"ISC" (space) message & send to 7575

زرداری کی پنجاب پر ’’یلغار‘‘…!!

آصف علی زرداری کمال کے آدمی ہیں۔ بے نظیربھٹو کی شہادت کے بعد اپنی خود اعتمادی کے سہارے انہوں نے نہ صرف پیپلزپارٹی کو سنبھالا دیا بلکہ اقتدار بھی حاصل کرلیا۔ جب پارٹی کے بیشتر رہنمائوں کے مشورے کے برخلاف انہوںنے یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم بنانے کا اعلان کیا توپارٹی کی اعلیٰ قیادت حیرت زدہ رہ گئی۔ان کی آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔سب انگشت بدنداں تھے کہ وزیراعظم امین فہیم کو بننا تھا۔ ان کی باری کوئی اور کیسے اور کیوں لے گیا؟کہتے ہیں کہ اس وقت سیاست کے'' معصوم ‘‘بلاول بھٹو بھی امین فہیم کے حامی تھے۔ اُن دنوں اخبارات میں یہ خبر بھی شائع ہوئی تھی کہ'' وزیراعظم کے نام کا اعلان بلاول بھٹو کریں گے ‘‘لیکن بلاول نے یوسف رضا گیلانی کے نام کا اعلان نہ کیابلکہ وہ خود اعلان سننے والوں میں شامل تھے۔
کئی لوگوں نے پوچھا یہ کیا معاملہ ہے کہ آصف زرداری پوراسندھ چھوڑ کر پنجاب سے وزیراعظم نکال لائے ؟تب کوئی نہیں جانتا تھا کہ زرداری کا اگلا گیم سندھ کے ایک سیاستدان (آصف علی زرداری) کو صدر مملکت بنانے کا تھا۔زرداری اس کھیل میں کچھ عرصہ مصروف رہیلابنگ کی ،ملاقاتیں ہوئیں۔آج کل عتاب کے شکار ایک لیڈر نے آصف زرداری کا نام بطور صدرمملکت تجویز کیا ۔کچھ عرصے بعد محلاتی سازشیں کامیاب ہوگئیں اور آصف زرداری صدر پاکستان بن گئے۔ اس وقت پارٹی کے سینئر رہنمائوں کو یہ سمجھ آیا کہ اگرامین فہیم کو وزیر اعظم بنادیا جاتا تو پھر سندھ کے آصف زرداری صدرمملکت نہیں بن سکتے تھے ۔بہت سوں کو اس وقت بھی یقین نہیں آیا تھا کہ آصف زرداری صدر مملکت بن گئے ہیں جبکہ کچھ کو آج تک یقین نہیں آرہاکہ ایسا ہوچکا ہے۔
زرداری صاحب نے مدت بھی پوری کی اور اپنی باری اپنی مرضی سے کھیلی لیکن کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ کتنا بھی بڑا کھلاڑی ہو ہر بال پر چھکا نہیں مار سکتا۔زرداری صاحب کہہ بیٹھے کہ ہم اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے لیکن لوگوں نے دیکھا کہ بہت ساری اینٹیں آج تک اُسی طرح آرام فرما ہیں اوران میں سے کسی ایک نے بھی بجنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔یہ بیان زرداری صاحب کیلئے ''جبری ویزہ‘‘ثابت ہوا اور وہ خو دساختہ جلا وطنی گزارنے طاقت کے سرچشمے عوام سے دور چلے گئے اور پھرجانے والے ''دیوتا‘‘ کی رخصتی کی مکمل تصدیق اور حالات کے بہائو کا بغور جائزہ لینے کے بعد وطن واپس تشریف لائے۔ اب کی بار انہوں نے اُن لوگوں سے ٹکر لینے کی کوشش تو دور خواہش بھی نہیں کی۔ جن کی طاقت لامحدود ہے اور جب ان کا جوابی وار ہوتا ہے تو بڑی بڑی طاقتور ہستیاں اُٹھتی جاتی ہیں۔
آصف علی زرداری نے اس بار ایک اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ ''شریفوں‘‘ کا نام و نشان مٹادیں گے۔ سمجھ نہیں آتا کہ آصف زرداری نے یہ بات کس گمان میں کہی ہے۔ یہ چھوٹی نہیں بہت بڑی بات ہے۔ انہوں نے سندھ کے بعد پنجاب کو اپنی ''اوطاق‘‘بنالیا ہے ۔جہاں آنے والا پی پی میں شمولیت اختیار کئے بغیر واپس نہیں جاتا۔وہ پنجاب میں بیٹھ کر بااثر لوگوں کو اپنے ساتھ ملا رہے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹونے بھی آخری وقت میں بڑے بڑے خاندانوں کو پیپلزپارٹی میں شامل کرلیا تھا اور الیکشن بھی جیت گئے تھیلیکن وہ عوام کا دل نہ جیت سکے اور 5جولائی آگئی، بھٹو کی حکومت ختم ہوگئی اور ملک میں مارشل لاء نافذ ہوگیاخیر یہ ایک الگ کہانی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زرداری صاحب آج کل سیاست کا کونسا نیادائو آزمارہے ہیں؟ سپریم کورٹ کے فیصلے نے آصف زرداری کیلئے ''پاورٹانک‘‘کا کام کیا اورفیصلے کے صرف 3 گھنٹے بعد انہوں نے پرہجوم پریس کانفرنس کی۔وہ نواز شریف سے استعفا مانگنے کا موقع فراہم کرنے والے عمران خان پر خوب گرجے اور برسے ۔سیاسی تجزیہ کار سوچ رہے ہیں کہ کیا واقعی آصف زرداری سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کی حکومت کو مضبوط کرنے میں عمران خان کا ہاتھ ہے یا پھر انہوں نے عمران خان کی مقبولیت میں سے ''ٹین پرسنٹ‘‘اپنے حصے میں ڈالنے کی کوشش کی ؟سیاسی حلقے ایک دوسرے سے سوالات کررہے ہیں کہ زرداری صاحب عمران خان سے کیوں پریشان ہیں؟کیا آصف زرداری یہ سمجھ رہے ہیں کہ عمران خان نے پیپلز پارٹی کا ''پنجابی ووٹ بینک ‘‘توڑا ہے ۔سیاسی حلقوں کا یہ بھی خیال ہے کہ آصف زرداری نواز شریف پر اس لئے شدید ترین تنقید کررہے ہیں کہ اس طرح وہ نواز شریف کے ناراض ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن سیاست کا المیہ یہ ہے کہ پنجاب کا اینٹی نواز شریف ووٹ عمران خان کے ساتھ چلا گیا ہے اور پیپلزپارٹی کیلئے پنجاب ''آسان میدان‘‘ نہیں رہا۔یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ سب کچھ ''آٹومیٹک‘‘ ہوا ہے یا بااثرحلقوں نے اپنی'' پلاننگ اور پاورز‘‘ دکھائے ہیں۔
اگر آصف علی زرداری پنجاب میں عمران خان کی پیش قدمی نہ روک سکے تو عمران خان کی قوت میں مزید اضافہ ہوگا۔سیاست کے ناقدین کا کہنا ہے کہ لیڈر دو قسم کے ہوتے ہیں ایک آزمائے ہوئے اور دوسرے بغیر آزمائے ہوئے۔ بغیر آزمائے ہوئے لیڈرکیلئے فضاء زیادہ سازگار ہوتی ہے۔اب عمران خان کو اپنا کمال دکھانا ہے کہ وہ حالات کو اپنے حق میں ڈھالتے ہیں یا موقع کا فائدہ اٹھانے کی بجائے اسلام آباد کے دھرنے والا رزلٹ لے کر واپس بنی گالہ چلے جاتے ہیں ۔یہ بھی دیکھنا ہے کہ زرداری صاحب کونسا ایسا کمال دکھاتے ہیں کہ شریفوں کا نام و نشان مٹ جائے اور پنجاب پکے ہوئے آم کی طرح زرداری صاحب کی گود میں آگرے۔ ابھی تو انہیں پنجاب کے میدانوں میں عابد شیر علی کی گرمی ء گفتار اوررانا ثناء اللہ کی '' بیانیہ گولہ باری‘‘کا مقابلہ بھی کرنا ہے جس میں اینٹ کا جواب پتھر سے دیناپڑے گا ۔یہاں ایک بار پھر ''اینٹ‘‘ کا ذکر آگیاہے لیکن یہ اینٹ سویلین ہے اور ممکن ہے کہ آصف زرداری یہ اینٹ بجانے میں کامیاب ہوجائیں۔

 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں