سمسٹر امتحانات میں نقل، اساتذہ رہنمائی فراہم کرتے رہے
بعض سرکاری کالجز میں طلبہ و طالبات کو ایک دوسرے کو جوابی کاپیاں دکھاتے رہے ،ڈپٹی کمشنر کا نوٹس ، رپورٹ طلب
سرگودھا(سٹاف رپورٹر)سرگودھا کے بعض سرکاری کالجز میں سمسٹر امتحانات کے دوران مبینہ نقل، طلبہ و طالبات کو ایک دوسرے کی جوابی کاپیاں دکھانے اور اساتذہ کی جانب سے اہم سوالات و جوابات میں رہنمائی فراہم کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ مانیٹرنگ ادارے کی سورس رپورٹ میں امتحانی نگرانی کے نظام میں خامیوں کی نشاندہی کے بعد ڈپٹی کمشنر سرگودھا نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز کو سخت کارروائی اور تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض سرکاری کالجز میں چیک اینڈ بیلنس کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی کے باعث امتحانی نظم و ضبط متاثر ہو رہا ہے اور طلبہ و طالبات کو دورانِ امتحان ایک دوسرے کی جوابی کاپیاں دیکھنے اور باہمی مدد کے مواقع ملتے ہیں، بالخصوص دوسرے سمسٹر کے امتحانات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا کہ بعض اساتذہ پرچے سے پہلے یا امتحان کے دوران اہم سوالات اور ان کے جوابات کے بارے میں طلبہ و طالبات کی رہنمائی کرتے ہیں۔
رپورٹ میں اس طرزِ عمل کو امتحانی رازداری اور غیر جانب دارانہ جانچ کے اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے نشاندہی کی گئی ہے کہ اس سے اپنی محنت اور قابلیت کی بنیاد پر نتائج حاصل کرنے والے طلبہ کے ساتھ ناانصافی کا بھی خدشہ پیدا ہے، مانیٹرنگ رپورٹ میں کالجز کے امتحانی نظام کی نمبر وار تقسیم کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مڈٹرم امتحانات کے 30 جبکہ فائنل امتحانات کے 60 نمبر ہوتے ہیں، اور مڈٹرم کے نصاب کا تقریباً 5 سے 10 فیصد حصہ فائنل امتحانات میں شامل کیا جاتا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق امتحانی نگرانی پر مامور عملہ یا متعلقہ اساتذہ ہی مبینہ طور پر طلبہ و طالبات کو غیر مجاز مدد فراہم کرنے سے نمبروں اور گریڈنگ کے ذریعے قابلیت جانچنے کا مقصد بری طرح متاثر ہورہاہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments