1لاکھ سے زائد مریض معدے کے امراض کا شکار ہوکرہسپتال پہنچے
نجی ہسپتالوں میں زیر علاج مریض ریکارڈ میں شامل نہیں جن کی تعداد بھی اتنی ہی ہو سکتی ڈپٹی کمشنر کا سٹی ایریازکا دورہ، ستھرا پنجاب کے تحت صفائی سرگرمیوں کا جائزہ لیا
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سرگودھا میں معدے کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی شرح پر ماہر ڈاکٹرز نے ملاوٹ مافیا کو ذمہ دار قرار دے کر خصوصی کریک ڈاؤن کی ضرورت پر زور دیا ہے ،ڈسٹرکٹ ہیلتھ انفارمیشن سسٹم کے تحت کی رواں سال اب تک مانیٹرنگ میں ڈی ایچ کیو، ٹی ایچ کیو ز ،رورل ہیلتھ سنٹرز اور مریم نواز کلینکس سے حاصل ہونیوالے اعداد وشمار کے مطابق 1لاکھ سے زائد مریض معدے کے مختلف امراض کا شکار ہوکر ان ہسپتالوں سے رجوع کر چکے ہیں،اور اکثریت کی حالت سے معدے کے سرطان کا بھی خدشہ ہے۔
اس سلسلہ میں مقامی طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہائی مضر صحت پانی اور مصالحہ جات سمیت کھانے پینے کی اشیاء یہاں تک کے پھلوں میں بھی خطرناک کیمیکلز کی ملاوٹ سے اشیاء کی حقیقی تاثیر مکمل طور پر ختم کر دی جاتی ہے جس کے باعث معدہ کے امراض انتہائی تیزی سے پھیل رہے ہیں،جبکہ صدر پی ایم اے ڈاکٹر سکندر حیات وڑائچ کا کہنا ہے کہ کھانے پینے کی معیاری اشیاء کی دستیابی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ متذکرہ صورتحال کو کنٹرول کرنا ناگزیر ہو چکا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر سرگودھا حسین احمد رضا چوہدری نے پیر کی صبح مختلف علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ انہوں نے سٹی ایریاز کی یونین کونسلز 15، 16 اور 17 کا دورہ کیا اور ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت جاری صفائی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ ڈپٹی کمشنر نے مقامِ حیات میں سیوریج پراجیکٹ کا معائنہ کیا اور واسا حکام کو ہدایت کی کہ نکاسی آب کے منصوبے کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے ۔