"IKC" (space) message & send to 7575

طاقت کا ڈیڈ لاک

تپش بڑھتی جارہی ہے،سیاسی محاذ گرم ہوچکا ،کوئی غیرمتوقع واقعہ رونماہونا عین امکانی ہے۔
رانا ثنا اللہ کی جانب سے جے آئی ٹی کے خلاف تحریک کے ہراول دستے میں شامل ہونے کا عزم دراصل عندیہ ہے۔ گو طلال چوہدری نے تفتیشی ٹیم کو'' قصائی کی دکان‘‘ کہنے پر معافی مانگ لی،مگر اُن تلخ الفاظ کی بازگشت اب بھی سنائی دیتی ہے۔ نہال ہاشمی سے متنازع تقریر پر، بطور سزا جو استعفیٰ طلب کیا گیا تھا، وہ استعفیٰ ہاشمی صاحب بڑی سہولت سے واپس لے چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کا بیان ''ایک خاندان پر انصاف کی بندوق تان لینا درست نہیں!‘‘اندیشوں کو بڑھاوا دیتا ہے۔ حسین نواز کی تصویرکا بھی ذکر ضروری، جسے ن لیگ نے اپنے حق میں استعمال کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ 
عمران خان، جو دھرنے سمیت اپنے بیش تیر سیاسی اقدامات میں ناکامی کے بعد اب فردوس عاشق اعوان اورنذر گوندل کی پی ٹی آئی میں شمولیت کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہیں،فی الحال مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔ طاہر القادری کو بھی پاکستان لوٹتے سمے اب انقلاب کے نعرے کی ضرورت نہیں ۔ دراصل لمحۂ حال میں یہ حکومت اور اپوزیشن کی جنگ نہیں۔ اور یہ امر صورت حال کو پُرپیچ بنا دیتا ہے۔ عدلیہ کی جانب سے حکمرانوںکا براہ راست احتساب اور وزیر اعظم کے صاحب زادوں سے پوچھ گچھ ایک روایت شکن اقدام ہے، جو فقط جمہوری دور میں ممکن۔ بے شک ماضی میں پیپلزپارٹی کے خلاف بھی کرپشن اور دیگر الزامات میں کڑی تحقیقات ہوئیں، بے نظیر بھٹو نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں(اُن کی پرانی تصاویر بھی موازنے کی خاطرآج کل سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں) آصف علی زرداری ایک طویل عرصے تک پابند سلاسل رہے، بھٹو صاحب کو پھانسی ہوئی۔اور یہ قربانیاں قابل تعریف ہیں، مگریہ اُس دورسے تعلق رکھتی ہیں، جب پی پی اپوزیشن میں تھی۔ اس کے برعکس حسین اور حسن نواز سے پوچھ گچھ اس زمانے میں ہورہی ہے، جب وفاق میں ن لیگ کی حکومت اورمیاں نواز شریف ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ یہ بات جہاں حکومت کے حواریوں اور حامیوں کے لیے بے چینی کا باعث، وہی اس کی وجہ سے ایک ڈیڈ لاک بھی پیدا ہوگیا ہے۔ 
عدلیہ، فوج اور پارلیمنٹ؛ ان تین اداروں کا استحکام اور باہمی تعلق ترقی کے لیے ضروری۔ اور اگر ان کے رشتے میں تنائو در آئے، تو بگاڑ کا جنم ہوتا ہے۔آج یہی تنائو حکومتی وزرا کے بیانات سے جھلکتا ہے۔اور اس تنائو سے اپوزیشن فائدہ اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے۔ بلاول بھٹو نے اپنے اِس اعلان کے لیے کہ'' اگر تصادم ہوا، توپیپلزپارٹی آئینی اداروں کا ساتھ دے گئی‘‘ پنجاب کا چنائو کیا۔ سیالکوٹ میں کھڑے ہو کر عمران خان کی جانب سے اپنی اسٹریٹ پاور کا تذکرہ بھی بے سبب نہیں۔ روایتی طرز سیاست اختیار کرنے پر وہ اپنے منشور سے ضرور بھٹک گئے ہیں،مگر یہ بھی ایک ڈھب پر تیاری ہی ہے کہ یہاں الیکشن میں روایتی سیاسی نسخے ہی کارگر ۔ ق لیگ بھی دھیرے دھیرے خود کواکٹھا کر رہی ہے۔ گو پرویز مشرف کی فوری آمد متوقع نہیں، مگر وہ ہمیشہ توباہر نہیں رہیں گے۔ ان کے لیے گنجائش پیدا کی جاسکتی ہے۔
ویسے اگر اس سیاسی منظر سے ہم جے آئی ٹی کو خارج کر دیں، تو اپوزیشن کی یہ ساری سرگرمیاں، یہ بیانات، اعلانات، کسی بڑے اتحاد کا امکان۔۔۔ سب بے معنی ہیں۔ گو لوڈشیڈنگ کی وجہ سے حکومت کی مقبولیت میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن اگر فوری انتخابات کا اعلان کر دیا جائے، تب بھی پلہ ن لیگ ہی کا بھاری ہوگا۔ ہاں،وہ اکثریت نہیں ملے گی، جو 2013 میں ملی تھی۔ اوراگر الیکشن وقت پر ہوں، تب بھی ن لیگ کے امکانات روشن۔ البتہ وزیر اعظم کے صاحب زادوں کی مسلسل پیشی، حکومتی وزرا کے سخت بیانات اور اداروں کے درمیان بڑھتے تنائو کی وجہ سے امور حکومت میں تعطل یا خلل کا جوتصور ابھررہا ہے، موجودہ حالات میںوہ پریشان کن ہے کہ خطۂ عرب مزید تقسیم ہونے کو ہے،ایران تازہ تازہ ایک بڑے دہشت گرد حملے کا شکار بنا ہے،پاک افغان رشتے میں اعتماد کی کمی ہے،اوربھارت سے تعلقات استوار کرنے کی کوششوں کومزاحمت کا سامنا ہے۔ ایسے میںامور حکومت میں کسی بھی قسم کارخنہ ، چاہے اُس کے پیچھے نیک نیتی ہی کیوں نہ ہو،انتشار کا سبب بن سکتا ہے۔ 
روسی صدرولادیمیر پوتن کی سوانح عمری ''مردآہن‘‘ میں، جس کا ترجمہ ڈاکٹر نجم السحر بٹ نے براہ راست روسی سے کیا، ایک واقعہ درج ، جو سوویت یونین کے زوال پر روشنی ڈالتا ہے۔ یہ پوتن کی ''کے جی بی‘‘ کے شعبۂ سراغ رسانی سے وابستگی کا زمانہ تھا۔وہ بہ طور سینئر آپریشن آفیسر مشرقی جرمنی میں تعینات تھے۔وہاںحالات تیزی سے بدل رہے تھے۔ دیوار برلن گرائے جانے کا واقعہ قریب آتاجارہا تھا۔ پوتن نے اُن دنوں کو یوں یاد کیا:'' قومی سلامتی کے ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگے۔۔۔جرمن عوام ان کے زیر کنٹرول زندگی سے اکتا گئے تھے۔۔۔ سوویت یونین کے مانند وہاں تیس سال سے شخصی نظام حکومت قائم تھا۔‘‘جب جرمنوں نے وزارت امور قومی سلامتی کی عمارت پر دھاوا بولا، تو اس بلڈنگ کا بھی رخ کیا، جہاں پوتن اور ان کے ساتھی کئی اہم دستاویزات کے ساتھ موجود تھے۔ پوتن نے مظاہرین سے مذاکرات کرنے کی کوشش کی، مگر ہجوم کا رویہ جارحانہ تھا۔ جرمنی میںتعینات سوویت فوج کے دستے سے رابطہ کیا گیا ۔جواب ملا: ''ہم ماسکو سے ہدایت لیے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، اور ماسکو خاموش ہے!‘‘ مجمع تو کچھ دیر بعد منتشرہوگیا، مگر پوتن کے بہ قول : ''ماسکو خاموش ہے، یہ الفاظ سن کر مجھے ایسا محسوس ہوا، جیسے ہمارا ملک ختم ہوگیا، یہ بات واضح ہوگئی کہ سوویت یونین بیمار ہے ، اور اس جان لیوا بیماری کا نام ہے: طاقت کا تعطل، حکومت کرنے کی طاقت کا تعطل۔‘‘
یاد رکھیں، تحریک انصاف کے کسی نئے دھرنے سے شارع دستور تو متاثر ہوسکتی ہے، آس پاس بسنے والوں کے معمولات زندگی میں بھی خلل آسکتا ہے، لیکن اگر حکومت خوداحتجاج کی راہ پر چل پڑی، کوئی تحریک شروع کر دی،90 کی دہائی کے مانند ادارے آمنے سامنے آن کھڑے ہوئے، تو موجودہ حالات میں، جب ملک اندرونی و بیرونی خطرات سے دو چار ، طاقت کا ڈیڈ لاک پیدا ہوجائے، جو سسٹم کے لیے مضر ثابت ہوگا۔ حکومت مخالفین تصادم کی آس لگائے بیٹھے ہیں، اپوزیشن بھی تیاریوں میں جٹی ہے، اس تنائو میںکوئی غیرمتوقع واقعہ رونماہونا عین امکانی ہے۔اورایسے میںنظریں وزیر اعظم پر ٹکی ہیں۔ میاں نواز شریف اپنے سیاسی تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے حالیہ برسوں میں کئی بحرانوں سے نکل چکے ہیں۔ وہ تحمل اور تدبیر کے ساتھ اس بحران سے نکلنے کا راستہ بھی تلاش کرسکتے ہیں۔ آستانہ میں ان کی پوتن سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔ ممکن ہے، سی پیک میں دلچسپی رکھنے والے روسی صدر کے پاس کوئی کارآمد مشورہ ہو۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں