نشتر ہسپتال میں ایڈہاک تعیناتیوں پر بے ضابطگیوں کا انکشاف

نشتر ہسپتال میں ایڈہاک تعیناتیوں پر بے ضابطگیوں کا انکشاف

نشتر ہسپتال میں ایڈہاک تعیناتیوں پر بے ضابطگیوں کا انکشافحساس انتظامی عہدوں پر تقرریاں، مستقل ڈاکٹرز سے محرومی پر تحفظات

ملتان (لیڈی رپورٹر)نشتر ہسپتال میں انتظامی عہدوں پر ایڈہاک ڈاکٹرز کی تعیناتیوں سے متعلق سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے ، جبکہ ذرائع کے مطابق سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کی واضح ہدایات کے باوجود متعدد ایڈہاک ڈاکٹرز تاحال اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ذرائع کے مطابق گریڈ 17 میں ایڈہاک بنیادوں پر تعینات ایک ڈاکٹر کو سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کے 23 جنوری 2026 کے نوٹیفکیشن کے باوجود ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ڈی ایم ایس) لیبر روم کے عہدے سے نہیں ہٹایا گیا۔ مزید یہ کہ انہیں اسسٹنٹ وارڈن ڈاکٹرز ہاسٹل کا اضافی چارج بھی دے دیا گیا ہے ۔ وارڈن کے عہدے پر صرف مستقل سینئر ڈاکٹرز (بی پی ایس 17، 18 یا اس سے اوپر) کی تعیناتی کی اجازت ہے۔ 

تاہم مبینہ طور پر اس حکم کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لیبر روم جیسے حساس شعبے میں ماضی میں غیر متعلقہ افراد کی مداخلت کی شکایات بھی سامنے آ چکی ہیں۔ جس پر پہلے متعلقہ ڈاکٹر کو ہٹایا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں دوبارہ اسی شعبے میں تعینات کر دیا گیا۔مبینہ بے ضابطگیوں اور من پسند تعیناتیوں کے خلاف اعلیٰ حکام کو تحریری درخواست بھی ارسال کر دی گئی ہے ۔ طبی اور شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سیکرٹری ہیلتھ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے تمام ایڈہاک ڈاکٹرز کو انتظامی اور وارڈن عہدوں سے فوری ہٹایا جائے اور مستقل ڈاکٹرز کو ذمہ داریاں دی جائیں۔اس حوالے سے محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے نوٹیفکیشنز بھی سوشل میڈیا پر زیر گردش ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں