عبداللہ حسین کے دو جملے میرے ذہن پر نقش ہیں۔
پہلا: ناول کا اصل امتحان وقت ہے۔ اور دوسرا: انسان خوبیوں اور خامیوں کے مجموعے کا نام ہے۔یہ جملے دسمبر کی ایک سہ پہرکراچی میں ہونے والے طویل مکالمے کی دین ہیں۔ ناول اور وقت کے اٹوٹ رشتے پر پھر کبھی بات ہوگی، آج توجہ کا محورعبداللہ حسین کا انسان ہے، جو فرشتہ نہیں ، جس میں اگرچند خوبیاں ہیں، تو کچھ خامیاں بھی ہیں۔ ''اداس نسلیں‘‘ جیسے شاہ کار کے خالق اس قد آور ادیب نے جو کردار تراشے، اُن میں بھی ہمیں یہ حقیقت پسندانہ رنگ دکھائی دیتا ہے۔ زندگی کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے اچھے برے افراد میں آپ کو یہ دونوں رخ ملیں گے۔یہی معاملہ سیاست کاہے۔
جب یہ تحریر آپ تک پہنچے گی، شہر قائد کا سیاسی دنگل ختم ہوچکا ہوگا، اور شہر اقتدار میںایک نیا دنگل شروع ہونے والا ہوگا۔ کراچی کے حلقے پی ایس 114 کے ضمنی انتخابات کو جو توجہ ملی، اُسے میڈیا کی کلاکاری ٹھہرانا درست نہیں۔سچ تو یہ ہے کہ پی پی پی، ایم کیو ایم، ن لیگ اور پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے بہترین اور بااثر امیدوار میدان میں اتارے گئے، اور حلقے کوبھرپور توجہ دی گئی، کیوں کہ حلقے کے نتائج شہر کے سیاسی مستقبل کا تعین کرسکتے ہیں۔ الطاف حسین سے الگ ہونے کے بعد فاروق ستار کے لیے خود کو منوانے اور عوامی حمایت ثابت کرنے کا یہ سنہری موقع تھا۔ پی پی پی نے سعید غنی کی صورت ایک حقیقی سیاسی کارکن میدان میں اتارا۔ گو پی ٹی آئی کے جلسے اتنے متاثر کن نہیں تھے، مگر اُن کی جانب سے بھی پوری قوت صرف کی گئی۔ یہی معاملہ ن لیگ کا تھا۔
تو شہر قائد کافیصلہ آچکا ، اوراب شہر اقتدار میں۔۔۔ جہاں گذشتہ ہفتے مریم نواز کی پیشی نے خاصی خبریں بٹوریں، پھر گہما گہمی ہے۔ اور سبب ہے جے آئی ٹی ، جس کی رپورٹ کا پیش ہونا کہانی کا اختتام تو نہیںہوگا، مگر اہم ترین موڑ ضرور ٹھہرے گا۔ وہ جے آئی ٹی، جس کی تشکیل پر ن لیگ نے مٹھائی تقسیم کی ، کچھ ہی عرصے بعد حکومت کے لیے درد سر بن گئی۔ سرکار سخت دبائو میں تھی۔ وزرا کا لہجہ تلخ ہوگیا۔ سازشوں کا ذکر ہونے لگا۔ بہت شور مچا۔ رپورٹ پیش ہونے کے بعد ملکی سیاست پرچھائی دھندچھٹ جائے گی، اور حکومت کرنے کے عمل میں پیدا ہونے والا ڈیڈلاک ختم ہوجائے گا۔
عمران خان ، جومستقبل میں وزیر اعظم کو اڈیالہ جیل میں دیکھ رہے ہیں،یا دیکھنے کے خواہش مند ہیں، گذشتہ دنوں یہ کہتے دکھائی دیے کہ ن لیگ کا کھیل ختم ہوگیا ہے۔ ادھر میاں نواز شریف نے حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ کی تقریب میں مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اُنھیں بزدل قرار دیا، اور چیلنج کیا کہ اگر وہ باہمت ہیں، تو میدان میں آ کر مقابلہ کریں۔ن لیگ کی پالیسیوں سے اختلاف رکھنے کے باوجود میاں نواز شریف کے اِس موقف سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا تھا کہ جمہوریت میں فیصلہ ووٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی کو ن لیگ پر برتری ثابت کرنے کے لیے اُسے الیکشن میں شکست دینی ہوگی۔ پاناما کیس میں جو بھی فیصلہ آئے، چاہے وزیر اعظم کو مسند چھوڑنی پڑے، چاہے وہ اس بحران سے نکل آئیں۔۔۔ دونوں صورتوں میں عمران خان کواصل جنگ اگلے انتخابات میں لڑنی ہے۔ گو کچھ سینئر تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ انتخابات وقت سے پہلے ہوں گے، مگر زرداری صاحب کا تجزیہ زیادہ درست معلوم ہوتا ہے کہ ن لیگ سینیٹ کے انتخابات کے بعد ہی عام انتخابات کروائے گی۔
سیاست شطرنج کی بساط کے مانند ہے۔ مات سے پہلے کھیل ختم نہیں ہوتا۔ ایک چال غلط ہوجائے، تو اگلی چال سے تلافی کی جاسکتی ہے۔ مریم نواز کی پیشی کو مستقبل میں اُن کی سیاسی لانچنگ کے طور پر استعمال کیا جانا امکانی ہے۔ اب اُنھیں بلاول بھٹو کی طرح متعدد بار لانچ کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ ادھر اگر شریف خاندان پر کوئی الزام ثابت ہوتا ہے، توالیکشن مہم میں وہ پی پی کے ڈھب پر اُن زخموں کو ستارے بنانے کا نسخہ کامیابی سے استعمال کرسکتے ہیں۔ البتہ ہمیں فکر پی ٹی آئی ، بالخصوص عمران خان کی زیادہ ہے۔
خان کی سیاست کے ہم ناقد ۔ اور اس کا بڑا سبب وہ طویل دھرنا ، جہاں اپنی یومیہ تقاریر میں وہ پریشان کن حد تک خود کو دہراتے نظر آئے تھے۔ اس دھرنے سے جمہوریت جن خطرات سے دوچار ہوئی،اُنھوں نے خان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ آج بھی امپائر کی انگلی سمت اُس زمانے کے بیانات پر لطیفے گھڑے جاتے ہیں۔ حکومت کے خلاف جو کیس دائر کیے، اُن میں ثبوتوں کے نام پر اخبارا ت کے تراشے اور کتابوں کے اقتباسات پیش کیے گئے۔ تبدیلی کا علم بردار ہونے کا دعویٰ تھا، مگر روایتی سیاست داں پارٹی میں شامل ہوتے رہے۔ دوسروں کے پروٹوکول پر اعتراض کرنے والے عمران خان خود خیبر پختون خوا میں سرکاری پروٹوکول لیتے رہے۔ دس ارب کی پیش کش جیسے بیانات داغے۔باقی راہ نمائوں نے بھی اِس بگاڑ میں حصہ ڈالا۔ پی ٹی آئی ترجمان نے بنا کسی تحقیق ٹوئٹس کیے، اُس کی نوجوان قیادت نے کراچی کی شارع فیصل بند کرکے عوام کی نظروں میں خود کو ناپسندیدہ بنا لیا۔
ان تمام پہلوئوں پر نظر ڈالی جائے، تو ایک منفی تصویر ابھرتی ہے۔ ہمیں عمران خان ایک غیرمحتاط، بے لچک سیاست داں کے روپ میں نظر آتے ہیں، جس کا اکلوتا مقصد مسند اقتدار تک پہنچا ہے۔مگر کیا یہ تصویر حقیقی ہے؟ کہیں یہ سکے کا ایک رخ تو نہیں ؟ کیا عبداللہ حسین کا بیان آفاقی حقیقت نہیں کہ انسان دراصل خوبیوں خامیوں کے مجموعے کا نام ہے؟ آج پاکستانی سیاست میں ایسے کئی مثبت ٹرینڈز ہیں، جن کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے۔پہلا کارنامہ پاکستان کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو سیاست کی سمت مائل کرنا اور اپنے ووٹ کی طاقت کا احساس دلانا ہے۔ یہ ان کی کرشماتی شخصیت اور ولولہ انگیز قیادت تھی کہ اُن کے حامی تین ماہ سے زائد عرصے تک دھرنے پر بیٹھے موسم کی شدت برداشت کرتے رہے۔ پھر70 کی دہائی کے بعد پاکستان میں کوئی وفاقی سیاسی جماعت نہیں ابھری تھی۔ اقتدار کبھی پی پی کے پاس ہوتا، کبھی ن لیگ کے پاس، عمران خان نے اپنی طویل جدوجہد سے پی ٹی آئی کو ایک وفاقی جماعت بنا یا۔ یہ اُن کا دوسرا کارنامہ تھا۔آج پی ٹی آئی کا ووٹ بینک پورے پاکستان میں ہے۔ پاناما کیس ایک بین الاقوامی اسکینڈل ہے، جس کی وجہ سے کئی ممالک میں کارروائیاں ہوئیں۔ اگر عمران خان نہ ہوتے، تو پاناما کیس پاکستانی سیاست میں ہل چل مچائے بغیر ماضی میں دفن ہو جاتا۔حالیہ تحقیقات کا سہرا اُنھیں بھی جاتا ہے۔ اُنھوں نے دھاندلی کا ایشو اٹھایا، جو پاکستانی سیاست کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ شوکت خانم کے لیے تو الگ دفتر درکار۔ الغرض جہاں خان کی سیاست پر ہم تنقید کرسکتے ہیں، وہیں اُن کی تعریف کے بھی ہمارے پاس کئی اسباب ۔ بے شک انسان خوبیوں، خامیوں کے مجموعے کا نام ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ کپتان اپنی خوبیوں کو ابھاریں۔جے آئی ٹی کی وجہ سے آج توپوں کا رخ ن لیگ کی طرف ہے۔ قوم کی یادداشت یوں بھی کمزور، پی ٹی آئی کے غلط فیصلے آئندہ انتخابات تک ووٹرز کے ذہنوں سے محو ہوسکتے ہیں، بہ شرطے کہ یہ جماعت آنے والے دنوں میں درست فیصلے کرے۔ سوچتا ہوں، اگرآج معراج محمد خاں زندہ ہوتے، توکپتان کوکیامشورہ دیتے۔ شاید وہ مشورہ الزامات اور انتخابات کے بجائے نظریات کی سیاست کرنے کا ہوتا۔