نہروں کی پٹڑیوں پر آندھی سے درخت گرنے کی آڑ میں فروخت، رپورٹ طلب

نہروں کی پٹڑیوں پر آندھی سے درخت گرنے کی آڑ میں فروخت، رپورٹ طلب

مختلف مقامات پر درخت گرنے کے واقعات رپورٹ ،تشویش ناک امر یہ ہے کہ گرنے یا کاٹے جانے والے سرکاری درختوں کی باقاعدہ نیلامی شفاف طریقہ سے نہیں ہوتی

سرگودھا(سٹاف رپورٹر ) حکومت پنجاب نے حالیہ پری مون سون سیزن کے دوران سرکاری جنگلات اور نہروں کی پٹڑیوں پر آندھی اور طوفان سے درخت گرنے کی آڑ میں مبینہ طور پر صحت مند اور قیمتی درختوں کی غیر قانونی کٹائی اور فروخت کی اطلاعات کا نوٹس لیتے ہوئے  متعلقہ محکموں سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ، جبکہ چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ،ذرائع کے مطابق شدید آندھی اور طوفان کے دوران خستہ حال اور خشک درختوں کا گر جانا معمول کی بات ہے ، تاہم متعدد علاقوں سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ بعض عناصر اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سرکاری جنگلات اور نہروں کے کناروں پر موجود صحت مند، گھنے اور قیمتی درخت بھی کاٹ کر فروخت کر دیتے ہیں اور بعد ازاں انہیں طوفان سے گرنے والے درخت ظاہر کر دیا جاتا ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں بھی مختلف مقامات پر درخت گرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ، تاہم اس سے زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ گرنے یا کاٹے جانے والے سرکاری درختوں کی باقاعدہ نیلامی یا شفاف طریقہ کار پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا، جس سے بے ضابطگیوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں،بعض علاقوں میں نجی افراد اور متعلقہ عملے کی مبینہ ملی بھگت سے سرکاری درختوں کو اونے پونے داموں فروخت کرنے کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف چوری کے مقدمات درج کروا دیے جاتے ہیں، جبکہ گزشتہ چند برسوں میں اس نوعیت کے درجنوں مقدمات درج ہونے کے باوجود نہ تو کسی کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا اور نہ ہی متعلقہ محکموں نے ان مقدمات کی مؤثر پیروی کی، اور اس سال سرکاری درختوں کی چوری کے مقدمات گزشتہ دس سالوں کی نسبت سب سے زیادہ ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں