کم عمری شادی آرڈیننس کی رٹ فیڈرل شریعت کورٹ ارسال
ملتان (کورٹ رپورٹر)ہائی کورٹ ملتان بینچ کے جج جسٹس سلطان تنویر احمد نے مفتی عبدالقوی کی جانب سے دائر رٹ درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ کیا۔۔
کہ حکومت پنجاب کے نافذ کردہ کم عمری شادی آرڈیننس 2026 کا معاملہ فیڈرل شریعت کورٹ کو بھیجا جائے کیونکہ وہی مناسب فورم ہے جو اس بارے میں فیصلہ کر سکتا ہے ۔مفتی عبدالقوی نے ایڈووکیٹ آصف چودھری کے ذریعے عدالت میں درخواست دائر کی تھی اور مؤقف اختیار کیا کہ کم عمری شادی آرڈیننس قرآن و سنت کے منافی ہے جبکہ 18 سال کی عمر کی حد اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ گورنر پنجاب کو آئین کے آرٹیکل 128 کے تحت صرف ایمرجنسی صورتحال میں آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے ، مگر موجودہ صوبائی اسمبلی کے باوجود بغیر ہنگامی صورتحال کے آرڈیننس نافذ کیا گیا۔پٹیشن میں یہ اعتراض بھی اٹھایا گیا کہ آرڈیننس کے نفاذ سے قبل اسلامی نظریاتی کونسل سے مشاورت نہیں کی گئی جو آئینی و قانونی تقاضوں کے خلاف ہے ۔ ساتھ ہی نکاح خواں اور والدین کو سزائیں دینے کی شقوں کو بھی چیلنج کیا گیا۔