نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کےاعزاز میں پاکستان ہاؤس میں تقریب
  • بریکنگ :- لندن:وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی پاکستان ہاؤس آمد
  • بریکنگ :- برطانیہ میں پاکستان کےہائی کمشنرمعظم احمدخان کاوزیرخارجہ کاخیرمقدم
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ کی کشمیرسےتعلق رکھنےوالےممتازپاکستانی برطانوی رہنماؤں سےملاقات
  • بریکنگ :- مسئلہ کشمیراجاگرکرنےمیں پاکستانی کمیونٹی کااہم کردارہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- برطانوی ارکان پارلیمنٹ مسئلہ افغانستان کوضروراجاگرکریں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- 2سال سےزائدکاعرصہ گزرچکاکشمیری بدترین محاصرے کاسامناکررہےہیں،شاہ محمود
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کاپاکستان ہاؤس میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب
  • بریکنگ :- افغان جنگ وجدل سےتھک چکےہیں وہ امن کےمتلاشی ہیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- نائن الیون کےبعدتقاضاکیاگیاہم دہشت گردی کےخلاف جنگ میں اتحادی بنیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- ہمارے80ہزارلوگ شہید،معیشت کو150ارب ڈالرسےزائدنقصان ہوا،شاہ محمود
  • بریکنگ :- ماضی میں افغان سرزمین کوپاکستان کےخلاف استعمال کیاگیا،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- ہم نےافغانستان سےمتعلق حقائق دنیاکےسامنےرکھے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- برطانیہ کامطالبہ ہےافغان سرزمین کسی ملک کےخلاف استعمال نہ ہو،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- لندن :وزیراعظم عمران خان کا بھی یہی موقف ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- ہم عالمی برادری سےکہتےہیں کہ افغانستان کوتنہانہ چھوڑاجائے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- افغانستان میں انسانی بحران جنم لےرہاہے،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- فوری تدارک نہ کیاگیا تومہاجرین کی یلغارکاسامناکرناپڑےگا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- میری اطلاعات کےمطابق افغانستان میں امن وامان کی صورتحال بہترہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- پاکستان نےانخلاکےعمل میں مختلف ممالک کی بھرپورمددکی،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- عالمی برادری افغانیوں کی انسانی بنیادوں پرمددکرے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی ہدایت پرافغانستان کےقریبی ہمسایہ ممالک کادورہ کیا،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- لندن:افغانستان میں قیام امن مشترکہ ذمہ داری ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- عالمی برادری کوان چیلنجزسےنمٹنےکےلیےمشترکہ کوششیں کرناہوں گی،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- علی گیلانی کےجسدخاکی کوزبردستی اہلخانہ سےچھیناگیا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سید علی گیلانی کی نماز جنازہ کی اجازت نہیں دی گئی،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- انسانی حقوق کےجھوٹےچیمپئنزنےان کی خواہش کےمطابق تدفین کی اجازت نہیں دی
  • بریکنگ :- 131صفحات پرمشتمل ڈوزیئرجاری کیاجس میں بھارتی افواج کےجنگی جرائم کےثبوت ہیں
  • بریکنگ :- ہم چاہتےہیں برطانوی پاکستانیوں کوووٹ کاحق دیاجائے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- کوروناکےدوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے 30ارب ڈالرترسیلات زروطن آئیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- روشن ڈیجیٹل پاکستان اقدام کوسراہاگیا 2ارب ڈالرکی ترسیلات وطن بھیجی گئیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- تارکین وطن کی گراں قدرخدمات سراہنےکےلیےایف ایم آنرزلسٹ کااجراکیا،وزیرخارجہ
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

ایک بھولی بسری کہانی

پروردگار کو ہمیشہ انتظار رہتا ہے۔ اس ایک بندے کا، جو واقعی اس کا بندہ ہو۔ اقبالؔ نے کہاتھا : عبد دیگر عبدہ‘ چیزے دگر۔ بندہ اور ہوتا ہے اور اللہ کا بندہ کچھ اور ع
وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں
''A Star is born‘‘... پچاس برس ہوتے ہیں سول اینڈ ملٹری گزٹ نے اپنے اداریے میں لکھا تھا۔ یہ جواں سال محمد رفیق اختر کے بارے میں تھا جو ابھی ایک طالب علم تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے طالب علم۔ بعد میں وہ احمد رفیق اختر ہوگئے۔ لاہور میں چرچے کا آغاز ہی ہوا تھا کہ جواں سال شاعر نے توبہ کرلی۔ تصوف کی تاریخ عجیب و غریب واقعات سے بھری پڑی ہے اور یہ ان میں سے ایک ہے۔ انہوں نے ایسا کیوں کیا، انہی کی زبانی سنیے۔
''س:آپ نے شاعری بھی کی؟
ج: میں اچھا بھلا شاعر تھا، بس اللہ میاں نے وہاں بھی میرا سارا کام خراب کر دیا۔ فرمایا کہ شعراء تو جھوٹ کی وادیوں میں سفر کرنے والے ہیں۔ میرے پاس چارہ ہی کیا تھا۔ میں اس کی سنتا یا اپنے دل کی بات مانتا۔ تھوڑی بہت شاعری اس زمانے میں چھپی ہے۔ کچھ شعر گورنمنٹ کالج لاہور کے میگزین میں چھپے ہیں، ایک رسالہ چکوال میں چھپاتھا سارا میرے ہی کلام پہ مبنی تھا۔ ایک دوسرے شخص کا نام بھی تھا، مگر وہ بھی میری ہی شاعری تھی۔ مگر میں شاعری ترک کر رہا تھا ۔اس وقت کے آخری دو شعر یاد ہیں:
کتنے امڈے ہوئے دریائوں کی شورش کا امیں
کتنا خاموش ہوں پُر ہول سمندر کی طرح
ہائے وہ لمحۂ عرفانِ غمِ حسنِ ازل
ڈوبتا جائے ہے دل پانی میں پتھر کی طرح
یہ محض شاعری نہ تھی۔ یہ حسب حال تھا۔ اصل میں میری شاعری بھی فضول سی تھی۔ اس میں بھی انانیت جھلکتی تھی، ایک وقت تھا، انائے ذات کا۔ اس زمانے میں ایک شعر لکھا جو بہت مشہور ہوا، ہر لڑکا گاتا پھرتا تھا ؎
میں خود پرست کسی پر نثار ہو نہ سکا
مری نظر‘ مرے دل ہی میں آ کے ڈوب گئی
اس قسم کی کافی فضول شاعری میں نے کی۔ پھر Paradise lost کا منظوم ترجمہ شروع کیا۔ اس کی بہت شہرت ہوئی مگر Lost both the books I ۔اپنے شیخ(سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ) کی طرح میری کتابِ شعر بھی گم ہو گئی۔Paradise lost کا ترجمہ ''فردوسِ گم گشتہ‘‘ کے نام سے کیا۔ میرا خیال ہے طلباء کے لیے دلچسپی کا باعث ہو سکتا ہے۔ تھوڑا سا مجھے یاد ہے:
اوّل اوّل وہ خطائے انساں
شجرِ ممنوعہ کی فانی لذت
وجہِ آغازِ فنا کاریٔ مرگ
باعثِ ایں ہمہ رنج و کلفت
درِ فردوس پہ آدم کے لیے مہرِ خروج
بعد مدت کے ہمی، حتیٰ کہ پھر لوٹ آیا
وہ حسیں کنجِ قدیم ایک عظیم انساں نے
پھر کوئی نغمہ جگا
اے کہ تو نے کوہ اوریب پہ صنعا کی تنہائیوں پر
اک گلہ بان کو وہ عظمتِ عرفانی دی
جن سے اس نے تیرے محبوب علم داروں کو
رازِ پیدائشِ عالم کا بنایا محرم
کہ یہ فردوس یہ دنیائے فنا
ایک ہنگامہ کبریٰ سے ابھر آئی ہے
فیض احمد فیض نے ایک ادبی نشست میں کہا کہ انہوں نے بھی شاعری کی ہے۔انہوں نے بھی اس نظم کا ترجمہ کرنے کی کوشش کی مگر اس نوجوان نے Diction to diction translation کر دی۔ اس وقت میں نوجوان تھا۔ میرے دو شعر تب بہت مشہور ہوئے۔ وہ آپ کو سناتا ہوں۔ ملٹن نے لکھا تھا کہ وہ اپنے چھوٹے سے فرشتے کو اٹھاتا ہے، جو ''دوسرا شیطان‘‘ہے۔ اس سے وہ کہتا ہے اور یورپ میں وہ بہت مشہور تھا، نوجوان نسلوں میں بہت مقبول:
اُٹھ اے گرے ہوئے کروبی اُٹھ
درِ جنت پہ جبیں سائی سے
کہیں بہتر ہے کہ ہم
تختِ دوزخ پہ شہنشاہی کریں
تو جیسے وہ پاپولر ہوئے‘ یہ بھی لاہور میں لڑکے گاتے پھرتے تھے
اُٹھ اے گرے ہوئے کروبی اُٹھ
اسی کو Diction to diction translation کہا جاتا ہے۔ I wasn`t romantic in those days بلکہ اس وقت میری تلمیح جو تھی، بڑی کرخت ہو چکی تھی، over thinking کی وجہ سے۔ زمان و مکاں پہ میری بے شمار میٹافیزیکل نظمیں ہیں۔‘‘
جی نہیں، یہ کسر نفسی کی انتہا ہے۔ ایسے ہی صوفی ہوا کرتے ہیں۔ ایک شعر کا عارف نے ذکر نہیں کیا، ایک دن اس طالب علم نے انہیں یاد دلایا تھا ؎
جلتے ہر شب ہیں آسماں پہ چراغ
جانے یزداں ہے منتظر کس کا؟
پروردگار کو ہمیشہ انتظار رہتا ہے۔ اس ایک بندے کا، جو واقعی اس کا بندہ ہو۔ اقبالؔ نے کہاتھا : عبد دیگر عبدہ‘ چیزے دگر۔ بندہ اور ہوتا ہے اور اللہ کا بندہ کچھ اور ع
وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں