سرکاری اراضی کا ریکارڈ غائب، کارروائی کا فیصلہ

سرکاری اراضی کا ریکارڈ غائب، کارروائی کا فیصلہ

16 ہزار 143 ایکڑ سرکاری اراضی کا ریکارڈ رپورٹ،آڈٹ ٹیم کو صرف 1ہزار 47 ایکڑ کا ریکارڈ فراہم ،15 ہزار 96 ایکڑ اراضی سے متعلق ریکارڈ پیش نہ کیا جا سکا آڈٹ کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے آباد کاری سکیموں سے الاٹ کی گئی اراضی کا ریکارڈ کہاں موجود ،کسی قسم کی بے ضابطگی یا غفلت تو نہیں ہوئی

سرگودھا(نعیم فیصل ) ضلع سرگودھا میں آبادکاری سکیموں کے تحت محفوظ اور الاٹ کی گئی ہزاروں ایکڑ سرکاری اراضی کے ریکارڈ کی عدم دستیابی پر پنجاب بورڈ آف ریونیو نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کاروائی کا فیصلہ کیا ہے ،کیونکہ مبینہ بے ضابطگیوں کو چھپانے کیلئے سرکاری اراضی سے متعلق ریکارڈ کا بڑا حصہ آڈٹ حکام کو پیش ہی نہیں کیا گیا،ذرائع کے مطابق پنجاب بورڈ آف ریونیو کی آڈٹ ٹیم نے ضلع سرگودھا میں مختلف آبادکاری سکیموں کے تحت محفوظ اور الاٹ کی گئی سرکاری اراضی کا آڈٹ کیا، جس کے دوران ریکارڈ کی عدم فراہمی سمیت متعدد مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آئیں عبوری آڈٹ رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر آفس سرگودھا کی جانب سے مجموعی طور پر 16 ہزار 143 ایکڑ سرکاری اراضی کا ریکارڈ رپورٹ کیا گیا، تاہم آڈٹ ٹیم کو صرف 1ہزار 47 ایکڑ کا ریکارڈ فراہم کیا گیا جبکہ 15 ہزار 96 ایکڑ اراضی سے متعلق ریکارڈ آڈٹ کے لیے پیش نہ کیا جا سکا،باعث تشویش امر یہ ہے کہ باقی ماندہ ریکارڈ کی فراہمی کے لیے پہلے بھی متعدد بار ہدایات جاری کی گئیں۔

اس سلسلے میں 6 مارچ 2026 کو خط جاری کیا گیا، جبکہ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مختلف اوقات میں محکمہ مال کے ریکارڈ رومز میں آگ لگنے کے مبینہ مشکوک واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں جس پر 16 اپریل کو سیکرٹری آڈٹ، انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ کی زیر صدارت ویڈیو لنک اجلاس میں مبینہ طور پر جل جانے والے ریکارڈ کو دوبارہ تیار کرنے کی ہدایات دی گئیں،

بعد ازاں 6 مئی 2026 کو بھی ریکارڈ کی تیاری اور فراہمی کے حوالے سے ہدایات جاری کی گئیں جبکہ 10 جون کو یاددہانی مراسلہ جاری کرتے ہوئے 15 جون تک کارروائی مکمل کرنے کا کہا گیا، تاہم مقررہ وقت گزرنے کے باوجود ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے بورڈ آف ریونیو کو تاحال کوئی حتمی رپورٹ ارسال نہیں کی گئی،جس پر بورڈ آف ریونیو حکام نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مطلوبہ معلومات فراہم نہ کرنے کی صورت میں معاملہ مزید کارروائی کے لیے مجاز اتھارٹی کو بھجوا جا رہا ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری اراضی کے ریکارڈ کی عدم دستیابی نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے ، جبکہ آڈٹ کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ (آباد کاری سکیموں کے تحت محفوظ اور الاٹ کی گئی اراضی کا ریکارڈ کہاں موجود ہے اور اس میں کسی قسم کی بے ضابطگی یا غفلت تو نہیں ہوئی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں