"IKC" (space) message & send to 7575

لانگ مارچ کی رات

آنکھوں میں کچھ تذبذب ہے، کچھ سوال بھی۔
کیا منتخب وزیر اعظم کو نااہل قرار دینا اتنا سادہ تھا؟ کیا 28 جولائی کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے لیے میاں صاحب کو ایک ایسے الزام میں، جس کا ذکر اُن کے خلاف دائر درخواستوں میں نہیں تھا، جس کی تفتیش کی ذمے داری جے آئی ٹی کو نہیں سونپی گئی، گھر بھیجنا اتنا سہل تھا؟
اِس سادہ، مگر اہم سوال کے جواب کے لیے آپ کو ماضی میں جانا ہوگا،12 مارچ 2009کی صبح تک رسائی پانی ہوگی، جب اُس چیف جسٹس کی بحالی کے لیے، جس نے 9 مارچ 2007کو( جمعے ہی کے دن) باوردی صدر کے سامنے حرف انکار کہا تھا۔۔۔وکلا تنظیموں نے اسلام آباد تک لانگ مارچ کا آغاز کیا ۔ جسٹس افتخار چوہدری، جن کی سیاسی جماعت کے نام سے آج پاکستان کی اکثریت ناواقف ہے، جن کا انتخا بی سیاست میں کوئی مستقبل دکھائی نہیںدیتا، اُس وقت Agent of Change کہلاتے تھے۔ اُنھوں نے ایک ایسی تبدیلی کا پہیا چلایا، جو اس وقت غیرامکانی تھی۔ 
وہ پاکستان کی تاریخ کا اہم موڑ تھا۔ پرویز مشرف نے استعفیٰ طلب کیا ۔ افتخار چوہدری نے،جو مشرف کے پہلے پی سی او کے تحت حلف اٹھاچکے تھے،انکار کر دیا۔ صدرنے اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں انھیں معطل کرکے ریفرنس سپریم کورٹ بھیج دیا۔حکومت کی ناراضی کاسبب اُن کے ازخود نوٹس، اسٹیل مل کی نجکاری کو کالعدم قرار دینااور وزیر اعظم شوکت عزیز کی دہری شہریت کیس کی سماعت تھی۔ اور یوں وہ پاکستانی تاریخ میں معطل ہونے والے پہلے چیف جسٹس بن گئے۔اِس اقدام کا ردعمل حکومتی توقعات کے برخلاف آیا۔ایک احتجاجی تحریک سر اٹھانے لگی۔وکلا برادری کی تحریک کو سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی حمایت بھی حاصل تھی۔جلد یہ پورے ملک میں پھیل گئی۔پرویز مشرف کی مضبوط حکومت میںپہلا
شگاف پڑ گیاتھا۔ دوسرا شگاف اس وقت پڑا، جب 20 جولائی9 200 کو عدالت نے چیف جسٹس کوبحال کر کے صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دے دیا۔ افتخار چوہدری آرمی چیف سے اختلافات کے باوجود پوری شان سے اپنے عہدے پر لوٹ آئے۔ عدلیہ کا وقار بحال ہوا۔ وکلا برادری اور سول سوسائٹی مضبوط ہوئی۔ سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئیں۔ اب جوڈیشل ایکٹوازم اور سوموٹوایکشن حکومت کے لیے پریشانی پیداکرنے لگے تھے۔آپ کو یاد ہوگا، سپریم کورٹ کا بنچ جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں پرویز مشرف کیس کی سماعت کر رہا تھا۔ فیصلہ حکومت کے خلاف آنے کا امکان تھا۔ اورایسے میں 3 نومبر 2007کو ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ عدلیہ اتنی مضبوط تھی کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک بینچ نے ایمرجنسی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ پرویز مشرف کا دوسرا پی سی او آگیا۔(یہ سہولت صرف آمروں کو حاصل ہے کہ عدلیہ سے مخالف فیصلہ آنے کا خطرہ ہو، تو پی سی اوجاری کر دیا جائے)حکومت کا موقف تھا، چیف جسٹس سمیت حلف نہ لینے والے جج برطرف ہوچکے ہیں۔ وکلا تحریک کے دوسرے فیز کا آغاز ہوا، جو پہلے سے زیادہ پرقوت تھا۔پی پی پی اور ن لیگ جیسی جماعتیں ساتھ تھیں۔ میڈیا کا وزن افتخار چوہدری کے پلڑے میں تھا۔ بے نظیر بھٹو چیف جسٹس کے گھر پر پاکستان کا جھنڈا لہرانے کا عہد کر چکی تھیں۔ 
مشرف کے خلاف متحدہونے والے میاں نواز شریف اور آصف علی زرادی میں بظاہر ججز کی بحالی پر اتفاق تھا، مگر حقیقتاً ایسا نہیں تھا۔ پی پی محتاط تھی۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے 24 مارچ 2008کو نظر بند ججز کی رہائی کاتو اعلان کیا، مگر افتخار چوہدری اور دیگر جج بحال نہیں ہوئے۔آصف علی زرداری اور نواز شریف کے درمیان ملاقاتیں ہوئیں، معاہدے ہوئے، یہاں تک کہ پرویز مشرف، جو اِس تحریک کی وجہ سے خاصے کمزور ہوچکے تھے، رخصت ہوئے، لیکن جج بحال نہیں ہوئے۔ اور یوں عدلیہ بحالی تحریک کا تیسرا اور نتیجہ کن فیز شروع ہوا، جس کا اوج12 مارچ 2009کا لانگ مارچ تھا، جس کی قیادت کرنے والوں میں میاں نواز شریف بھی شامل تھے۔ جی ہاں، پنجاب نے اِس مارچ کوحقیقی قوت فراہم کی۔ باقی صوبے تو دفعہ 144 کی زد میں تھے،شاہ راہیں بند کر دی گئیں، وکلارہنما، سیاسی کارکن اور سول سوسائٹی کے نمائندے زیر حراست تھے۔ اگر اُس رات میاں صاحب نہ ہوتے، توشاید حالات یکسر مختلف ہوتے۔ شاید پنجاب کی بیوروکریسی اور پولیس وفاق کا حکم ماننے سے انکار نہ کرتی،شاید اس رات لانگ مارچ رکاوٹیں عبورنہ کر پاتا، شاید حکومت اُس دبائو کا شکار نہ ہوتی، جس کے نتیجے میں افتخار چوہدری بحال ہوئے۔ 16 مارچ کی صبح وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کیا۔ 21 مارچ کو افتخار چوہدری نے عہدہ سنبھال لیا،دیگر جج بھی بحال ہوگئے۔ 
کچھ آنکھوں میں تذبذب ہے، کچھ میں سوال، کیا منتخب وزیر اعظم کو نااہل قرار دینا اتنا سہل تھا؟ اِس کا جواب چیف جسٹس بحالی تحریک میںپنہاں ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کی مضبوط ترین عدلیہ کا جنم لیا، جو مستقبل میں لاپتا افراد سمیت چند حساس کیسوں کی سماعت کرنے والی تھی۔ 31 جولائی 2009 کو مشرف کی ایمرجنسی غیرآئینی قرار دیتے ہوئے اسلام آباد کورٹ کو ختم اور پی سی او ججز کو(سپریم کورٹ کے 10ہائی کورٹس کے 93) فارغ کرنے والی تھی۔اوریہی عدلیہ 19 جون 2012 کو پاکستان کے 24 ویں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو( وہی وزیر اعظم جس نے کچھ برس قبل ججز کی بحالی کا اعلان کیا تھا) توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کرگھر بھیجنے والی تھی۔اور اب28 جولائی 2017کو عدلیہ نے میاں صاحب کو نااہل قرار دے دیا۔
اِس فیصلے کو کچھ تجزیہ کار عمران خان کی فتح قرار دیتے ہیں۔ وہ غلط نہیں۔ کپتان نے اِس ایشو کو زندہ رکھنے کے لیے بہت زور مارا۔اچھا، کچھ کا خیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کوطاقتور وزیر اعظم قبول نہیں تھا۔ اِس موقف کے حق میں بھی خاصے دلائل ۔دیکھ لیجیے،70 برس میں پاکستان کاکوئی وزیر اعظم آئینی مدت پوری نہیں کرسکا ۔ جمہوریت کے خلاف سازشوں کا بھی ذکر ہوتا ہے،اور قابل فہم ہے ۔ پاکستان کے دو وزرائے اعظم کو پنڈی کے ایک ہی پارک میں قتل کیا گیا، شہیدسہروردی پاکستان کے پہلے آمر کے دور میں بیروت میں پراسرار حالات میں مردہ پائے گئے، ذوالفقار علی بھٹو کو معزول کرکے پھانسی پر چڑھادیا گیا ۔ہاں، آپ حکومتی مشیروں کو بھی مورد الزام ٹھہراسکتے ہیں، مگر راقم الحروف کے نزدیک ۔۔۔28 اگست کے فیصلے کے پیچھے، دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ وہ طاقت بھی کارفرما تھی، جو ایک تاریخی لانگ مارچ کی عطا تھی۔ لانگ مارچ، جس کا ن لیگ حصہ تھی۔ جس کے نتیجے میںایک نئی عدلیہ سامنے آئی۔
ابھی پاناما کیس کا فیصلہ آیا ہے، معاملہ ختم نہیں ہوا۔ مزید تفتیش ، مزید اقدامات ہوں گے۔ادھرسی پیک جیسا میگاپراجیکٹ جاری ہے۔ بڑے فیصلے متوقع ہیں۔ آنے والے دن تجزیوں، تبصروں اور پیش گوئیوں کے لیے سازگار ہیں۔ اگر سازشی نظریات طاق پر رکھ کراِس نقطۂ نگاہ سے فیصلے کو سراہا جائے کہ پاکستان میں پہلی بار حکمرانوںکا براہ راست احتساب ہوا ہے،تو پھریہ مطالبہ بھی بڑا منطقی ہے کہ عدلیہ نہ صرف باقی سیاست دانوں کی بدعنوانیوں کی پکڑ کرے، بلکہ دائرہ وسیع کرے۔اصغر خان، ارسلان افتخار اور پرویز مشرف کیس منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے یہ بہترین موقع ہے۔اور یہی اعتراضات کوختم کرنے کا تیربہ ہدف نسخہ بھی ہے۔ورنہ مستقبل میں کوئی سیاسی جماعت کسی لانگ مارچ کی حمایت نہیں کرے گی۔

 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں