بلدیاتی الیکشن کیلئے قانون سازی سست روی کا شکار
معاملہ7 سال سے زیر التوا،مقامی سطح پر مسائل حل کیلئے ایوانوں میں خاموشی
لاہور (عمران اکبر )بلدیاتی خودمختاری والیکشن کیلئے قانون سازی سست روی کا شکار ،اکتوبر 2025میں بلدیاتی قانون منظور ہواتاحال بلدیاتی الیکشن پر حکومتی ایوانوں میں کوئی ڈائیلاگ نہ ہو سکا ۔2025/26میں بلدیاتی اداروں کو امالی خودمختاری دینے کیلئے اقدام اٹھانے کا لالی پاپ دیا گیا ،2026/27میں بھیبلدیاتی خود مختاری کو مائنس کرنے تیاریاں جاری ہیں ،دو سال گذر گئے لوکل گورنمنٹس کے الیکشن تاحال التوا کا شکار ،بیوروکریسی راج براقرار ،بجٹ 2026/27 میں ایک لاکھ سے زائد بلدیاتی نمائندوں کی خودمختاری لٹک گئی ،صوبے میں بلدیاتی الیکشن کا دنگل شروع نہ ہوسکا ،پنجاب کی 220لوکل گورنمنٹس سے بلدیاتی نمائندوں کے بغیر فیصلے تاحال جاری جبکہ لاہور سمیت صوبے بھر کی 3ہزار4سو یونین کونسلز ترقیاتی بجٹ سے محروم ہیں اور قائمہ کمیٹی لوکل گورنمنٹ بل ایک سال سے منظور کیا ہوا ہے ۔ وزیر بلدیات ذیشان رفیق کا کہنا ہے کہ کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر بلدیاتی الیکشن کیلئے کام جاری رکھا، اب الیکشن ایکٹ بن چکا ہے ، محکمہ نے حد بندی کا عمل مقررہ وقت میں مکمل کیا، الیکشن کمیشن کی ہدایت پرآئندہ بھی تاخیر نہیں ہوگی۔دوسری جانب 7 سال گزرنے کے باوجود پنجاب میں بلدیاتی خود مختاری نہ ملنے سے مقامی سطح کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔