پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ، سیاسی و تاجر رہنما سراپا احتجاج
عوامی زندگی اجیرن، حکومت فوری ریلیف دے اور قیمتوں میں کمی کرے ، مطالبہ
وہاڑی (خبرنگار) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر مختلف سیاسی، سماجی اور تاجر حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے ۔ رہنماؤں اور نمائندہ شخصیات نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے بڑھتے بوجھ نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ۔تحریک انصاف کے ضلعی صدر و سابق ایم این اے چودھری طاہر اقبال نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مہنگائی کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے دور میں چینی تقریباً 70 روپے کلو اور پٹرول تقریباً ڈیڑھ سو روپے فی لیٹر تھا جبکہ آج چینی 200 روپے کلو تک پہنچ چکی ہے اور پٹرول 300 روپے فی لیٹر سے بھی تجاوز کر چکا ہے ۔چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سینیئر رہنما مختار احمد بھٹی نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی اور اس کا براہ راست اثر عام آدمی اور چھوٹے تاجروں پر پڑے گا۔ انصاف لائرز فورم کے رہنما رانا محمد ساجد ایڈووکیٹ اور معروف قانون دان شیخ فضل الرحمان ایڈووکیٹ نے بھی مہنگائی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں عوام کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہیں۔ صائمہ نورین ایڈووکیٹ نے کہا کہ مہنگائی نے عام گھرانوں کا بجٹ متاثر کر دیا ہے جبکہ کسان رہنما سید سخی حسین شاہ کا کہنا تھا کہ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے زرعی اخراجات میں اضافہ ہو گا۔ جماعت اسلامی کے رہنما مرشد عبدالعزیز بھٹہ نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کر کے عوام کو ریلیف فراہم کرے ۔