گندم کی امدادی قیمت پر کاشتکاروں کے تحفظات ،احتجاج
کھاد ،ڈیزل ،بجلی ، بیج ، ادویات زرعی مداخل کے نرخ آسمانوں پر پہنچ چکے ہیں
ملتان(جام بابر سے ) حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت 4500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کئے جانے پر کسانوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ قیمت پیداواری اخراجات کے مقابلے میں کم ہے ۔ کسانوں کے مطابق کھاد، ڈیزل، بجلی، بیج اور زرعی ادویات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے گندم کی کاشت کو مہنگا کر دیا ہے ، جبکہ فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے سے کاشت کاروں کے لئے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔کسانوں کا کہنا ہے کہ زرعی ٹیوب ویلوں کے بجلی بلوں میں اضافے اور ڈیزل کی مہنگائی نے آبپاشی کے اخراجات بڑھا دیئے ہیں۔ دوسری جانب کھاد اور معیاری بیج کی قیمتیں بھی کاشت کاروں کی قوتِ خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ فصل پر زرعی ادویات، زمین کی تیاری، بوائی، کٹائی اور مزدوری کے اخراجات الگ ہیں۔کاشت کاروں کے مطابق 4500 روپے فی 40 کلوگرام کی قیمت مقرر کرتے وقت زمینی حقائق اور پیداواری لاگت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے ۔ اگر کسان کو فصل کی مناسب قیمت نہ ملی تو رواں سیزن میں گندم کی کاشت متاثر ہونے اور کاشت کاروں کے مالی مسائل میں اضافے کا خدشہ ہے ۔کسانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کی امدادی قیمت پر نظرثانی کی جائے ، کھاد اور بیج کی قیمتوں میں کمی کے لئے اقدامات کئے جائیں، زرعی بجلی کے نرخوں میں ریلیف دیا جائے ۔اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے لئے مؤثر پالیسی بنائی جائے تاکہ کاشت کاروں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ مل سکے اور ملک میں گندم کی پیداوار برقرار رکھی جا سکے ۔کسانوں کا مزید کہنا ہے کہ گندم کی کم سے کم امدادی قیمت 5 ہزار روپے فی من مقرر کی جائے تاکہ ان کی معاشی مشکلات کم ہو سکیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments