لکڑی چوری ،مقدمہ درج ہونے پر افسر دو گروپوں میں تقسیم
لکڑی چوری ،مقدمہ درج ہونے پر افسر دو گروپوں میں تقسیمچوری کا سارا ملبہ فیلڈ عملے پر ڈا لنے کی کو شش ، 3 دن میں درخت غائب ہو گئے
سرگودھا (نعیم فیصل سے )سرگودھا میں محکمہ جنگلات کے زیرِ انتظام ایک کروڑ روپے سے زائد کی سرکاری لکڑی کی چوری کے واقعے کے بعد محکمے میں دو گروہ کھڑے ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک طرف کچھ افسران مقدمہ خارج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب مقدمہ درج کروانے والے افسران اور ملازمین کو نوکری سے برخاست کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ چوری کا سارا ملبہ فیلڈ عملے پر ڈال کر کیس اینٹی کرپشن کو بھجوایا جا سکے ۔دیووال مائنر پر ترقیاتی کام کے لیے لاٹ نمبر 15/25-26 اور 16/25-26 کا ٹھیکہ شاہ محمد نامی ٹھیکیدار نے حاصل کیا۔ تاہم ورک آرڈر تحریری طور پر جاری ہونے سے قبل ہی ڈپٹی کنزرویٹر سرگودھا فیاض احمد بلوچ نے متعلقہ فاریسٹ رینجر کو زبانی طور پر کٹائی کی اجازت دی اور باور کرایا کہ اگلے روز ورک آرڈر پہنچ جائے گا، لیکن ایسا نہ ہوا۔ مبینہ سازش کے نتیجے میں طے شدہ لاٹ کے علاوہ بھی ملحقہ سرکاری زمین سے تناور درخت چوری کیے گئے ۔
فاریسٹ رینجر زمحسن حسنین اور نوید اختر نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا تو اس امر کی تصدیق ہوئی کہ ٹھیکیدار نے ٹھیکے کی شرائط کے برعکس اضافی سرکاری درخت کٹائی کے لیے ڈپٹی کنزرویٹر سے مبینہ سازش کی۔ تین دن کے مختصر عرصے میں مسروقہ درخت غائب ہو گئے ۔اس واقعے پر فاریسٹ پروٹیکشن آفیسر شیر محمد رانجھا نے حکام بالا کو اطلاع دی اور تھانہ بھلوال سٹی میں مقدمہ درج کروایا۔ ایف آئی آر میں ٹھیکیدار اور ڈپٹی کنزرویٹر سرگودھا کو ذمہ دار قرار دیا گیا، جبکہ ٹھیکیدار کے کارندے محمد اکرم، تصور، عبدالرحمان، مشتاق اور چھ نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا۔ ابتدائی طور پر لکڑی کی چوری کا تخمینہ 90 لاکھ 54 ہزار 400 روپے لگایا گیا ہے ، اور مزید وسیع پیمانے پر سرکاری لکڑی کے غائب ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق یہ ایک وقت میں سرکاری لکڑی کی سب سے بڑی چوری قرار دی جا رہی ہے ، جس پر سیکرٹری جنگلات پنجاب نے فوری تحقیقات کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ ڈپٹی کنزرویٹر فیاض احمد مقدمہ کے اندراج کو غیر قانونی قرار دے کر فاریسٹ پروٹیکشن آفیسر شیر محمد کو نوکری سے برخاست کرنے کی تیاری کر رہے ہیں اور چوری کا ملبہ ٹھیکیدار و فیلڈ عملے پر ڈال کر کیس اینٹی کرپشن میں بھیجنے جا رہے ہیں۔اس صورتحال کے بعد محکمہ جنگلات سرگودھا دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے ، اور اب تک مسروقہ لکڑی کی برآمدگی اور ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔