مادہ جانوروں کے غیر قانونی ذبیحہ کی روک تھام میں غفلت، نسل میں کمی کا خدشہ

مادہ جانوروں کے غیر قانونی ذبیحہ کی روک تھام میں غفلت، نسل میں کمی کا خدشہ

محکمہ لائیو اسٹاک کے بعض افسران کی مبینہ عدم دلچسپی اور مؤثر نگرانی کے فقدان سے مسائل بڑھ گئے ، بچھڑا پالنے اور انڈوں و پولٹری کی پیداوار بڑھانے سے متعلق منصوبے کئی علاقوں میں سست روی کا شکار

سرگودھا (سٹاف رپورٹر)محکمہ لائیو اسٹاک کے بعض افسران کی مبینہ عدم دلچسپی اور مؤثر نگرانی کے فقدان کے باعث حکومت کی جانب سے مادہ جانوروں کے ذبیحہ پر عائد پابندی پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے ، جس سے دودھ اور گوشت فراہم کرنے والے جانوروں کی نسل میں مسلسل کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔حکومت نے گائے ، بھینس، بکری، بھیڑ اور اونٹنی جیسے مادہ جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی عائد کر رکھی ہے تاکہ دودھ کی پیداوار میں اضافہ ہو اور مستقبل میں حلال گوشت کی دستیابی برقرار رہے ۔محکمہ لائیو اسٹاک کو خصوصی نگرانی اور کارروائی کی ہدایات بھی جاری کی گئی تھیں۔ذرائع کا کہنا ہے متعدد علاقوں میں قصاب اور مویشیوں کے کاروبار سے وابستہ افراد مبینہ طور پر مادہ جانور خرید کر ذبح کر رہے ہیں، اس صورتحال کے باعث افزائش نسل کے لیے اہم جانوروں کی تعداد میں کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔ماہرین کے مطابق اگر مادہ جانوروں کے ذبیحہ کا رجحان نہ روکا گیا تو آنے والے برسوں میں دودھ اور گوشت کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے ، بچھڑا پالنے اور انڈوں و پولٹری کی پیداوار بڑھانے سے متعلق منصوبے کئی علاقوں میں سست روی کا شکار ہیں، مویشی پال حضرات نے وزیراعلیٰ ، سیکرٹری لائیو اسٹاک اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مادہ جانوروں کے غیر قانونی ذبیحہ کی روک تھام کے لیے خصوصی مہم چلائی جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں