گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کو دھچکا،چند درخواستیں وصول
گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کو دھچکا،چند درخواستیں وصول مہم تاحال عوامی پذیرائی حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) اصلاحِ نظامِ اراضی کے تحت گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے حکومتی پروگرام کو سرگودھا شہر میں آغاز ہی پر بڑا دھچکا، جاری مہم کے باوجود فیصل ہال ڈسٹرکٹ کونسل میں قائم کیمپ پر اب تک صرف چند درخواستیں جمع ہوسکیں، شہری علاقوں کی بڑی تعداد کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ نہ ہونے اور پرائیویٹ ہاؤسنگ کالونیوں کو پروگرام سے باہر رکھنے کے باعث سرکاری سہولت سے محروم ہے ،حکومت پنجاب کی ہدایت پر گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے نفاذ اور اصلاحِ نظامِ اراضی کے لیے سرگودھا میں31اگست سے خصوصی پروگرام شروع کیا گیا، تاہم شہر میں یہ مہم تاحال عوامی پذیرائی حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے ۔
فیصل ہال ڈسٹرکٹ کونسل سرگودھا میں قائم کیمپ پر اب تک چند درخواستوں کا موصول ہونا حکومتی ہدف اور زمینی صورتحال کے درمیان واضح فرق کی نشاندہی کرتا ہے ،ذرائع کے مطابق سرگودھا شہر کے متعدد علاقے تاحال کمپیوٹرائزڈ لینڈ ریکارڈ میں شامل نہیں، جبکہ پرائیویٹ رہائشی کالونیوں کو بھی موجودہ پالیسی کے تحت پروگرام میں شامل نہیں کیا گیا، جس کے باعث شہری آبادی کا ایک بڑا حصہ اس سہولت سے فائدہ اٹھانے سے قاصر ہے ۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا کہ ضلع کی دیگر تحصیلوں میں قائم کیے گئے کیمپس پر گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہوچکی ہیں۔ جس سے سرگودھا شہر اور دیہی علاقوں میں پروگرام کی پیش رفت کا فرق نمایاں ہوگیا ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب تک شہر کے تمام علاقوں اور نجی ہاؤسنگ کالونیوں کو کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کے دائرے میں لاکر پروگرام میں شامل نہیں کیا جاتا، اس وقت تک مقررہ اہداف کا حصول محض کاغذی کارروائی تک محدود رہنے کا خدشہ ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments