آم کی کاشتکار جدید سائنسی انداز اپنائیں :عون حمید ڈوگر
دقیا نوسی چھوڑنے سے اعلیٰ معیار کی پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے : خطاب
مونڈکا (نامہ نگار ) سردار عون حمید ڈوگر نے کہا ہے کہ آم کے باغبان پرانے اور دقیانوسی طریقے چھوڑ کر جدید سائنسی انداز اپنائیں تو اعلیٰ معیار کی پیداوار حاصل کر کے برآمدات بڑھا سکتے ہیں اور قیمتی زرمبادلہ کما کر ملکی معیشت کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ وہ مقامی ہوٹل میں مینگو سیمینار سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا آم کے پودے کو پھل دینے میں پانچ سے سات سال لگتے ہیں، اس لیے باغ کے جوان ہونے کے بعد دوگنی نگہداشت ضروری ہوتی ہے ۔ ماہرین زراعت نے باغبانوں کو بروقت چھدرائی، آبپاشی، قدرتی کھاد اور ضرر رساں کیڑوں کے فوری تدارک کیلئے جدید طریقے اپنانے کی ہدایت کی۔