"SG" (space) message & send to 7575

پاکستان وسطی ایشیائی ممالک کی ترجیح کیوں؟

معرکۂ حق میں تاریخی کامیابی نے جہاں پاکستان کو ناقابلِ تسخیر ثابت کیا وہیں اس فتح نے پاکستان کی عالمی و علاقائی اہمیت و حیثیت میں اضافہ بھی کیا۔ جہاں دنیا بھر کے اہم ممالک خصوصاً امریکہ اور مغربی ممالک نے پاکستان کی طرف رجوع کیا وہیں وسطی ایشیائی ممالک کا پاکستان کو اہمیت دینا ہر لحاظ سے غیرمعمولی ہے۔ وسطی ایشیائی ممالک کی قیادت تسلسل کے ساتھ پاکستان کے دورے کر تی رہی ہے‘ جس سے ظاہر ہوتا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تجارتی روابط قائم کرنے اور یہاں سرمایہ کاری کیلئے سنجیدہ ہیں۔ پہلے آذربائیجان کی لیڈر شپ نے اسلام آباد کا دورہ کیا تو اب قازقستان اور ازبکستان کے صدور نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ پاکستان اور قازقستان نے تجارت اور اقتصادی شعبے کو وسعت دینے کیلئے پانچ سالہ روڈ میپ اور آئندہ دو سال میں تجارتی حجم ایک ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت‘ سرمایہ کاری‘ تعلیم‘ صحت‘ کھیل‘ ریلوے‘ ماحولیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کیلئے 37 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ قازقستان کے صدر نے کہا کہ دفاعی شعبے میں پاکستان کی ترقی عالمی سطح پر تسلیم کی جاتی ہے اور خطے میں پاکستان کی امن و استحکام کیلئے کوششیں قابلِ تعریف ہیں۔
قازق صدر کا دورہ ختم ہونے کے فوری بعد ازبکستان کے صدر اسلام آباد پہنچے۔ ازبکستان کے ساتھ بھی پاکستان کا 29 مفاہمتی یادداشتوں اور دستاویزات کا تبادلہ ہوا۔ دونوں ملکوں کے درمیان پانچ سال میں تجارت دو ارب ڈالرز پر لے جانے پر اتفاق ہوا۔ دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ کے درمیان تعاون بڑھانے کیلئے مفاہمتی یادداشت اور ترجیحی تجارت کے معاہدے کے تحت تجارتی اشیا کی تعداد میں اضافے کا پروٹوکول طے کیا گیا۔ قازقستان اور ازبکستان کے صدور کا اسلام آباد پہنچنے پر پُرتپاک خیر مقدم ہوا۔ انہیں اکیس توپوں کی سلامی دی گئی۔ پاک فضائیہ کے طیاروں نے بھی دونوں ممالک کے صدور کی آمد پر انہیں فضا میں سلامی دی۔ وسطی ایشیائی ممالک کے سربراہان کے اس غیرمعمولی استقبال کو مستقبل کے تعلقات میں غیرمعمولی پیش رفت کا ضامن قرار دیا جا رہا ہے۔ یہاں اصل سوال یہ ہے کہ وسطی ایشیائی ممالک کا اسلام آباد کی طرف رجوع کیا ظاہر کرتا ہے؟ دو طرفہ تعلقات کا یہ سلسلہ ان ممالک کی ترقی و خوشحالی کے عمل میں کس حد تک معاون بنے گا اور علاقائی محاذ پر ان کی کیا اہمیت اور حیثیت ہو گی؟اس کا جواب ہے کہ وسطی ایشیائی ممالک کا پاکستان کی طرف رجوع سٹرٹیجک‘ معاشی‘ سفارتی اور سکیورٹی عوامل کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کے نیو کلیئر پاور بننے کے بعد سے ہی وسطی ایشیائی ممالک پاکستان کی غیرمعمولی اہمیت و حیثیت کو سراہتے آئے ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی اپنے ادوار میں وسطی ایشیائی ممالک کو غیرمعمولی اہمیت دی تھی۔ اب باقی دنیا کی طرح وسطی ایشیائی ممالک کے پاکستان کی طرف رجوع کی ایک بڑی وجہ معرکۂ حق میں کامیابی اور اس کے بعد کے حالات ہیں کیونکہ موجودہ عالمی طاقتوں کی نئی صف بندی میں پاکستان کی اہمیت بڑھی ہے اور اہم ایشوز پر پاکستان کو اعتماد میں لینا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان چونکہ جنوبی ایشیا‘ وسطی ایشیا‘ مشرقِ وسطیٰ اور چین کے سنگم پر واقع ہے‘ وسطی ایشیائی ریاستیں پاکستان کو اہم تجارتی گزرگاہ کے طور پر دیکھتی ہیں۔ چین اور پاکستان کے درمیان سی پیک معاہدے نے بھی وسطی ایشیائی ممالک کیلئے کشش پیدا کی ہے۔ سی پیک نے جہاں پاکستان کے معاشی استحکام اور ترقی کی بنیاد رکھی ہے وہیں چین کے علاوہ وسطی ایشیائی ریاستیں‘ ترکیہ اور ایران بھی اس شراکت داری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ خصوصاً امریکہ کی خطے میں بدلتی ترجیحات کے بعد وسطی ایشیائی ممالک اپنی علاقائی شراکت داری بڑھا رہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اپنے معاشی مستقبل کیلئے اب مل جل کر آگے بڑھنا ہو گا۔ اس ضمن میں علاقائی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات اور تجارتی تعاون ناگزیر ہے۔ اس سارے عمل میں پاکستان ایک برِج سٹیٹ کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان خود کو امت مسلمہ کے معاملات خصوصاً فلسطین‘ کشمیر جیسے ایشوز سے منسلک رکھتا ہے اس کے مسلم ممالک خصوصاً وسطی ایشیائی ممالک‘ ایران‘ ترکیہ‘ انڈونیشیا‘ ملائیشیا اس کی سب کے ساتھ ہم آہنگی ہے اور اب جبکہ پاکستان کی دفاعی طاقت دنیا پر آشکار ہو چکی ہے اور پاکستان نے اپنے سے چھ گنا زیادہ طاقتور ملک کو شکست فاش دی ہے‘ اس سے نہ صرف دنیا بھر میں پاکستان کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا تاثر ابھرا ہے بلکہ پاکستان کی فوجی صلاحیت اور دفاعی صنعت نے ایشیائی ممالک کیلئے کشش پیدا کر رکھی ہے۔ وسطی ایشیائی ممالک کی قیادت اس حوالے سے پاکستان کے اس کردار کو سراہتی نظر آتی ہے اور خصوصاً دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے کردار اور اس کے سدباب کیلئے پاکستان کے اقدامات نے بھی اس کی اہمیت کو بڑھایا ہے۔ جہاں تک توانائی اور معیشت کے حوالے سے کردار کا تعلق ہے تو پاکستان توانائی کیلئے راہداری کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے متعدد تجاویز پر کام ہو رہا ہے اور اس حوالے سے وسطی ایشیائی ممالک سے تعاون بھی زیر غور ہے۔ اس بنا پر کہا جا رہا ہے کہ وسطی ایشیائی ممالک کا پاکستان کی طرف رجوع محض جذباتی بنیاد پر نہیں بلکہ جیو سٹرٹیجک ضرورت ہے۔ خصوصاً نئے پیدا شدہ حالات اور علاقائی صورتحال میں پاکستان سے تعلقات ان ممالک کیلئے ناگزیر ہیں۔
معرکۂ حق میں کامیابی سے نئی دہلی کے مقابلے میں اسلام آباد کی اہمیت بڑھی ہے اور دنیا کی لیڈر شپ‘ خصوصاً علاقائی ممالک اب اہم معاملات میں اسلام آباد کو اعتماد میں لینا ضروری سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں سفارتی سرگرمیاں ماضی کی نسبت بڑھتی نظر آ رہی ہیں۔ اب تو یہ تاثر اُبھر رہا ہے کہ ایشیا میں طاقت کا توازن مغرب سے ہٹ کر خطے کے اندر بن رہا ہے جس میں پاکستان کا کردار اہم ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی علاقائی و عالمی حیثیت کیلئے پاکستان میں داخلی استحکام ناگزیر ہے تاکہ دنیا کا پاکستان کی طرف رجوع کرے۔ ماہرین کے مطابق اکنامک سکیورٹی اور جیو اکنامکس پاکستان کی نئی طاقت بن سکتی ہے اور عسکری تعاون کے ساتھ اگر معاشی اصلاحات نہ ہوئیں تو پاکستان کی طرف دنیا کا یہ رجوع عارضی ثابت ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی لیڈر شپ خصوصاً وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نئی پیدا شدہ علاقائی صورتحال میں پاکستان کی معاشی مضبوطی کے حوالے سے سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں‘ اور اندرونی و بیرونی محاذ پر ایسے اقدامات اور اصلاحات کیلئے سرگرم ہیں جس کے نتیجہ میں پاکستان دفاعی خود انحصاری کی طرح معاشی خود انحصاری کی منزل پر پہنچ سکے۔ اسی حکمت کی وجہ سے دنیا پاکستان کی طرف رجوع کرتی نظر آ رہی ہے‘ پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کر رہی ہے۔ وسطی ایشیائی ممالک کی لیڈرشپ کا اسلام آباد آنا بھی یہی ظاہر کرتا ہے۔ ان ممالک کے پاکستان کی طرف رجوع کی بڑی وجہ ان کا جغرافیہ‘ معاشی معاملات اور سلامتی کیلئے اقدامات ہیں۔ اگر پاکستانی قیادت ملک کے اندر داخلی‘ سیاسی و معاشی استحکام پیدا کرے تو یہ رجوع مستقل سٹرٹیجک اتحاد میں بدل سکتا ہے۔ جہاں تک وسطی ایشیائی ممالک کے پاکستان کی طرف رجوع پر بھارتی ردِعمل کا سوال ہے تو بھارت دس مئی 2025ء کے بعد سے ایک نفسیاتی کیفیت سے دوچار ہے۔ بھارتی میڈیا پر بھی واویلا مچا کہ بھارت کے جارحانہ طرز عمل نے اسے دنیا میں ایکسپوز کیا اور بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی دفاعی پالیسی نے اس کے ذمہ دارانہ کردار کو اجاگر کیا ہے۔ جس کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ پہلگام واقعے کا بنیادی مقصد تو پاکستان پر اثر انداز ہونا تھا لیکن اس شر میں خیر کی خبر یہ نکلی کہ آج پاکستان کیلئے راستے کھلے ہیں اور بھارت دفاعی محاذ پر کھڑا ہے۔ پاکستان کا جغرافیہ اس کی طاقت بنتا نظر آ رہا ہے مگر اس طاقت کو معاشی طاقت میں بدلنا تاحال ایک چیلنج ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں