سکول فنڈز میں کروڑوں کی بے ضابطگی ، ڈپٹی ڈی ای اوز سے اختیارات واپس
15ہزار پرائمری ،مڈل سکولوں کو براہ راست مالی اختیارات منتقل، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز ذاتی فوائد حاصل کئے بغیر فنڈز اجراء میں پس پیش سے کام لیتے،سکول سربراہان
ملتان (خصوصی رپورٹر)سکولوں کے لئے جاری کئے جانے والے کروڑوں روپے کے فنڈز میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے انکشاف کے بعد پنجاب حکومت نے اہم انتظامی فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے 15 ہزار پرائمری اور مڈل سکولوں کو براہ راست مالی اختیارات منتقل کر دیئے ہیں۔ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے تحت ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (ڈپٹی ڈی ای اوز)سے سکولوں کے بجٹ اور مالی امور سے متعلق اختیارات واپس لے لئے گئے ہیں۔ اس سے قبل سکولوں کے بجٹ، فنڈز اور دیگر مالی معاملات ڈپٹی ڈی ای اوز کے ذریعے چلائے جاتے تھے ۔نئے نظام کے تحت اساتذہ کی تنخواہوں اور دیگر بجٹ کی رقوم اب ڈپٹی ڈی ای اوز کے بجائے براہ راست متعلقہ سکولوں کے اکاؤنٹس میں منتقل کی جائیں گی، جس سے مالی معاملات میں شفافیت اور خودمختاری کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں نان سیلری بجٹ خرچ کرنے کے لئے سکول سربراہان کو ڈپٹی ڈی ای اوز سے منظوری لینا پڑتی تھی۔ متعدد سکول سربراہان کی جانب سے شکایات سامنے آئی تھیں کہ بعض مواقع پر منظوری کے عمل میں غیر ضروری تاخیر کی جاتی ۔ذرائع کے مطابق یہ بھی الزامات سامنے آئے کہ بعض ڈپٹی ڈی ای اوز مبینہ طور پر مالی فوائد حاصل کئے بغیر فنڈز کے اجرا یا اخراجات کی منظوری نہیں دیتے تھے ، جس کے باعث سکولوں کے انتظامی اور تعلیمی امور متاثر ہوتے تھے ۔حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مالی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا مقصد فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنانا، انتظامی رکاوٹوں کو کم کرنا اور سکولوں کو مالی طور پر زیادہ بااختیار بنانا ہے۔