یونیورسٹی آف سرگودھا میں رمضان کی مناسبت سے تقریب

یونیورسٹی آف سرگودھا میں رمضان کی مناسبت سے تقریب

یونیورسٹی آف سرگودھا میں رمضان کی مناسبت سے تقریب رمضان دراصل اپنی جسمانی اور باطنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو دور کرنے کا مہینہ

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) یونیورسٹی آف سرگودھا میں وزیر آغا لائبریری کے زیرِ اہتمام ماہِ مبارک رمضان کی مناسبت سے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد رمضان المبارک کے روحانی، اخلاقی اور معاشرتی پیغام کو اجاگر کرنا تھا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس تھے ، جبکہ مہمانِ اعزاز پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود سرور اعوان اور مہمانِ مقرر چیئرپرسن شعبہ علومِ اسلامیہ پروفیسر ڈاکٹر فیروز الدین شاہ تھے ۔ اس موقع پر ڈائریکٹر اکڈیمکس وچیف لائبریرین ڈاکٹر عظمیٰ شاہ زادی، مختلف فیکلٹیز کے ڈینز، ڈائریکٹرز، اساتذہ، افسران اور طلبہ وطالبات کی بڑی تعداد موجود تھی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس نے حاضرین کو ماہِ رمضان کی مبارک باد پیش کی اور کہا کہ رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے ، جو انسان کو اپنی ذات کا محاسبہ کرنے اور روحانی طور پر مضبوط ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں رمضان کے فلسفے کو سمجھنے اور اس کے حقیقی پیغام کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے ۔ یہ مہینہ محض عبادات کی ادائیگی تک محدود نہیں بلکہ کردار سازی، ضبطِ نفس اور معاشرتی ذمہ داریوں کے احساس کو بیدار کرنے کا ذریعہ بھی ہے ۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں ملکِ خداداد پاکستان میں آزادی کے ساتھ مذہبی تعلیمات پر عمل کرنے کا موقع میسر ہے ، لہٰذا ہمیں اس نعمت کی قدر کرتے ہوئے اپنے اعمال کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی بامقصد تقریبات سال بھر جاری رہنی چاہییں تاکہ طلبہ وطالبات کی اخلاقی وفکری تربیت کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہے ۔

اپنے کلیدی خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر فیروز الدین شاہ نے کہا کہ ماہِ رمضان دراصل اپنی جسمانی اور باطنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو دور کرنے کا مہینہ ہے ۔ قرآنِ کریم کے مطابق مسلمانوں پر روزے اس لیے فرض کیے گئے تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جسم کا روزہ تو کھانے پینے سے رک جانے کا نام ہے ، لیکن اصل روحانی مقصد نفس کا روزہ ہے ، یعنی انسان اپنے تمام حواس اور خواہشات کو ان امور سے روک لے جن سے اﷲ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ۔ اگر انسان بداعمالیوں سے باز نہیں آتا تو محض بھوکا پیاسا رہنا روزے کی روح کو پورا نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ روزہ انسان کے اندر موجود تین بنیادی قوتوں-عقل، غضب اور شہوت-میں توازن پیدا کرنے کی تربیت دیتا ہے ۔ اگر عقل کی قوت اعتدال میں ہو تو حکمت، غضب کی قوت اعتدال میں ہو تو شجاعت اور شہوت کی قوت اعتدال میں ہو تو عفت کہلاتی ہے ، لیکن ان تینوں قوتوں میں بے اعتدالی انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتی ہے ۔ اعتدال وتوازن ہی دراصل حکمت کی بنیاد ہے اور روزہ اسی حکمت کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے ۔

انہوں نے نوجوان نسل کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ جلد بازی اور اشتعال شیطانی اوصاف ہیں، جبکہ تحمل، برداشت اور ضبطِ نفس مومن کی پہچان ہیں۔ ہمیں دوسروں کو تیکھے جملوں سے زخمی کرنے کے بجائے محبت، مسکراہٹ اور باہمی احترام کو فروغ دینا چاہیے ۔پروفیسر ڈاکٹر فیروز الدین شاہ نے مزید کہا کہ روزہ تمام عبادات کا مجموعہ ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں