومبر 2024 کو ہسپتال کے احاطے میں موجود کھلے گٹر میں گر کر جاں بحق ہو گیا تھا۔ حکام نے واقعہ کافوری نوٹس لیا تاہم انکوائری تاحال منطقی انجام تک نہ پہنچ سکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ کے چار روز بعد گٹرز کی مرمت کیلئے 52 لاکھ کے فنڈز جاری کیے گئے ، جس سے انتظامی غفلت واضح ہوتی ہے ۔ انکوائری میں اے ایم ایس، ڈی ایم ایس، سب انجینئر و دیگر عملے کو ذمہ دار قرار دیا گیا تھا جبکہ مینٹیننس ڈیپارٹمنٹ کے افسروں پر بھی سنگین غفلت کے الزامات عائد کیے گئے تاہم بعض افسروں کی مبینہ پشت پناہی اور انکوائری پر اثر انداز ہونے پراصل ذمہ داران کیخلاف کارروائی نہ ہو سکی۔31 مارچ 2026 کو حالیہ سماعت کے باوجود کسی ملزم کو سزا نہ دی جا سکی جبکہ چار ملزموں کو بحال کر کے تنخواہیں بھی جاری کر دی گئیں۔ دو اہلکار تاحال بحال نہ ہو سکے جس پر امتیازی سلوک کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔انصاف میں تاخیر بلکہ انکوائری کے شفاف نہ ہونے اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان انصاف کا منتظر ہے جبکہ شہری حلقے ذمہ داران کیخلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں