آلودہ پانی سے وسیع رقبہ ناقابل کاشت بننے کا خدشہ
سینڈ اسٹون، بیسالٹ اور ٹف کے بلاکس کی نکاسی کے دوران آلودہ پانی جوہڑوں میں جمع کرنے اور نہروں میں چھوڑنے سے اراضی تیزی سے متاثر ہورہیعملی صورتحال مختلف ،آلودہ پانی کی مناسب ٹریٹمنٹ کا مؤثر انتظام کیا گیا اور نہ ہی شجرکاری کے احکامات پر سنجیدگی سے عملدرآمد ہوسکا، رپورٹ جاری
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) ضلع میں پتھر کی کان کنی اور بلاسٹنگ کے دوران پیدا ہونے والے انتہائی آلودہ پانی نے ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ زرعی زمینوں کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے ، سینڈ اسٹون، بیسالٹ، ڈائیورائٹ اور ٹف کے بلاکس کی نکاسی کے دوران زیر زمین سے نکلنے والا آلودہ پانی مناسب ٹریٹمنٹ کے بغیر پہاڑی علاقوں کے قریب جوہڑوں میں جمع کرنے اور نہروں یا سیم نالوں میں چھوڑنے سے مبینہ طور پر اردگرد کی زرعی اراضی تیزی سے متاثر ہورہی ہے اور وسیع رقبہ ناقابل کاشت بننے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق اہل علاقہ کی شکایات پر محکمہ تحفظ ماحولیات کی جانب سے پانی کے نمونے حاصل کرکے تجزیہ کرایا گیا، جس کی رپورٹ میں مبینہ طور پر واضح کیا گیا کہ مذکورہ آلودہ پانی زرعی زمینوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے اور اس کے مسلسل اخراج سے زمین مکمل طور پر بنجر ہونے کا خدشہ ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد محکمہ معدنیات نے پتھر مارکیٹ کے مختلف بلاکس کے الاٹیوں کو آلودہ پانی کے مناسب ٹریٹمنٹ اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
جبکہ ہر الاٹی کو کم از کم ایک ہزار پودے لگانے کا بھی پابند کیا گیا اور احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کا عندیہ دیا گیا، تاہم متاثرہ علاقوں کے مکینوں کا دعویٰ ہے کہ عملی صورتحال سرکاری ہدایات سے یکسر مختلف ہے اور نہ تو آلودہ پانی کی مناسب ٹریٹمنٹ کا مؤثر انتظام کیا گیا اور نہ ہی شجرکاری کے احکامات پر سنجیدگی سے عملدرآمد ہوسکا۔ ذرائع کے مطابق ایک ہزار پودے لگانا تو درکنار، کئی مقامات پر چند پودے بھی دکھائی نہیں دیتے ، جبکہ آلودہ پانی کے مسلسل اخراج سے بنجر ہوتی زمینوں کا دائرہ مبینہ طور پر بڑھتا جارہا ہے ، جس سے گردونواح کے دیہات میں کسانوں اور زمینداروں کی تشویش میں اضافہ ہورہا ہے ۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ ایک طرف زرعی زمینیں آلودہ پانی کی زد میں آکر اپنی پیداواری صلاحیت کھو رہی ہیں تو دوسری جانب متعلقہ اداروں کی مبینہ خاموشی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے ،جبکہ متاثرہ کاشتکاروں نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ معدنیات اور ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں عملی نگرانی کے بجائے کاغذی رپورٹس تک محدود ہوکر رہ گئی ہیں اور اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو ماحولیاتی نقصان ناقابل تلافی ہوسکتا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments