"ISC" (space) message & send to 7575

مودی کی نئی چال

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اچانک آئے ، خاموشی سے ملے اور چپکے سے چلے گئے۔ پاکستان آمد کے بعد وہ میاں نواز شریف کی ذاتی رہائش گاہ پہنچے، سالگرہ کی مبارکباد دی، نواسی کی شادی پر خوشی کا اظہار کیا، انواع و اقسام کے کھانے کھائے، لیکن دونوں ملکوں کے درمیان جاری تنازعات کے بارے میں وہ نہ صرف خاموش رہے بلکہ ٹالنے والا انداز اپنایا۔۔۔۔کوئی تسلی دی نہ امن کی خواہش کا اظہار کیا۔ مودی صاحب کے دورے کو ایک حلقے نے بھارت کی اگلی انتخابی مہم کا حصہ قرار دیا تو کسی نے اسے کاروباری دورہ سمجھتے ہوئے جندال فیملی کے اثرورسوخ کا ''کارنامہ‘‘ بتایا۔
دنیا کے سفارتی تعلقات کی تاریخ میں مودی اور نوازشریف کی ڈرامائی ملاقات ایک ''زلزلہ‘‘ تھا جس کے ''آفٹرشاکس‘‘ یقیناً پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں کے کئی شہروں میں محسوس کیے جائیں گے لیکن ہر بار استعمال ہونے والا یہ جملہ شاید اب کارگر نہ ہوسکے کہ ''دونوں ملکوں کے درمیان برف پگھلناشروع ہوگئی‘‘۔ شدید سردی میں برف پگھلنے کا محاورہ استعمال کرتے ہوئے بھی ٹھنڈ لگتی ہے۔ مودی صاحب کی پاکستان آمد دراصل ان کی پارٹی کی دہلی اورپھر بہار میں پے در پے شکست کے بعد ''ری تھنکنگ پالیسی‘‘ کا حصہ بھی نظر آرہی ہے۔ ان کی پارٹی نے پورے بھارت میں جس تیزی سے مسلمانوں کے ساتھ جنگ شروع کررکھی تھی اس کی سزا اسے دہلی اور بہار میں بھگتنا پڑی اور اب مسلمانوں کا غصہ اور ناراضگی کم کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ مودی کی پارٹی نے بھارتی مسلمانوں کو تنگ کرکے اس کی بھاری قیمت چکانا شروع کردی ہے، خاص طور پر بہار کے انتخابات میں جس طرح مسلمانوں نے ہندو عصبیت ‘ انتہاپسندی اورنفرت کا مقابلہ کیا اس سے وہ متحد ہوگئے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کئی حلقوں میں مودی کی پارٹی کے امیدوار صرف مسلمانوں کے ووٹوں کا جھکائو تبدیل ہونے کے نتیجے میں ہار گئے۔ بہار میں 13فیصد مسلمانوں کے ووٹ ہیں اور متعصب ہندوئوں میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ 13فیصد مسلمانوں کو مار ڈالیں یا گجرات کی طرح قتل عام کرکے ٹھکانے لگادیں۔گجرات قتل عام میں مودی ساڑھے چار ہزار مسلمانوں کا ''شکار‘‘ کھیلنے کے بعد ہندو ووٹوں کو متحد کرکے بھارت کی راجیہ سبھا کے سب سے طاقت ور شخص بن گئے تھے لیکن گائے ذبح کرنے پر پابندی‘ مساجد پر حملے‘ حجاب کی بے حرمتی اور مسلم اداکاروں کو تنگ کرنے کی مہم نے مسلمانوں کو اتنا متحد کردیا کہ بھارت کے ہندو سیاسی رہنما بھی کہنے لگے کہ بھارت میں ایک نئے پاکستان کی بنیاد ڈال دی گئی ہے۔ گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کی وجہ سے امریکہ نے انہیں ویزا دینے سے بھی انکار کردیا تھا، شاید اسی لیے پاکستان آنے کا انہوں نے ویزامانگا ہی نہیں اور بغیر ویزا پاکستان آگئے۔
یہاں ''ملین ڈالر سوال‘‘ یہ ہے کہ کیا پاکستان کی مسلح افواج مودی کی اس چال کو نظر انداز کردے گی اورسول حکمرانوں کو اس بات کی اجازت دے گی کہ مودی صاحب ایک تیر سے دو تین شکار کرکے چلے جائیں؟ یقیناً پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے مودی کے حالیہ ''ہوائی دورے‘‘ کو گہری نظر سے دیکھاہوگا۔ مودی جی کی دوسری چھپی ہوئی آرزو یہی ہے کہ پاکستان بھارت کو واہگہ کا راستہ استعمال کرنے کی اجازت دے دے۔ لیکن جب تک بھارت پاکستان سے کشمیر سمیت بھارتی مسلمانوں کے خلاف جاری متعصبانہ پالیسیاں ختم اور کشمیر کا مسئلہ حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیںکرتا وہ پاکستانی سر زمین کس طرح اپنے کاروبار کے فروغ کے لیے استعمال کرسکتا ہے؟ بھارت اس وقت کروڑوں ناراض مسلمانوں کو کچھ دیے بغیر منانا چاہتا ہے اور وہ مسلمانوں کے ووٹوں کا بھی خواہش مند ہے تو کیا پاکستان کے''مختصرترین دورے‘‘ سے وہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا؟ اگر بھارت کو اس مقصد میں زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی تو کم از کم وہ مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے اتحاد کو'' نفسیاتی پینترے‘‘ سے روکنے کی کوشش ضرور کرے گا۔
لاہور میں نریندر مودی کی آمد کے پروگرام کے پس منظر کا بھانڈا ایک بڑے بھارتی تاجر نے یہ کہہ کر پھوڑا کہ انہیں مودی صاحب کی پاکستان آمد کا پہلے سے علم تھا اسی لیے بعض حلقے یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ یہ دورہ نہ سیاسی تھا اور نہ ہی مفاہمانہ بلکہ یہ ایک خالص کاروباری دورہ تھا اور پہلے سے طے شدہ تھا اور مودی صاحب میاں نواز شریف کی نواسی کو شادی کا تحفہ دینے کے لیے/80 70 ساڑھیاں دہلی سے لے کر ہی چلے تھے، یہ تمام انڈین ساڑھیاں کابل میں تو بننے سے رہیں۔ دورے کا واحد مقصد واہگہ کی راہداری حاصل کر کے بھارت کی تجارت سنٹرل ایشیا تک پہنچانا تھا۔ پاکستان میں مودی کے دورے کے اثرات آہستہ آہستہ ظاہر ہوں گے اور بھارت میں کوئی بڑی خبر یا مسلمان دشمنی کا واقعہ ان کے سر سری دورے کے سرسری اثرات پر پانی پھیر سکتا ہے، کیونکہ یہ ایک ایسا دورہ تھا جس کا نہ کوئی مقصد تھا اور نہ کچھ حاصل حصول! مودی صاحب یقیناً اس دورے کا پہلا فائدہ یہی حاصل کرنا چاہیں گے کہ بھارتی مسلمانوں کی بے چینی‘ ناراضی اور غصہ ختم ہوجائے کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے تھنک ٹینک کا یہ کہنا تھا کہ دہلی اور بہار میں مسلمانوں نے جس طرح متحد ہوکر بی جے پی کو ہرایا کہیں ان کی یہ سمجھ داری پورے ملک میں نہ پھیل جائے کیونکہ بہار میں کامیابی کے بعد مسلمانوں کے حوصلے بڑھ رہے ہیں اور وہ '' خود جیتو نہ دشمنوں کو جیتنے دو‘‘ کے نرالے فلسفے پر عمل کر رہے ہیں جس سے مودی کی پارٹی بہت خوف زدہ ہو گئی۔ مودی صاحب کا دوسرا ٹارگٹ واہگہ کا راستہ حاصل کرنا ہے اور یہ راہداری افواج پاکستان کی کلیئرنس اور سکیورٹی ضمانت کے بغیرممکن نہیں۔ 
آخری بات۔۔۔۔ ملک بھر میں یہ بحث بھی عام ہے کہ نریندر مودی سے میاںنواز شریف کی ملاقات کا ملک و قوم کو کیا فائدہ ہوا؟ بظاہر تو کچھ نظر نہیں آتا کیونکہ دونوں میں سے کسی بھی رہنما نے کوئی امید افزا بیان نہیں دیا۔ نریندر مودی نے پاکستان سے رخصت ہوتے ہوئے کہا کہ ''نواز شریف خود لینے اور چھوڑنے کے لیے ایئرپورٹ آئے، بہت اچھا لگا ‘مزہ دوبالا ہوگیا‘‘۔ اس ایک تبصرے سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اتنی اہم ملاقات اور موقع کا دونوں ملکوں کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس سے زیادہ ذہانت کی بات تو میاں نواز شریف کی والدہ نے مودی سے ملاقات کے موقع پر کہی۔ والدہ محترمہ نے کہا کہ ''دونوں مل کر رہوگے تو فائدے میں رہوگے‘‘۔ جو بات میاں نواز شریف کی والدہ نے دونوں رہنمائوں کو بطور مشورہ کہی، کاش وہ اس پر عمل کرلیں!

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں