سکولوں سے اضافی وسائل کا منصوبہ،14تجاویز پر غور

سکولوں سے اضافی وسائل کا منصوبہ،14تجاویز پر غور

سکولوں کے موجودہ اثاثوں سے سالانہ 64 ارب آمدن حاصل ہونے کا تخمینہ

لاہور(خبر نگار)محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے سرکاری سکولوں کو مالی طور پر خودمختار بنانے اور اضافی وسائل پیدا کرنے کیلئے ایک جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے ۔ مجوزہ منصوبے کے تحت سرکاری سکولوں کے موجودہ اثاثوں سے سالانہ تقریباً 64 ارب روپے آمدن حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ، جبکہ اس مقصد کے لیے 16 مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے ۔ذرائع کے مطابق محکمہ سکول ایجوکیشن نے سکولوں کے غیر استعمال شدہ یا کم استعمال ہونے والے اثاثوں کو آمدن کا ذریعہ بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ تعلیمی اداروں کی مالی ضروریات اپنے وسائل سے پوری کی جا سکیں۔منصوبے کے تحت مرکزی شاہراہوں پر واقع سکولوں کی بیرونی دیواروں پر برانڈنگ، بل بورڈز اور ہورڈنگز نصب کرنے کی اجازت دینے کی تجویز شامل ہے ۔ سکولوں کی اضافی اراضی پر مارکیٹیں، دکانیں اور دیگر کمرشل سرگرمیاں شروع کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ موبائل فون کمپنیوں کو سکولوں میں ٹیلی کام ٹاورز نصب کرنے ، جبکہ سکولوں کی چھتوں اور خالی اراضی پر سولر انرجی منصوبے لگانے کی تجاویز بھی پلان کا حصہ ہیں۔۔ ان منصوبوں سے حاصل ہونے والی آمدن سکولوں کی بہتری اور ترقی پر خرچ کی جا سکے گی۔محکمہ سکول ایجوکیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کا بنیادی مقصد سرکاری سکولوں کے وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانا، تعلیمی اداروں کے لیے پائیدار مالی وسائل پیدا کرنا اور پنجاب میں سکولوں کے لیے جدید فنانسنگ ماڈل متعارف کرانا ہے ۔ تاہم حکام کے مطابق تمام تجاویز تاحال غور و خوض کے مرحلے میں ہیں اور حتمی منظوری کے بعد ہی ان پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں