انتخابی اصلاحات کمیٹی سیاسی و جمہوری صحت کیلئے اہم
گزشتہ انتخابات کے چیلنجز جامع اصلاحات کے متقاضی، سنجیدگی دکھانا ہوگی
(تجزیہ: سلمان غنی)
مضبوط جمہوری نظام کی بنیاد جمہوری روایات اور خصوصاً شفاف انتخابی عمل سے مشروط ہے ۔ دنیا بھر میں جہاں مضبوط جمہوری نظام قائم ہے ، اس کی بڑی وجہ شفاف انتخابی نظام ہے ، جس کے نتیجے میں بننے والی حکومتیں ملک اور معاشرے میں معاشی و سیاسی استحکام کے لیے کام کرتی ہیں۔ اس سے ملک مضبوط اور عوام خوشحال ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستان کا بڑا سیاسی المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں ہر انتخابی عمل پر سوالیہ نشانات اٹھتے رہے اور انتخابات کے نتیجے میں استحکام آنے کی بجائے نیا انتشار، خلفشار اور تناؤ پیدا ہوا۔ اس سے نہ حکومتیں ڈلیور کر سکیں اور نہ ہی ملک و قوم کے مسائل میں کمی آئی، بلکہ جمہوریت اور جمہوری اداروں کی ساکھ بھی متاثر ہوتی رہی۔قومی اسمبلی میں آئندہ انتخابات کی شفافیت یقینی بنانے کے لیے انتخابی اصلاحات کی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ ہوا۔ پیپلز پارٹی اس حوالے سے متحرک دکھائی دی اور اب کمیٹی کی تشکیل اور انتخابی شفافیت یقینی بنانے کے لیے غور و خوض شروع ہو چکا ہے ۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں شروع ہونے والی یہ مشق نتیجہ خیز ہوگی اور کیا اپوزیشن، خصوصاً پی ٹی آئی، اس سنجیدہ عمل کا حصہ بن پائے گی؟انتخابی اصلاحات کمیٹی کا بنیادی مقصد انتخابی نظام میں بہتری، پارلیمانی مشاورت اور اتفاق رائے یقینی بنانا ہے ۔
حکومت اور اپوزیشن سنجیدگی اختیار کریں تو سیاسی تناؤ کم کرنے اور جامع قانون سازی کے ذریعے انتخابی عمل کو آزادانہ اور شفاف بنانے میں مدد مل سکتی ہے ۔ یہ کمیٹی ایسا فورم فراہم کرتی ہے جہاں دھاندلی کے الزامات اور انتخابی مسائل سمیت تمام خدشات مذاکرات کی میز پر لائے جا سکتے ہیں، تاکہ ایسا نظام وجود میں آئے جس پر تمام جماعتوں اور عوام کا اعتماد بحال ہو۔کمیٹی کے اراکین کی تعداد 30 رکھی گئی ہے ، جن میں قومی اسمبلی کے 20 اور سینیٹ کے 10 اراکین شامل ہوں گے ۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اپوزیشن کے لیے پانچ نشستیں مختص کی گئی ہیں، لیکن اپوزیشن نے اپنی کم تعداد پر اعتراض اٹھاتے ہوئے برابری کی بنیاد پر نمائندگی کا مطالبہ کیا ہے ، جبکہ پارلیمنٹ میں ایسی روایت موجود نہیں اور اراکین کی شمولیت تعداد کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔کمیٹی میں اپوزیشن کی شمولیت کا معاملہ ابھی طے نہیں ہوا۔ اپوزیشن نے شرکت مسترد کرنے کے بجائے مشاورت کے لیے وقت مانگا ہے ۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن پر انتخابی اصلاحات کے عمل میں فعال کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اپوزیشن کمیٹی کا حصہ بنے گی۔ اس میں گزشتہ انتخابات میں دھاندلی کی شکایات پر بھی بات ہو سکے گی تاکہ مستقبل کے انتخابی عمل میں ان کا ازالہ اور تمام جماعتوں کے لیے قابل قبول نظام تشکیل دیا جا سکے ۔پی ٹی آئی کے حوالے سے ایک تکنیکی مشکل درپیش ہے کیونکہ اس نے کمیٹیوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے ۔ اگر اپوزیشن اس سنجیدہ عمل میں شامل نہیں ہوتی تو اس کا بنیادی مقصد پورا نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی ہدایت پر پارٹی رہنماؤں راجہ پرویز اشرف اور نوید قمر نے اپوزیشن لیڈرز محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس سے ملاقاتیں کرکے کمیٹی میں شمولیت کی اپیل کی ہے ۔ اس پر محمود اچکزئی نے مشاورت کے بعد فیصلہ سے آگاہ کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔اس کمیٹی کی تشکیل محض تکنیکی نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی اور جمہوری صحت کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتی ہے ۔ اس کا مقصد پارلیمانی مشاورت اور اتفاق رائے کو فروغ دینا ہے تاکہ حکومت اور اپوزیشن مل کر انتخابی نظام کی بے ضابطگیوں کا ازالہ کر سکیں۔ تاہم اگر یہ مشق بھی رسمی کارروائی ثابت ہوئی تو عوام کا اعتماد مزید متاثر ہو سکتا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں شفاف انتخابات کا بندوبست نہ ہوا تو جمہوریت کے مستقبل کی ضمانت نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق گزشتہ انتخابات کے چیلنجز جامع اصلاحات کے متقاضی ہیں اور قانون سازوں کو اس حوالے سے سنجیدگی دکھانا ہوگی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments