نئے کلاس رومز کامنصوبہ فنڈز کی عدم فراہمی پرتعطل کا شکار
سرکاری سکولوں میں تعمیرات رک گئیں،طلبہ کی تعلیم مزید متاثر ہونے کاخدشہ
لاہور(عاطف پرویز سے )پنجاب میں سرکاری سکولوں کیلئے نئے کلاس رومز کی تعمیر کا بڑا منصوبہ فنڈز کی عدم فراہمی پرتعطل کا شکار جس سے ہزاروں طلبہ کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 30 ہزار نئے کلاس رومز بنانے کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ بڑھتی ہوئی طلبہ تعداد کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔محکمہ سکول ایجوکیشن کے مطابق منصوبے کے تحت مختلف اضلاع میں تعمیراتی کام کا آغاز بھی کر دیا گیا تھاتاہم سکولوں کو ابتدائی قسط جاری ہونے کے بعد مزید فنڈز فراہم نہ کیے جا سکے ۔ فنڈز کی بندش پرمتعدد سکولوں میں تعمیراتی سرگرمیاں رک گئی ہیں اور کئی مقامات پر انفراسٹرکچر ادھورا رہ گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق لاہور میں بھی اڑھائی سو سے زائد کلاس رومز کی تعمیر شروع کی گئی تھی لیکن کئی سکولوں میں دیواریں، چھتیں اور بنیادی ڈھانچہ تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ فنڈز کی عدم دستیابی پرکام رکا ہوا ہے جس سے طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ،انہوں نے فوری طور پر فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کیا ۔دوسری جانب مالی سال کے اختتام میں تقریباً ایک ماکاعرصہ رہ گیالیکن تاحال فنڈز جاری نہ کیے جا سکے ۔ حکومت نے منصوبے کیلئے 40 ارب روپے مختص کیے تھے ۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ تاخیر سے ناصرف منصوبہ متاثر ہو رہا ہے بلکہ کئی سکولوں میں بچوں کو کھلے آسمان تلے یا متبادل جگہوں پر تعلیم حاصل کرنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے ۔ماہرین کے مطابق بروقت فنڈز جاری نہ کیے گئے تو تعلیمی نظام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔