بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کم کیا جائے :حافظ نعیم
زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے ایک لاکھ 25 ہزار ماہانہ تنخواہ پر انکم ٹیکس ختم کیا جائے :امیرجماعت اسلامی
لاہور (سیاسی نمائندہ ،سٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور متوسط طبقے کو فوری ریلیف دیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے ۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے ، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے ۔ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ۔ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے ، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہئیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے ، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے ۔ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے ۔ موجودہ ٹیکس نظام کی وجہ سے پیشہ ور افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک تشویشناک رجحان ہے ۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے ۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے۔