ترقیاتی منصوبوں کی سست روی ڈیڑھ ارب روپے کے فنڈز لیپس ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا

ترقیاتی منصوبوں کی سست روی ڈیڑھ ارب روپے کے فنڈز لیپس ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا

پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، لوکل گورنمنٹ، بلڈنگز اور ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کے تحت ایسی متعدد سکیمیں بھی شامل ہیں جن کا تاحال باقاعدہ آغاز نہیں ہو سکا ،فنڈز لیپس ہونے سے بچانے کی تیاریاں شروع

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) فنڈز کے اجراء و استعمال کا شیڈول متاثر ہونے کے باعث مختلف محکموں کے ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار انتہائی سست ہو گئی ہے ، لگ بھگ ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کے فنڈز لیپس ہونے کا خدشہ ہے ۔ ساتھ ہی کل سے شروع ہونے والی مالی سال کی اختتامی سہ ماہی کے پیش نظر ایڈوانس بلنگ کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔سالانہ ترقیاتی پروگرام، ایس اے پی اور وزیر اعظم و وزیر اعلیٰ کے خصوصی پروگراموں کے تحت جاری ترقیاتی کاموں پر عملدرآمد اور فنڈز کے استعمال کی صورتحال کو بجٹ حکام کی جانب سے غیر تسلی بخش قرار دیا جا چکا ہے ۔ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، لوکل گورنمنٹ، بلڈنگز اور ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کے تحت ایسی متعدد سکیمیں بھی شامل ہیں جن کا تاحال باقاعدہ آغاز نہیں ہو سکا۔سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور بھکر میں شروع ہونے والی سکیموں پر فزیکل اور فنانشل پراگرس کی اوسط شرح بھی باعث تشویش ہے ۔ لوکل گورنمنٹ سمیت بعض محکموں کو گزشتہ سال لیپس ہونے والے کروڑوں روپے کے فنڈز تاحال دوبارہ جاری نہیں کیے جا سکے ، جبکہ متعلقہ اداروں کو جاری شدہ فنڈز 24 جون سے پہلے خرچ کرنے کا ٹاسک بھی دیا گیا ہے ۔پہلے سے ہونے والی تاخیر اور موجودہ صورتحال میں کام کی رفتار سست ہونے کے باعث سکیموں کے ایڈوانس بل نکلوانے اور فنڈز لیپس ہونے سے بچانے کی تیاریاں شروع ہیں، مبینہ بے ضابطگیوں اور اہم امور کو نظر انداز کیے جانے کا بھی اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں