سندھ اسمبلی:کراچی میں پانی کی قلت پر ایم کیو ایم کا ہنگامہ
حکومت کاجوابی احتجاج،ایوان مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے لگا،پانی دو کے نعرے وقفہ سوالات میں جوابات بھی نہ دیئے جا سکے ، پی پی سنجیدہ نہیں،پی ٹی آئی رکن
کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی میں پیر کو ایم کیو ایم کے ارکان نے شہر میں قلت آب کیخلاف سخت احتجاج کیا، ایوان میں شور شرابے اور ہنگامہ آرائی سے کان پڑی آواز نہ سنائی دی، ایوان مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے لگا ، شور و غل پروقفہ سوالات میں ارکان کے جوابات بھی نہیں دیئے جاسکے ۔وزیر قانون و پارلیمانی امور نے ایم کیو ایم کے ارکان سے کہا کہ وہ پانی پر سیاست نہ کریں ،حکومت فراہمی آب کو بہتر بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کررہی ہے ۔ ارکان نے کراچی میں پانی کی قلت بارے توجہ دلاؤ نوٹس بھی پیش کئے ۔سندھ اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر نوید انتھونی کی زیر صدارت شروع ہواتو متحدہ کے ارکان نے کراچی میں پانی کی عدم فراہمی پرہنگامہ آرائی شروع کردی، کراچی کو پانی دو کے نعرے لگائے۔ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا میری آواز دبائی گئی تو پھر کوئی بات نہیں کرسکے گا، دفاتر میں بیٹھتے ہیں تو لوگوں کا ہجوم پانی کی شکایت لیکر آجاتا ہے۔
انکی تقریر کے دوران پیپلز پارٹی کے ارکان نے بھی متحدہ کے رویے پر احتجاج شروع کردیا۔پی ٹی آئی کے شبیر قریشی نے کہا ایوان میں پانی پر بات سے بھی روکا جاتا ہے ۔ کراچی میں پانی کے مسئلے پر پیپلز پارٹی سنجیدہ نہیں ۔ دوران َ ِکارروائی متحدہ کے عامر صدیقی کی جیکب آباد میں گھر جلانے اور ذمہ دار پولیس اہلکاروں کو سزا دینے سے متعلق قرارداد منظور کرلی گئی ۔ اسمبلی نے سندھ انسٹیٹیوٹ آف ری پروڈیکٹو ہیلتھ کراچی کے قیام کا بل متفقہ منظور کر لیا ۔قبل ازیں بل کے متعلق قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ندا کھوڑو نے پیش کی۔ بعدازاں اسمبلی کا اجلاس برخاست کردیا گیا۔