"RBC" (space) message & send to 7575

اب چیخنا کس بات کا

جب کوئی قانون نہ رہے اور نہ ہی انسانی زندگیوں کا کوئی احساس اور بغیر کسی معقول وجہ کے ایک بڑی طاقت کسی ملک کے خلاف دورِ حاضر کے مہلک ترین ہتھیاروں کا استعمال روا رکھے تو پھر دوسری جانب سے بھی استعمال کیا گیا ہر حربہ جائز تصور ہوگا۔ ایران کی اعلیٰ قیادت‘ عسکری عہدیداروں اور سائنسدانوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ اسرائیل اور امریکہ اب تک کئی ہزار بم اس کے شہروں پر گرا چکے ہیں۔ انسانی زندگیوں کو جس بربریت کے ساتھ تباہ کیا گیا ہے اس سے صرف غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی یاد آتی ہے۔ اس جنگ کے علاوہ انہوں نے لبنان کے خلاف بھی ایک بہت بڑا محاذ کھول رکھا ہے۔ غزہ کی طرح جنوبی لبنان میں بھی شہری آبادیوں کو سب کچھ چھوڑ کر نقل مکانی کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ اس وقت ایران اور لبنان میں ایک بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے چکا ہے اور دنیا کے طاقتور ممالک سوائے لفظی جمع خرچ کے کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایرانی قیادت نے اس جنگ کے امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک عرصہ سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ اس کی حکمت عملی کئی لحاظ سے ہمیں تو کامیاب نظر آ رہی ہے۔ رہبرِ ریاست اور دیگر کلیدی رہنمائوں کی شہادت کے باوجود نہ تو ریاست مفلوج ہوئی اور نہ ہی کہیں کوئی سیاسی خلا پیدا ہوا ہے۔ تمام تر مشکلات پہاڑ سے بڑی ہونے کے باوجود‘ ریاستی ادارے ہر سطح پر مستعد نظر آتے ہیں۔ سب سے بڑی کامیابی ایک ماہ کی جنگ کے بعد ایرانی قوم کی اپنے سہارے تن تنہا امریکہ اور اس کی علاقائی طفیلی ریاست اسرائیل کا مقابلہ جاری رکھنے کی صلاحیت ہے۔ دشمنوں کے برملا اعلانات اور پھیلے ہوئے جاسوسی جال کے ہوتے ہوئے بھی اندر سے کوئی بغاوت برپا نہیں کی جا سکی۔ اس کے برعکس اس جنگ نے ایرانی قوم کو مزید متحد اور توانا کر دیا ہے۔ ملک کا نظم اُسی طرح برقرار ہے۔ بات اب ایک طرزِ نظام اور نظریے کی نہیں رہی‘ ایران کی سالمیت‘ استحکام اور سلامتی کی ہے جس پر تمام ایرانی قوم متفق ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی زیادہ تر سیاسی سرمایہ کاری ایران کے اندر رجیم مخالف قوتوں کو اکٹھا کر کے انہیں بغاوت پر اکسانے پر رہی ہے۔ یاد ہے کہ امریکی صدر نے ایک ماہ قبل کیا بات دنیا کے سامنے کہی تھی کہ جب ہم اپنا کام مکمل کر لیں گے تو ایران کے لوگو! آپ حکومت پر قبضہ کر کے اپنی آزادی حاصل کر لینا۔ سوچنے کی بات ہے کہ جب ان کے گھروں‘ تجارتی مراکز اور معاشی اداروں پر بم گر رہ ہوں تو وہ پھرآ زادی کا حقیقی مفہوم تو غیر ملکی جارحیت کے خلاف قومی ہم آہنگی اور قومیت پرستی کے جذبات بنتے ہیں جو ہم ملک کے کونے کونے میں دیکھ رہے ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ دستور یہ رہا ہے کہ جب کوئی بیرونی طاقت حملہ آورہوتی ہے تو ایسے حالات میں ریاست مخالف قوتیں کسی رعایت کی مستحق نہیں ہوتیں۔ امریکہ کا اپنا ریکارڈ اس بارے میں بہت بھیانک ہے۔ پرل ہاربر پر جاپانی حملے کے بعد دوسری عالمی جنگ میں سب جاپانیوں کو جو امریکی شہری تھے‘ ایک ایک کر کے گرفتار کیا اور بیوی بچوں سمیت انہیں کیمپوں میں کئی کئی سالوں کے لیے بند کر دیا گیا۔ ایران نے ریاست مخالف طاقتوں کو ابھی تک نشانہ نہیں بنایا مگر کوئی بھی جارح قوت کے ایما پر جنگ کے دوران فتنہ وفساد پھیلانے کی کوشش کرے تو سخت سے سخت کارروائی مقتدر ریاستیں جائز خیال کرتی ہیں۔
جس طرح افغانستان میں طالبان کی حکومت کو گرانے کے لیے امریکی جاسوسی اداروں نے شمالی اتحاد کے مختلف لسانی گروہوں کو استعمال کیا تھا اس طرح وہ ایران میں کردوں کو آلہ کار بنانا چاہتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے ایک عرصہ سے ان جتھوں کو منظم اور مسلح کر رکھا ہے۔ کردوں نے امریکی اور اسرائیلی اعانت سے اپنا علاقہ عراق کے اندر عملی طور پر علیحدہ کر رکھا ہے جہاں سے ایران اور ترکیہ کے خلاف کارروائیاں باہر کے اشارے ملتے ہی شروع کر دیتے ہیں۔ یہ منصوبہ بھی ہمیں تو ناکام نظر آتا ہے۔ امریکہ کی رجیم کے خلاف ایرانیوں کو کھڑا کرنے کی خواہش الٹا انہیں ایرانی ریاست کی سالمیت کے لیے پہلے سے زیادہ یکجا کر چکی ہے۔ کردوں کی ایسی کوئی بھی حرکت انہیں ایرانیوں کے غضب سے دوچار کرے گی۔ امریکہ اور اسرائیل ان کی حمایت میں سوائے اسلحہ اور سرمایہ فراہم کرنے کے کچھ نہیں کرسکیں گے۔ یہ منصوبہ ابھی تک کھٹائی کا شکار ہے۔ اس کی کامیابی کے امکانات ایرانیوں کے صبر اور ان کی استقامت کے سامنے معدوم ہیں۔ اب تک کردوں اور ا ن کے سرپرستوں کو اس حقیقت کا احساس ہو چکا ہے۔ ایران کی کامیابی نہ صرف امریکی اور اسرائیلی منصوبہ بندی کو ناکام کرنے کے حوالے سے ہے بلکہ جوابی کارروائی اور بڑی تباہی کے باوجود میدان جنگ میں ڈٹے رہنے سے عبارت ہے۔ امریکی توقعات کے برعکس ابھی تک ایرانی سپاہ اسرائیلی اور علاقے میں پھیلے امریکی اڈوں کو کامیابی سے نشانہ بنا رہی ہے۔ اسرائیلی حفاظتی حصار کا طلسم ایرانیوں نے کئی مرتبہ توڑ ڈالا ہے اور امریکی خود اعتمادی بھی برے طریقے سے متاثر ہوئی ہے۔ ان کے سینکڑوں ارب ڈالر کے دفاعی نظاموں میں دراڑیں اور اب کھلے شگاف واضح ہو رہے ہیں۔ ہر آنے والے دن کے ساتھ ایرانیوں کے حملے ان کے دشمنوں کی تباہی کا موجب بن رہے ہیں۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس کی جنگ شروع کرتے وقت امریکہ اور اس کے اتحادی کو ہرگز توقع نہ تھی۔
ایران کی کامیابی کے دو اور نہایت اہم پہلو ہیں۔ ایک تو انہوں نے جواباً کچھ عرب ممالک کی تیل اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنا کر ایک عالمی معاشی بحران پیدا کر دیا ہے۔ شروع ہی سے ایران کی پالیسی یہ رہی ہے کہ اگر وہ محفوظ نہیں‘ اُن کے تیل اور گیس کے ذخائر کو تباہ کیا جاتا ہے تو خلیج فارس کے دوسرے کنارے پر واقع ایسے وسائل کو باہر کی دنیا استعمال میں نہیں لا سکے گی۔ ایران نے دنیا کے تمام صارفین کو‘ سب ملکوں کے رہنمائوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی کھلی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر قسم کا ہتھیار جائز ہے۔ جب عالمی نظام کی قانونی اساس ہی ایک سپر پاور نے خاک میں ملا دی ہے تو پھر کوئی ایران سے کیوں توقع رکھے کہ وہ ہزار بموں کے ملبے پر کھڑا ہو کر عالمی قانون کے احترام میں اپنی قومی سلامتی کو دائو پر لگائے گا۔ ایران کے ہاتھ میں سب ہتھیاروں سے بڑھ کر آبنائے ہرمز پر جغرافیائی گرفت ہے۔ ابھی تک تو انہوں نے تیل برداری اور عالمی تجارت کے لیے اسے غیر محفوظ بنا کر سب علاقائی ممالک کو ایک اہم پیغام دیا ہے۔ اگر وہ امریکی جارحیت میں کسی بھی صورت سہولت کاری کا موجب بنتے ہیں تو ان کی معیشت بھی ایران کے ساتھ ڈوبے گی۔ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی امریکی پالیسی بڑے بڑے بحری بیڑے علاقائی سمندر میں اکٹھے کرنے اور دھمکیوں کے باوجود ناکام ہو چکی ہے۔
امریکی صدر دوسروں کو کچھ ہمت دکھانے کا مشورہ دے کربات اب تیل برآمد کرنے والے ممالک پر چھوڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایران نے جنگ کے تناظر میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اسے بند کر رکھا ہے۔ جنہیں اس بارے میں بے چینی ہے انہیں چاہیے کہ اسرائیلی اور امریکی جارحیت کا خاتمہ کرائیں‘ ورنہ چیخنا مناسب نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں