مشرقِ وسطیٰ کی فضاؤں میں چھایا ہوا لرزہ خیز سکوت بارود کے کسی بھی روایتی دھماکے سے زیادہ ہولناک ہے‘ جو بظاہر ایک ایسی عالمی تباہی کا دیباچہ ہے جس کی تپش پوری دنیا محسوس کرے گی۔ وقت کی نبض تھم چکی ہے اور عالمی سیاست کا محور ایک ایسے آتش فشاں پر آ کھڑا ہوا ہے جو کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے ایران کو دی جانے والی حالیہ دھمکی میں جہنم جیسے الفاظ کا استعمال اور ایرانی پاور پلانٹس و بنیادی انفراسٹرکچر پر حملوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ امریکی صدر کی یہ دھمکی محض ایک عسکری بیان نہیں بلکہ عالمی امن کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے الٹی میٹم نے سٹرٹیجک محاذ آرائی کو ایک ایسے نکتے پر پہنچا دیا ہے جہاں سے واپسی کا ہر راستہ بارود سے بھری سرنگوں سے گزرتا ہے۔ اگر واشنگٹن امریکی صدر کے بیانات کو عملی جامہ پہناتا ہے تو یہ معرکہ کسی ایک سرحد تک محدود نہیں رہے گا۔ عسکری ماہرین کے مطابق ایران پر براہِ راست حملے کی صورت میں پراکسی وار کا وہ سلسلہ شروع ہو گا جو بحیرۂ روم سے لے کر خلیجِ عدن تک پھیل جائے گا۔ لبنان میں حزب اللہ‘ یمن میں حوثی اور عراق و شام میں موجود مزاحمتی گروہ اسے اپنے وجود کی جنگ سمجھ کر پورے خطے میں امریکی تنصیبات اور اسرائیل کو نشانہ بنائیں گے۔ مزاحمتی گروہوں کی جانب سے حملوں کا یہ سلسلہ شروع ہو بھی چکا ہے‘ جو اس بات کی علامت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا دفاعی توازن بگڑ چکا ہے۔ یوں یہ جنگ چند دنوں کے اندر علاقائی آگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے‘ جس کا ایندھن وہ عالمی معیشت بنے گی جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل پر منحصر ہے۔
امریکی صدر کی دھمکی کو عالمی دفاعی حلقے ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیاروں یا کم از کم جوہری تنصیبات پر مہلک روایتی حملوں سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اگر ایران کے ایٹمی پاور پلانٹس یا یورینیم افزودگی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو یہ ایک ایسی ماحولیاتی خودکشی ہو گی جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ جوہری پلانٹ کے ڈھانچے کی تباہی سے ''آئسوٹوپ‘‘ اور ''سیزیم‘‘ جیسے مہلک تابکار عناصر فضا میں بلند ہوں گے۔ یہ اخراج کسی ایک ملک کی سرحد کا پابند نہیں ہو گا بلکہ ہوا کے دوش پر سوار ہو کر یہ موت کا بادل ہزاروں میل کا سفر طے کر سکتا ہے‘ جس سے پورا خطہ ناقابلِ رہائش بنجر زمین میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایٹمی ری ایکٹرز کا پگھلنا فضا میں اتنی بڑی مقدار میں تابکاری چھوڑے گا جو چرنوبل یا فوکوشیما کے حادثات سے کہیں زیادہ ہولناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یہاں دانستہ بمباری ہو گی۔ تابکاری ایک ایسا غنیم ہے جو نظر نہیں آتا لیکن نسلوں کو اپاہج کر دیتا ہے۔ اگر حملوں کے نتیجے میں تابکاری کا اخراج ہوتا ہے تو اس کی شدت فوری طور پر لاکھوں انسانوں کو ریڈی ایشن سِکنس میں مبتلا کر دے گی۔ انسانی جسم کے خلیات اور ڈی این اے اس زہر سے بری طرح متاثر ہوں گے‘ جس کے نتیجے میں کینسر جیسی موذی بیماریاں وبا کی طرح پھیلیں گی۔ سب سے ہولناک پہلو یہ ہے کہ یہ اثرات صرف موجودہ نسل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آئندہ پیدا ہونے والے بچے جینیاتی معذوریوں کا شکار ہوں گے۔ تابکاری انسانی جینز کے اندر وہ تبدیلیاں لاتی ہے جو صدیوں تک سفر کرتی ہیں‘ یعنی یہ حملہ صرف آج کے انسانوں پر نہیں بلکہ ان کے مستقبل پر بھی ہو گا۔ مٹی کی زرخیزی اور سمندری حیات کا خاتمہ خوراک کے ایک ایسے بحران کو جنم دے گا جس سے نکلنے میں دہائیاں نہیں بلکہ صدیاں لگیں گی۔ یوں جو لوگ براہِ راست بمباری سے بچ جائیں گے وہ بھوک‘ پیاس اور بیماریوں کے ہاتھوں بتدریج موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔
ایران کی جغرافیائی پوزیشن ایسی ہے کہ وہاں ہونے والی کسی بھی ایٹمی یا تابکار تباہی کا پہلا شکار اس کے ہمسایہ ممالک ہوں گے۔ ہواؤں کے رخ سے متحدہ عرب امارات‘ قطر‘ بحرین اور کویت وہ پہلے ممالک ہوں گے جہاں تابکار بادل چند گھنٹوں میں ڈیرے ڈال لیں گے۔ ان ممالک کے جدید ترین شہر‘ جو اپنی چمک دمک کیلئے مشہور ہیں‘ اچانک ایک سنسان قبرستان کا منظر پیش کرنے لگیں گے کیونکہ تابکاری سے بچنے کا واحد راستہ ان شہروں کو خالی کرنا ہو گا۔ سعودی عرب اور عمان کے ساحلی علاقے اس ہولناکی کی زد میں آئیں گے‘ جہاں ساحلِ سمندر پر رہنے والی کروڑوں کی آبادی کو فوری انخلا کے چیلنج کا سامنا ہو گا۔ مشرق کی جانب پاکستان کا صوبہ بلوچستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے براہِ راست متاثر ہوں گے۔ سیستان و بلوچستان کے ایرانی حصے میں ہونے والا کوئی بھی حادثہ پاکستانی سرحد کے اندر تابکار گرد اڑا لائے گا۔ اس لیے یہ ایک ایسی زنجیر ہے جس کی ایک کڑی ٹوٹنے سے پورا خطہ زندگی کی نعمت سے محروم ہو سکتا ہے۔ افغانستان پہلے ہی دہائیوں کی جنگ سے نڈھال ہے‘ اس نئی آفت کے سامنے مکمل طور پر بے بس ہو جائے گا۔
خلیج کے پانیوں میں تابکاری شامل ہونے سے پینے کے پانی کی فراہمی (Desalination Plants) مفلوج ہو جائے گی۔ خلیجی ممالک کی اکثریت سمندری پانی کو میٹھا بنا کر استعمال کرتی ہے۔ اگر سمندر ہی تابکار ہو گیا تو یہ پلانٹس زہر سپلائی کرنے لگیں گے۔ پانی کی فراہمی بند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کروڑوں انسان پیاس سے مرنے کے دہانے پر پہنچ جائیں گے۔ ایندھن کے بحران کے بعد پانی کا یہ بحران اس جنگ کو ایک ایسے موڑ پر لے آئے گا جہاں انسان ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جائیں گے اور انسانی تمدن کی بنیادیں ہل کر رہ جائیں گی۔ اس لیے امریکی صدر کو ایران پر مزید حملوں سے روکنے کیلئے صرف روایتی مذمت اور بیانات کافی نہیں۔ یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کا اصل امتحان کا وقت ہے۔ سلامتی کونسل کو فوری طور پر مداخلت کرنی چاہیے تاکہ کسی بھی ملک کو جوہری تنصیبات پر حملے سے روکا جا سکے۔ اگر واشنگٹن کی اس مہم جوئی کے سامنے بند نہ باندھا گیا تو یہ بین الاقوامی قانونی ڈھانچے کا وہ انہدام ہو گا جس کے نتیجے میں عالمی ضابطے اپنی اہمیت کھو دیں گے اور کرۂ ارض پر انسانی اقدار کے بجائے لاقانونیت کا راج ہو گا۔
جنگ کے معاشی اثرات اس قدر گہرے ہو سکتے ہیں کہ کوئی بھی ملک اس سے محفوظ نہیں رہے گا۔ تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی جس سے عالمی ٹرانسپورٹیشن اور مینوفیکچرنگ لاگت میں ناقابلِ یقین اضافہ ہو گا اور دنیا ایک ایسی معاشی سرد جنگ میں داخل ہو جائے گی جہاں ہر ملک اپنے وسائل بچانے کی فکر میں ہو گا۔ یہ معاشی عدم استحکام خود امریکہ کے اندر سیاسی بحران پیدا کرے گا لیکن اس وقت تک شاید بہت دیر ہو چکی ہو گی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا موجودہ منظرنامہ محض دو ممالک کا تصادم نہیں بلکہ یہ زمین پر زندگی کی بقا کا سوال ہے۔ جوہری پلانٹس پر حملے کی صورت میں نکلنے والی تابکاری کسی کا پاسپورٹ‘ مذہب یا نظریہ نہیں پوچھے گی‘ وہ صرف موت بانٹے گی۔ اس سے پہلے کہ امریکی صدر دھمکیوں کو عملی شکل دیں اور امریکی حملے جدید انسانی تاریخ کا سیاہ ترین باب بن جائیں‘ اقوامِ عالم کو عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔ بالخصوص دنیا کے مؤثر ممالک کو آگے بڑھ کر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے امریکی صدر کو انتہائی اقدام سے روکنا ہو گا کیونکہ انسانیت کو بچانے کا واحد راستہ امن‘ مذاکرات اور ایک دوسرے کے وجود کا احترام ہے۔