ویسٹ مینجمنٹ ورکرز کا تنخواہیں، سہولیات نہ ملنے پر احتجاج
گاڑیوں کی خرابی، ہراسانی اور حفاظتی سامان کی کمی کا الزام عائد کردیا
ملتان (خصوصی رپورٹر)ویسٹ مینجمنٹ کمپنی محنت کش یونین کے مرکزی جنرل سیکرٹری حماد افضل ڈوگر اور صدر سمیع اللہ خان نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے ادارے میں جاری مسائل پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ 11 اپریل گزرنے کے باوجود تاحال ورکرز کو تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی گئی جس کے باعث ملازمین شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ یونین رہنماؤں نے کمشنر ملتان، ڈپٹی کمشنر، وزیراعلیٰ اور ستھرا پنجاب پروگرام کے چیئرمین سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ جو ورکر اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرتا ہے اسے نوکری سے فارغ کر دیا جاتا ہے جو سراسر ناانصافی ہے ۔ رہنماؤں نے انکشاف کیا کہ ویسٹ مینجمنٹ کی نصف سے زائد گاڑیاں خراب ہو کر ورکشاپس میں کھڑی ہیں جن میں ایم تھری زون کی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹھیکیدار ڈرائیورز کو اپنی جیب سے گاڑیاں مرمت کرانے پر مجبور کرتا ہے ، بصورت دیگر انہیں ہٹا کر غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز تعینات کئے جاتے ہیں جس سے مزید خرابیاں اور سرکاری وسائل کا نقصان ہو رہا ہے ۔یونین رہنماؤں نے کہا کہ ورکرز کو نہ ماسک، نہ جوتے اور نہ ہی حفاظتی دستانے فراہم کئے جا رہے ہیں جس سے وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔