گندم کی کٹائی کے ،تھریشر کی طلب میں غیر معمولی اضافہ
گندم کی کٹائی کے ،تھریشر کی طلب میں غیر معمولی اضافہ توانائی بحران کے باعث کاشتکاروں اور تھریشر بنانے والی فیکٹریوں کو مشکلات
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سرگودھا میں گندم کی کٹائی کے سیزن کے پیش نظر تھریشر کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ، تاہم توانائی بحران اور حکومتی پابندیوں کے باعث کاشتکاروں اور تھریشر بنانے والی فیکٹریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ، جس سے گندم کی بروقت کٹائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔سرگودھا میں دن کے اوقات میں بجلی کیا غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کے باعث فیکٹریوں کی پیداواری صلاحیت بری طرح متاثر ہو رہی ہے ، جبکہ حکومت کی جانب سے کاروباری مراکز کو رات 8 بجے بند کرنے کے احکامات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے ۔ فیکٹری مالکان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی زیادہ تر پیداوار رات کے اوقات میں مکمل کرتے تھے ، مگر موجودہ پابندیوں کے باعث آرڈرز کی بروقت تکمیل تقریباً ناممکن ہو چکی ہے ،تھریشر تیاری کے نئے آرڈرز کی بھرمار ہے ، مگر بجلی کی عدم دستیابی اور رات کے وقت کام پر پابندی نے ان کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے ۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو تھریشر کی بروقت فراہمی ممکن نہیں رہے گی، جس کے باعث گندم کی کٹائی کا عمل بری طرح متاثر ہوگا،فیکٹری مالکان اور کاشتکاروں نے حکومتِ پنجاب کے ساتھ ساتھ ڈپٹی کمشنر سرگودھا سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ تھریشر بنانے والی فیکٹریوں کو خصوصی اجازت دی جائے کہ وہ رات کے اوقات میں بھی کام جاری رکھ سکیں، تاکہ زیر التواء آرڈرز کو بروقت مکمل کیا جا سکے اور کاشتکاروں کو بروقت سہولت فراہم ہو سکے ۔