سی پیک کے دوسرے مرحلے میں اکیڈمیا کے کردار پرسیشن
چینی قونصل جنرل کی خصوصی شرکت،تعلیمی تعاون کیلئے مکمل تعاون کا اعادہ
لاہور (کامرس رپورٹر،خبرنگار)لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام سی پیک کے دوسرے مرحلے میں اکیڈمیا کا کردار کے موضوع پر اہم سیشن ہوا جس کا مقصد اکیڈمیا اور صنعت کے درمیان تعاون کو فروغ دینا تھا تاکہ سی پیک فیز ٹو کے تحت دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے ۔ چین کے قونصل جنرل سن یان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی جبکہ اکیڈمیا، صنعت اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے خطاب میں کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ، جس میں صنعتی تعاون، خصوصی اقتصادی زونز ، زراعت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ دی جا رہی ہے ۔
اس مرحلے میں اکیڈمیا کا کردار نہایت اہم ہے اور جامعات کو روایتی تدریسی اداروں سے نکل کر تحقیق، جدت اور معاشی ترقی کے مراکز بننا ہوگا۔چین کے قونصل جنرل مسٹر سن یان نے خطاب میں پاکستان کے ساتھ تعلیمی تعاون کے فروغ کیلئے چین کے مکمل تعاون کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا چین پاکستانی جامعات میں جدید لیبارٹریز، تحقیقی مراکز اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر پروگرامز کے قیام میں تعاون پر تیار ہے ۔ چین کے قونصل جنرل مسٹر سن یان نے پنجاب یونیورسٹی کا دورہ کیا اور وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر محمد علی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر ریحان صادق شیخ، ڈائریکٹرکنفیوشس انسٹیٹیوٹ ڈاکٹرثوبیہ خرم ودیگرنے شرکت کی۔ ملاقات پرباہمی تعلیمی تعاون کے فروغ کیلئے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کی مزیدترقی اور توسیع پر توجہ دی گئی۔ ،چینی زبان، ثقافت اور تعلیمی تبادلہ پروگراموں کے فروغ پر زور دیا گیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مشترکہ منصوبوں اور تعلیمی شراکت داری سے طلبہ اور اساتذہ کیلئے مزید مواقع پیدا کیے جائینگے ۔