پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کی دوبارہ تشکیل،اچکزئی راجہ ناصر شامل ،گنڈا پور آؤٹ
سلمان اکرم ،گوہر، آفریدی ،عمر ایوب ،شبلی فراز، ملک احمد بھچر،خالد خورشید اور قیوم نیازی سمیت 23 نام شامل عارف علوی، شاہ فرمان ،قاسم سوری، زلفی بخاری ،علی ظفر، اسلم اقبال،عمرڈار،علی محمد خان،ثنا اللہ مستی خیل فارغ
اسلام آباد( خصو صی نیوز رپورٹر ، نیوز ایجنسیاں) پی ٹی آئی نے سیاسی کمیٹی کی ازسرنو تشکیل کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ،سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور ، سابق صدرمملکت عارف علوی، سابق گورنر شاہ فرمان اور سابق ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری بھی سیاسی کمیٹی سے فارغ ہو گئے ،زلفی بخاری،اعظم سواتی،شہباز گل ،سینیٹرعلی ظفر ،شاہد خٹک،میاں اسلم اقبال،تیمور سلیم جھگڑا ،عمر ڈار،علی محمد خان،ثنائاللہ مستی خیل،رؤف حسن اور عاطف خان کو بھی کمیٹی نکال دیا گیا جبکہ محمودخان اچکزئی اورعلامہ راجہ ناصرعباس کو کمیٹی کاحصہ بنایاگیاہے ۔بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے سلمان اکرم راجا کو نئی سیاسی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی تھی جس کے بعد کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن سلمان اکرم راجا اور فردوس شمیم نقوی کے دستخط سے جاری کر دیا گیا ہے ۔نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی میں 23 اہم رہنماؤں کو شامل کیا گیا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی میں شامل دیگر رہنماؤں میں فردوس شمیم نقوی، شیخ وقاص اکرم، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب بھی شامل ہیں۔سابق سینیٹ اپوزیشن لیڈر شبلی فراز، پنجاب اسمبلی اپوزیشن لیڈر معین قریشی، سابق اپوزیشن لیڈر پنجاب ملک احمد خان بھچر، اوورسیز چیپٹر سیکرٹری سجاد برکی، پنجاب کی چیف آرگنائزرز عالیہ حمزہ، جنید اکبر، حلیم عادل اور داؤد کاکڑ بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔سیاسی کمیٹی میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے خالد خورشید اور سردار قیوم نیازی، سابق سپیکر اسد قیصر، چیف وہپ قومی اسمبلی عامر ڈوگر، سینیٹ کوآرڈینیٹر فوزیہ ارشد، خواتین ونگ کی صدر کنول شوذب، اقلیتی ونگ کے صدر لال چند ملہی بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ سیاسی کمیٹی پارٹی کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز فورم ہو گا، کمیٹی پارٹی فیصلوں اور پالیسی سازی کا اعلیٰ ترین فورم ہوگا اور پارلیمانی پارٹیوں کے لیے بنائی جانے والی پالیسیاں بھی مذکورہ کمیٹی مرتب کرے گی۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مزید رہنماؤں کی شمولیت یا اخراج ضرورت کے تحت کیا جائے گا۔