تخفیفِ اسلحہ کانفرنس کی سالانہ رپورٹ اقوام متحدہ سے منظور

 تخفیفِ اسلحہ کانفرنس کی سالانہ رپورٹ اقوام متحدہ سے منظور

رپورٹ مستقل مندوب طاہر اندرابی نے پیش کی ،65ممالک کی متفقہ منظوری

اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تخفیفِ اسلحہ کانفرنس کی سالانہ رپورٹ اتفاقِ رائے سے منظور کرلی گئی ،رپورٹ پاکستان کی صدارت میں منظور ہوئی، جس کی ذمہ داری سفیر طاہر حسین اندرابی نے انجام دی۔65 رکن ممالک کی متفقہ منظوری کو موجودہ عالمی حالات میں ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے ۔ سالانہ رپورٹ وہ واحد نتیجہ ہے جسے تخفیفِ اسلحہ کانفرنس ہر سال جنرل اسمبلی کو پیش کرنے کی پابند ہے ، رپورٹ کی منظوری کے لیے تمام 65 رکن ممالک کی رضامندی درکار تھی، ان اراکین میں جوہری ہتھیار رکھنے والی تمام ریاستیں اور عسکری اعتبار سے اہم ممالک شامل ہیں، ایک ایسے وقت میں جب بڑی طاقتوں کے درمیان اعتماد گزشتہ کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہے اور دنیا کے مختلف حصوں میں فعال تنازعات جاری ہیں رپورٹ کی منظوری انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ، سب سے اہم بات کہ سالانہ رپورٹ کی منظوری 2026 میں کانفرنس کا واحد متفقہ فیصلہ ہے ، رواں سال کانفرنس نہ تو اپنے لا ئحہ عمل پر اتفاق کر سکی اور نہ ہی ذیلی اداروں کے قیام پر جب اس ادارے کے لئے کوئی اور فیصلہ اتفاقِ رائے سے ممکن نہ ہو سکا، پاکستان کی صدارت نے وہ نتیجہ حاصل کیا جس کی ناکامی کی گنجائش نہیں تھی یہ کامیابی اجلاس کے اختتام سے تین روز قبل حاصل کر لی گئی۔ پاکستان کی صدارت نے ایک بامعنی اور جامع رپورٹ پر بتدریج اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لئے نہایت محنت اور باریک بینی سے کام کیا اور اس دوران اہم وفود کے بنیادی مؤقف اور حساس حدود کا مکمل لحاظ رکھا ،پاکستان نے چار ہفتوں کے دوران مشاورت کے ساتھ ساتھ تمام علاقائی اور سیاسی گروپوں، بشمول بڑی طاقتوں کے وفود کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتوں کا ایک جامع سلسلہ جاری رکھا تاکہ مختلف تجاویز پر ان کی آرا اور قابلِ قبول حدود کا جائزہ لیا جا سکے ،کسی بھی متن کو مسلط کرنے کے بجائے تخفیفِ اسلحہ کانفرنس کے صدر نے خود مفاہمتی رپورٹ تیار کی اور اسے باقاعدہ طور پر پیش کرنے سے قبل متعلقہ وفود کے ساتھ غیر رسمی طور پر جانچا ، جہاں اتفاقِ رائے کی گنجائش پیدا ہوئی، اسے نظرثانی شدہ متن میں شامل کیا گیا اور جہاں اتفاق ممکن نہ تھا، وہاں صدارت نے پیش قدمی سے گریز کیا ،دوسری جانب سب سے مشکل امور میں تخفیفِ اسلحہ کانفرنس میں مبصر ریاستوں کی شرکت کو روکنے کا معاملہ اور کانفرنس میں مذاکرات کے آگے نہ بڑھنے کا مسئلہ شامل تھا ، ان معاملات پر رکن ممالک کے مؤقف میں نمایاں اختلاف پایا جاتا تھا، پاکستان نے ہر جانب سے آنے والے دباؤ کے باوجود توازن برقرار رکھا اور مجموعی اتفاقِ رائے کا تحفظ یقینی بنایا، 20 اگست کو تخفیفِ اسلحہ کانفرنس کی صدارت سنبھالتے ہوئے سفیر اندرابی نے کانفرنس میں تعطل کا ذمہ دار اس کے طریقئہ کار کو قرار دینے سے خبردار کیا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...