"SG" (space) message & send to 7575

امریکہ کا پاکستان کی طرف جھکاؤ

پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات کی تاریخ پیچیدہ اور اتار چڑھاؤ سے بھرپور ہے۔ امریکہ اپنے سٹرٹیجک مفادات کے تحت پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار کرتا رہا جبکہ پاکستان نے بھی اپنی قومی ضروریات اور سلامتی کے تقاضوں کے مطابق خارجہ پالیسی اختیار کی۔ ایک جوہری طاقت کی حیثیت سے پاکستان میں عالمی قوتوں کی دلچسپی فطری امر ہے‘ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن پاکستان کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کرتا۔ گو کہ صدر ٹرمپ کے پہلے دور میں افغانستان میں پیدا شدہ صورتحال کے تناظر میں پاک امریکہ تعلقات خوشگوار نہیں رہے اور خود صدر ٹرمپ افغان ایشو اور خصوصاً خطے میں اپنے مفادات کے حوالے سے پاکستان کے کردار پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے لیکن یہ پاکستان ہی تھا جس نے امریکہ کی نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملے اور پھر وہاں سے امریکی افواج کے انخلا میں مدد کی۔
تاہم دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں کلیدی کردار ادا کرنے کے باوجود پاکستان خود دہشت گردی کا شکار بنا اور آج تک ایک مشکل صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ البتہ عالمی قوتوں کو جس انداز میں اس جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا‘ ویسا نہیں ہوا۔ تاہم مئی2025 ء کی پاک بھارت جنگ میں افواجِ پاکستان کے ہاتھوں بھارت کو ہونے والی شکست کے بعد دنیا بھر میں پاکستان اور اس کی افواج کا مقام بلند ہوا اورعالمی قوتوں خصوصاً امریکہ کا رخ پاکستان کی طرف مڑا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سراہتے نظر آئے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس پذیرائی کا سب سے بڑا سفارتی نقصان بھارت کو ہوا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنائے گئے رویے کے باعث دنیا بھر میں بھارت کی جگ ہنسائی کا سلسلہ رک نہیں رہا۔
غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس میں بھی صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سخت جان اور باصلاحیت عسکری قائد قرار دے کر پاکستان کی عسکری اہمیت کا اعتراف کیا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف سے اپنے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا۔ گو کہ مذکورہ اجلاس کی بنیادی اہمیت غزہ میں امن کے قیام اور ممکنہ اقدامات سے متعلق تھی تاہم اس میں پاکستانی قیادت کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا مثبت اظہارِ خیال علاقائی صورتحال میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا عکاس تھا۔ غزہ کے معاملے پر پاکستان کے بارے میں تحفظات کا اظہار کرنے والوں کو بھی اس دورۂ امریکہ سے مایوسی ہوئی کیونکہ نہ تو پاکستان نے غزہ میں اپنی افواج بھیجنے کا اعلان کیا اور نہ ہی حماس کو غیر مسلح کرنے کے کسی کردار کا عندیہ دیا بلکہ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے تاریخی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی‘ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت پر زور دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے امن بورڈ میں شرکت کرتے ہوئے فلسطینی عوام کی آواز بلند کی اور اپنے اصولی مؤقف پر کاربند رہتے ہوئے امن کے قیام کے لیے سنجیدہ وابستگی ظاہر کی۔ اس اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ملاقات ہوئی۔ اس میں دوطرفہ سٹرٹیجک تعلقات کو مضبوط بنانے‘ تجارت کے فروغ‘ سرمایہ کاری کے امکانات اور دہشت گردی کے سدباب پر گفتگو ہوئی۔ اس ملاقات کے اثرات کیا ہوں گے‘ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم یہ امر نمایاں ہے کہ معرکۂ حق میں کامیابی کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی پذیرائی میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ کا پاکستان کی جانب جھکاؤ اس بات کا اشارہ ہے کہ ماضی میں بھارت کو ترجیح دینے کے باوجود اب پاکستان کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ پاکستان نے امریکہ کی سرد مہری کے باوجود اپنے علاقائی اتحادیوں خصوصاً چین کی معاونت سے اپنی عسکری صلاحیت منوائی ہے۔عسکری محاذ پر پاکستان خود انحصاری کی منزل کے قریب پہنچ چکا ہے اور اس کا اعتراف دنیا کر رہی ہے۔ تاہم پاکستان کا اصل چیلنج معاشی ہے ۔ امریکہ سے پاکستان کے اچھے تعلقات کی ایک بڑی وجہ آئی ایم ایف‘ ورلڈ بینک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں میں امریکہ کا اثر و رسوخ ہے۔
خارجہ امور کے ماہرین سمجھتے ہیں کہ اگرچہ امریکہ افغانستان سے نکل چکا ہے لیکن وہ اس حوالے سے مکمل دستبردار نہیں ہونا چاہتا اور امریکہ کو خطے میں عملی معلومات اور زمینی حقائق کے لیے پاکستان کی ضرورت رہتی ہے۔ ماضی میں امریکہ کے بھارت کی طرف جھکاؤ نے پاک چین تعلقات کو مزید مضبوط کیا جس میں سی پیک نے اہم اور بنیادی کردار ادا کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ نئی امریکی قیادت کو اپنی اس غلطی کا احساس ہے اور وہ چاہتی ہے کہ پاکستان مکمل طور پر چین کے بلاک کا حصہ نہ بنے جبکہ خود بھارت کی جانب سے بعض معاملات میں واشنگٹن سے الگ پوزیشن لینے اور روس سے دفاعی معاہدے جاری رکھنے کے باعث بھی امریکہ پاکستان کی جانب رجوع پر مجبور ہے‘ اور اس پالیسی کے حوالے سے سمجھا جا رہا ہے کہ امریکہ کا بنیادی مقصد خطے میں استحکام ہے نہ کہ جذباتی تعلقات‘ لہٰذا امریکہ اب خطے میں اپنی ترجیحات بدل رہا ہے۔
جہاں تک پاکستان کی امریکہ کے حوالے سے حکمت عملی کا سوال ہے تو پاکستانی قیادت کو صدر ٹرمپ کی جانب سے پذیرائی کے باوجود اعتدال کی پالیسی پر قائم رہنا ہوگا اور کسی بھی صورت چین پر امریکہ کو ترجیح نہیں دینی چاہیے۔ پاکستان کی موجودہ لیڈر شپ کے حوالے سے چین کی قیادت کے جذبات ڈھکے چھپے نہیں البتہ چین اور چینی قیادت بیانات کی بجائے تعلقات میں عملی اقدامات کو ترجیح دیتی ہے۔ پاکستان کے لیے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ امریکہ اور چین کے مابین تعلقات میں توازن برقرار رکھے اور کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے اپنی توجہ اپنی معیشت کو مستحکم کرنے پر مرکوز رکھے۔ یہ عمل کسی سے الجھاؤ کے بجائے سلجھاؤ کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتا ہے‘ اس کے لیے جذباتی ہونے کے بجائے معاشی سفارتکاری اپنانا ہوگی کیونکہ آج کی دنیا میں اصل طاقت معاشی مضبوطی ہے۔ اگر معیشت مضبوط ہوگی تو خارجہ پالیسی بھی دباؤ کا شکار نہیں رہے گی۔ لہٰذا معاشی استحکام، علاقائی امن اور متوازن سفارتکاری پاکستان کے قد کو اور نمایاں کر سکتی ہے اور امریکہ اور چین کے درمیان پائے جانے والے تناؤ میں پاکستان مستقبل میں پل کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں