میدہ اور آٹا کی قیمتوں میں مزید اضافہ
حالیہ خریداری کے دوران اس مرتبہ سٹہ بازوں نے بھی وسیع پیمانے پر گندم خرید کر رکھ لی ،آنیوالے دنوں میں مصنوعی قلت پیدا کر کے ناجائز منافع خوری کی جائیگی بیکری اور تندور مالکان بلبلا اٹھے ، اس وقت اول درجے کے میدہ کی پچاس کلو کی بوری کی قیمت65سواور دس کلو آٹے کی کا تھیلا 1120روپے سے تجاوز کر چکا
سرگودھا(نعیم فیصل سے ) چیک اینڈ بیلنس کا فقدان، سٹہ بازوں نے چینی کی طرح گندم خریداری مہم میں جگہ بنالی جبکہ فلور ملز مالکان کی من مانیاں جاری ، میدہ اور پرائیویٹ گندم کے آٹا کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا گیا،پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ہونیوالی حالیہ خریداری کے دوران اس مرتبہ سٹہ بازوں نے بھی وسیع پیمانے پر گندم خرید کر رکھ لی ہے تاکہ آنیوالے دنوں میں مصنوعی قلت پیدا کر کے ناجائز منافع خوری کی جا سکے جبکہ فلور ملز مالکان کی جانب سے مناپلی کر کے مختلف جواز تراش کر میدہ اور پرائیویٹ گندم کے آٹا کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے گزشتہ روز بھی راتوں رات معدہ کی پچاس کلو کی بوری کی قیمت میں 3 سو روپے اور 10کلو آٹے کے تھیلا کی قیمت میں 40 روپے اضافہ کر دیا گیا جس کے باعث صارفین بالخصوص بیکری اور تندور مالکان بلبلا اٹھے ، اس وقت اول درجے کے میدہ کی پچاس کلو کی بوری کی قیمت65سو روپے اور دس کلو آٹے کی کا تھیلا 1120روپے سے تجاوز کر چکی ہے باعث تشویش امر یہ ہے کہ حالیہ 14دنوں کے دوران آٹے کے دس کلو تھیلے کی قیمت میں مجموعی طور پر 120روپے اور میدہ کی پچاس کلو کی بوری میں 600روپے تک اضافہ ہوا جبکہ انتظامیہ اور متعلقہ شعبے خاموش تماشائی کا کردار ادا رہے ہیں، تمام معاملات اس وقت ایک خاص مافیا چلانے میں مصروف ہے ، اور آئندہ بھی آٹے اور میدے کی قیمتوں میں مزید اضافہ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ،دوسری جانب صارفین، بیکری و تندور مالکان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ کے دوران بھی قیمتیں بڑھائی گئیں اور اب پچاس کلو کی بوری کی قیمت 65سو روپے تک جا پہنچی ۔