"RS" (space) message & send to 7575

واشنگٹن کی داخلی مزاحمت

مغربی ممالک کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں جمہوری اقدار کی بنیاد ہی عوامی احتجاج اور کڑی نگرانی پر رکھی گئی ہے۔ مغرب میں ریاست اور فرد کے درمیان ایک غیر اعلانیہ معاہدہ موجود ہے کہ حکومت کی پالیسیاں جب تک عوامی فلاح سے جڑی ہیں‘ اسے مینڈیٹ حاصل ہے لیکن جیسے ہی انسانی حقوق کی پامالی یا معاشی بحران جنم لیتا ہے‘ عوام سڑکوں پر آ جاتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ کے بڑے شہروں میں اٹھنے والی احتجاج کی لہر محض ایک وقتی ابال نہیں بلکہ اس گہرے اضطراب کا اظہار ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف امریکی مداخلت اور اس سے پیدا ہونے والے عالمی معاشی اثرات کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس وقت اپنے دورِ اقتدار کی بڑی اور ملک گیر احتجاجی تحریک کا سامنا ہے۔ واشنگٹن‘ نیویارک اور لاس اینجلس سمیت امریکہ کی 50 ریاستوں میں تین ہزار سے زائد مقامات پر ''نو کنگز ریلیاں‘‘ نکالی گئیں۔ ان مظاہروں کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں مظاہرین نے محض علامتی احتجاج پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ملٹری بیس کی جانب مارچ کرتے ہوئے انتظامیہ کے اہم ارکان کی گرفتاری کا مطالبہ تک کر دیا۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ امریکی عوام اب غیرملکی جنگوں میں اپنے ٹیکس کے ڈالرز کے ضیاع پر مزید خاموش رہنے کو تیار نہیں ہیں۔ مغربی ممالک میں احتجاج پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ 1960ء کی دہائی میں ویتنام جنگ کے خلاف ہونے والے مظاہروں نے بالآخر امریکی پالیسی سازوں کو اپنی حکمت عملی بدلنے پر مجبور کیا تھا۔ اسی طرح 2003ء میں عراق جنگ کے خلاف لندن اور واشنگٹن میں ہونے والے ملین مارچ نے عالمی سطح پر اس جنگ کے اخلاقی جواز کو ختم کر دیا تھا۔ موجودہ احتجاج بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے جہاں عوام یہ سمجھتے ہیں کہ حکومتیں حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے بیرونی محاذ کھول رہی ہیں۔ جب عوام بنیادی مسائل کو لے کر سڑکوں پر نکلتے ہیں تو دنیا کی طاقتور ترین حکومتوں کے لیے بھی اسے نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت کا جائزہ لیا جائے تو معروضی طور پر کوئی ایسا بڑا کارنامہ نظر نہیں آتا جسے وہ عوامی عدالت میں فخر سے پیش کر سکیں۔ البتہ دوسرے دور کیلئے ان کی الیکشن مہم کا سب سے پُرکشش نعرہ ''جنگوں کا خاتمہ‘‘ اور ''امریکہ فرسٹ‘‘ تھا۔ اسی وعدے نے جنگ زدہ خاندانوں اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات میں انہیں مقبولیت بخشی۔ چند ماہ قبل تک صدر ٹرمپ خود بھی جنگوں سے گریز کی پالیسی پر کاربند دکھائی دیتے تھے‘ یہاں تک کہ انہوں نے امن کا نوبیل انعام نہ ملنے پر ناراضی کا اظہار بھی کیا مگر حالیہ واقعات نے ثابت کیا کہ ان کی یہ پالیسی صرف بیان بازی تک محدود تھی۔ وہ نہ صرف اسرائیل کی جنگ میں فریق بنے بلکہ اب صورتحال یہ ہے کہ اصل معرکہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہوتا دکھائی دے رہا ہے‘ جس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ امریکی عوام کے اس شدید ردعمل کے پیچھے معاشی حقائق کار فرما ہیں۔ امریکہ کا عام شہری یہ سمجھتا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم اور آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والا ایندھن کا بحران براہِ راست ان کی جیب پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ افراطِ زر اور مہنگائی کی موجودہ لہر سے امریکی شہری بھی اتنے ہی پریشان ہیں جتنے ترقی پذیر ممالک کے شہری پریشان ہیں۔ امریکی شہری یہ بھی سمجھتے ہیں کہ دنیا کو مشکلات میں دھکیلنے اور ایندھن بحران سے دو چار کرنے میں امریکی انتظامیہ کا کردار ہے‘ امریکی عوام میں یہ احساس بھی جنم لے رہا ہے کہ امریکہ اس جنگ میں تنہا رہ گیا ہے۔ ماضی کے اتحادی جو کبھی ہر محاذ پر واشنگٹن کے پیچھے کھڑے ہوتے تھے‘ اب ایران کے خلاف جنگ میں ساتھ دینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اسرائیل کی غیرمشروط حمایت نے امریکہ کو سفارتی تنہائی کا شکار کر دیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈے جو کبھی ناقابلِ تسخیر سمجھے جاتے تھے‘ اب براہِ راست ایرانی میزائلوں کے نشانے پر ہیں۔
مغربی ممالک میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کا اہم پہلو اس کی ٹائمنگ ہے۔ صدر ٹرمپ ایسے وقت میں ایران کے خلاف زمینی فوجیں اتارنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جب ان کا اپنا گھر یعنی امریکہ احتجاج کی آگ میں جل رہا ہے۔ سیاسیات کا یہ بنیادی اصول ہے کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک بیرونی محاذ پر فتح حاصل نہیں کر سکتا جب تک اسے داخلی محاذ پر عوامی حمایت حاصل نہ ہو۔ صدر ٹرمپ ایران میں ''رجیم چینج‘‘ کے لیے وہاں کے عوام کے سڑکوں پر آنے کا انتظار کر رہے تھے تاکہ اندرونی خلفشار کا فائدہ اٹھا کر تہران پر قابض ہو سکیں‘ مگر اس کے برعکس اب واشنگٹن کی سڑکیں ٹرمپ کے خلاف نعروں سے گونج رہی ہیں۔ یہ اخلاقی اور سیاسی طور پر صدر ٹرمپ کی بہت بڑی شکست ہے۔ اگر احتجاج کا یہ سلسلہ اسی طرح طول پکڑتا رہا تو اس سال نومبرمیں ہونے والے مڈٹرم الیکشن میں ریپبلکن پارٹی کے لیے شدید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ موجودہ احتجاجی لہر اور معاشی دباؤ کی وجہ سے یہ الیکشن صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر ایک عوامی ریفرنڈم ثابت ہوں گے۔ اگر ڈیموکریٹس ایوان میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو صدر ٹرمپ کے لیے اپنی مرضی کی قانون سازی کرنا مشکل ہو جائے گا۔ مغربی جمہوریتوں میں عوامی غصہ بیلٹ باکس کے ذریعے اپنا راستہ بناتا ہے۔ آج کا امریکی شہری سوال کر رہا ہے کہ جب ملک کے اندر بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو رہا ہے تو اربوں ڈالرز ایران کے خلاف ایک ایسی جنگ میں کیوں جھونکے جا رہے ہیں جس کا کوئی واضح انجام نظر نہیں آتا۔ آبنائے ہرمز میں تیل کی سپلائی لائن کا متاثر ہونا عالمی معیشت کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے جس کا ذمہ دار پوری دنیا امریکہ کو ٹھہرا رہی ہے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو مغرب کا سیاسی استحکام ہمیشہ سے ریاست اور شہری کے درمیان اس خاموش عمرانی معاہدے کا مرہونِ منت رہا ہے جہاں عوامی احتجاج مقتدرہ کی مہم جوئی پر سٹرٹیجک چیک ہے۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہارڈ پاور کے بل بوتے پر عالمی نقشے پر لکیریں تو کھینچی جا سکتی ہیں لیکن اپنے ہی سماج کے بطن میں کسی غیرمقبول جنگ کا اخلاقی جواز اور عوامی قبولیت پیدا کرنا ناممکن ہے۔ موجودہ بحران میں وائٹ ہاؤس کے لیے اصل خطرہ ایران کے بیلسٹک میزائل نہیں بلکہ وہ 50 ریاستیں ہیں جہاں ریاست پر عوامی اعتماد کی بنیادیں کھوکھلی ہو رہی ہیں۔ یہ احتجاجی لہر اس عالمگیر حقیقت کا بیانیہ ہے کہ اکیسویں صدی کا باشعور شہری اب ''قومی سلامتی‘‘ کے مبہم استعارے پر اپنے معاشی مستقبل اور جمہوری اقدار کو بھینٹ چڑھانے کیلئے تیار نہیں ہے۔ اگر امریکی مقتدرہ نے عوامی رائے کو سمجھنے میں مزید تامل کیا تو یہ محض انتظامی پالیسی کی ناکامی نہیں ہو گی بلکہ اس لبرل ڈیموکریسی کی نظریاتی شکست کہلائے گی جس کی علمبرداری کا دعویٰ مغرب صدیوں سے کرتا آیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں