قیمتوں میں خود ساختہ ردوبدل،حکومتی چیک اینڈ بیلنس کی صورتحال انتہائی مخدوش
مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث صورتحال میں کوئی نمایاں بہتری نہ آسکی ،مبینہ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کا سلسلہ جاری رہا، حکومتی رپورٹ پر بھی عمل نہ ہو ا
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سرگودھا سمیت دیگر اضلاع میں سٹاکس اور ڈیلرز کی نگرانی اور قیمتوں میں خود ساختہ ردوبدل کرنے پر حکومتی چیک اینڈ بیلنس کی صورتحال انتہائی مخدوش ہونے کی وجہ سے مصنوعی مہنگائی نے صارفین کی ناک میں دم کر رکھا ہے ذرائع کے مطابق سرگودھا میں 58، لاہور میں 100، شیخوپورہ میں 48، راولپنڈی میں 77، گوجرانوالہ میں 82، فیصل آباد میں 41، ساہیوال میں 91، ملتان میں 122، بہاولپور میں 143 جبکہ ڈیرہ غازی خان میں 179 بڑے سٹاکس اور مین ڈیلرز موجود ہیں ، جن کی نگرانی کے ساتھ ساتھ مصنوعی قلت پیدا کرکے قیمتیں بڑھانے اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرکے رپورٹ متعلقہ حکام کو ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی ذرائع کا کہنا ہے کہ حیران کن طور پر یہ احکامات تقریباً ایک سال قبل جاری کیے گئے تھے ، مگر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث صورتحال میں کوئی نمایاں بہتری نہ آسکی اور سٹاکسٹوں کی جانب سے مبینہ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ ذرائع کے مطابق کئی سٹاکسٹ سرکاری ریکارڈ میں موجود ہونے کے باوجود اپنے اصل ذخائر ظاہر نہیں کرتے اور مبینہ طور پر اضافی مال خفیہ گوداموں میں منتقل کرکے کاغذات میں معمولی مقدار ظاہر کرتے ہیں، جس سے مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کرکے اشیائے ضروریہ مہنگے داموں فروخت کرنے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ بعض ذرائع نے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز کے ماتحت عملے پر بھی مبینہ طور پر سٹاکسٹوں کو ریلیف دینے اور اصل ذخائر کی مکمل نشاندہی نہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments