"IKC" (space) message & send to 7575

آمریت: ترقی کا تیر بہ ہدف نسخہ؟

کل تک ہم تاریکیوں میں بھٹک رہے تھے۔
بے خبر، لاعلم تھے۔ مطالعہ اور مشقت؛ دونوں ہی سے کچھ کشید نہ کیا۔ ہم تو یقین کیے بیٹھے تھے کہ ناخواندگی، ناانصافی، غربت، عدم تحفظ اور سہولیات کا فقدان اِس ملک کے بنیادی المیے ہیں۔ اصرار تھا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ جمہوریت بہترین نظام ہے، اور ووٹ تبدیلی کا اکلوتا ذریعہ۔
شاید باقی ماندہ زندگی بھی انہی روکھے پھیکے نظریات کی ترویج میں گزار دیتے، اگر عزت مآب پرویز مشرف یہ انکشاف نہ کرتے کہ یہ سویلین حکومتیں تھیں، جنھوں نے ملک کا بیڑہ غرق کیا، آمروں نے تو ہمیشہ اِسے ترقی کی راہ پر گام زن کیا ہے۔ یعنی آمریت ترقی کا تیر بہ ہدف نسخہ۔۔۔ شاید ہم ہمیشہ 'آئین مقدس ہے، پارلیمنٹ کے سامنے سب جواب دہ ہیں‘ جیسے فرسودہ خیالات کی گردان کرتے رہتے، اگر سابق صدر کے یہ فکر انگیز خیالات ہم تک نہ پہنچتے کہ قوم کو بچانے کے لیے آئین کو تھوڑا سا نظر انداز کیا جا سکتا ہے، اور یہ کہ ملک میں جب بھی مارشل لا لگا، اُس وقت حالات کا تقاضا یہی تھا۔
جناب، ہم اپنی لاعلمی کا اعتراف کرتے ہیں۔ البتہ یہ سوال ہمارے ذہن میں ضرور کلبلاتا ہے کہ اگر پرویز مشرف آمریت کے حامی ہیں، تو پھر ایک سیاسی جماعت کیوں بنائے بیٹھے ہیں؟ کہیں اُن کی سیاسی جدوجہد کا مقصد آمریت کی بحالی تو نہیں؟ ان کا یہ کہنا کہ فوج ملک کو پٹڑی پر لاتی ہے، مگر سویلین آ کر اُسے پٹڑی سے اتار دیتے ہیں۔۔۔ ہمیں تھوڑا ستاتا ہے۔ سوچتے ہیں، پھر انھوں نے اپنے دور میں اِن سویلینز کو دوبارہ قدم جمانے کا موقع ہی کیوں دیا؟ کیوں ق لیگ بنائی، ایم کیو ایم کو ساتھ ملایا، پی پی میں فارورڈ بلاک بنوایا؟ کیوں این آر او کرکے سویلینز کو اس ملک کو پٹڑی سے اتارنے کا موقع فراہم کیا؟ پھر یہ سوچ کر چپ ہو جاتے ہیں کہ شاید خود اُنھیں اِن باتوں کا ادراک اب ہوا ہو۔ شاید دبئی میں، پاکستان کے جھمیلوں سے دور غور و فکر کا موقع ہاتھ لگا ہو۔ حقیقت تک رسائی پا لی ہو۔
ویسے آمریت نے ہمیں کچھ اور نہ دیا ہو، مگر وہ سیاست دان ضرور دیے، جن کی حکومتوں کا تختہ مستقبل میں آنے والے آمر الٹنے والے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور میاں صاحب اس کی نمایاں مثال ہیں۔ خیر، یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ ہم بات کر رہے تھے جناب پرویز مشرف کی، جن کے دشمن بھی اُن کی مقبولیت سے انکار نہیں کر سکتے۔ چترال کا تو وہ خود کئی بار تذکرہ کر چکے ہیں، کراچی کی گواہی ہم دیتے تھے۔ ایک واقعہ سن لیجیے:
برسوں قبل، جب اُنھوں نے تازہ تازہ بلدیاتی نظام متعارف کروایا تھا، ایک شام جامعہ کراچی کے شعبۂ ابلاغ عامہ کے ایک استاد پاکستان کی تاریخ پڑھاتے پڑھاتے آمروں پر تنقید کرنے لگے۔ طلبا نے باقی آمروں پر اٹھائے جانے والے اعتراضات تو سہہ لیے، مگر جونہی پرویز مشرف کا تذکرہ آیا، ماحول بدلنے لگا۔ پہلے ایک کونے سے اُن کے حق میں آواز اُٹھی، پھر دوسرے کونے سے۔ پروفیسر صاحب، تعلق جن کا جماعت اسلامی سے تھا، ابتدا میں تو دلیل اور منطق سے جواب دیتے رہے، مگر آخر میں یہ کہہ کر اٹھے کہ جب مستقبل کے صحافی ہی آمریت کے حق میں سینہ سپر ہو جائیں، تو ملک کا اللہ ہی حافظ۔ یاد آیا۔۔۔ جب سابق صدر ''اب اِس ملک کا اللہ ہی حافظ‘‘ کہتے ہوئے کرسی چھوڑ کر بیرون ملک گئے تھے، تب کراچی میں بڑی مایوسی پائی جاتی تھی۔ شہرِ قائد کو اُن سے بڑی امیدیں تھیں۔ وقفے وقفے سے بازگشت سنائی دیتی کہ وہ لوٹ رہے ہیں۔ تازہ واقعہ سنیے، جب پاناما کیس نیا نیا تھا، اور میاں صاحب بیرون ملک جا رہے تھے، تو ایک بزرگ ہم سے کہنے لگے: ''ادھر میاں صاحب جائیں گے، ادھر پرویز مشرف آ جائیں گے۔ لکھ لو!‘‘
ویسے اس فکر کا ایک مضبوط پس منظر ہے۔ جب ممتاز امریکی مورخ اور فلسفی ول ڈیورانٹ نے اپنی کتاب The Greatest Minds and Ideas of All Time میں سورمائوں کی پرستش کا تصور پیش کیا، تو اُس کا مطمح نظر انکساری کے ساتھ ماضی کے عظیم ذہنوں کو خراج تحسین پیش کرنا تھا۔ البتہ ترقی پذیر ممالک میں سورمائوں کی پرستش کا تصور بڑا سادہ ہے۔ یہاں فوجی سربراہان کو نجات دہندہ کے روپ میں دیکھا جاتا ہے۔ ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اُن کی تصاویر ٹرکوں پر پینٹ کی جاتی ہیں، گاڑیوں پر لگائی جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ الیکشن میں سیاسی جماعتوں کے بینرز پر بھی دکھائی دیتی ہیں۔ بد گمان نہ ہوں۔ یہ فقط عوام کی محبت ہے۔ ایوب خان سے راحیل شریف تک؛ اس محبت میں چنداں کمی نہیں آئی، گو کچھ شاعروں، ادیبوں اور دانشوروں نے خاصا زور مارا۔ چاہے آپ اس محبت کو المیہ ٹھہرائیں، مگر ہے یہ حقیقت۔ ہم تھوڑی آمریت پسند قوم ہیں، اور سبب ہیں، ہماری محرومیاں، ناخواندگی، ناانصافی، غریت، عدم تحفظ (لیجیے، ہم پھر وہی راگ الاپنے لگے) خیر، تو یہاں جمہوری حکومتوں کے خاتمے پر مٹھائی تقسیم کرنا رسم ہے۔ پرویز مشرف فرماتے ہیں: ''عوام خود فوج کے پاس بھاگ کر آتے ہیں کہ ہماری جان چھڑائیں‘‘۔ ہم اُن کی تائید کرتے ہیں۔ البتہ یہ پوچھنے کی جسارت کرنا چاہیں گے کہ جب آمر دس دس سال اقتدار میں رہتے ہیں، تب اگر کچھ سر پھرے اُن سے جان چھڑانا چاہیں، تو کدھر جائیں۔
پرویز مشرف کا یہ انٹرویو سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث ہے۔ چند لوگ حق میں ہیں، اکثریت مخالفت میں۔ اور جو مخالفین ہیں، وہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ صاحب کب ترقی ہوئی آمریت میں، کہاں ترقی ہوئی، الٹا نقصان ہوا۔ جنرل یحییٰ خان کے دور میں ہم مشرقی پاکستان سے محروم ہوئے۔ جنرل ضیا کے دور میں سیاچن نکل گیا۔ ادھر فیروز خان نون کے زمانے میں گوادر پاکستان میں شامل ہوا تھا، بھٹو نے 71ء کی جنگ کے بعد شملہ معاہدے کے تحت کئی ہزار کلومیٹر رقبہ بھارت سے واپس لیا تھا وغیرہ وغیرہ۔ البتہ اس موضوع کو پھر کبھی کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ ہر سابق حکمران کی طرح پرویز مشرف یہ یقین کیے بیٹھے ہیں کہ عوام کے دل آج بھی اُن کے لیے دھڑکتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ موجودہ سیاست میں غیرمتعلقہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اور سیاست میں غیر متعلقہ ہونے سے بڑا کوئی المیہ نہیں۔ پیپلز پارٹی پر نظر ڈالیے۔ کیسے کیسے قد آور لوگ اس سے الگ ہوئے، اپنی پارٹی بنائی، اور گمنامی کے اندھیروں میں گم ہو گئے۔ ہاں، اگر کوئی فیصلہ ساز قوت آپ کو اندھیروں سے باہر نکالنے کا فیصلہ کر چکی ہو، تو الگ بات ہے۔ کیا مولانا فضل الرحمان یہ کہتے ہوئے کہ ''ملک میں فضا بنائی جا رہی ہے کہ آمریت جمہوریت سے بہتر ہے‘‘ اِسی جانب اشارہ کر رہے تھے؟ ویسے راقم الحروف کے نزدیک یہ فضا بنانے کی ضرورت نہیں۔ سورمائوں کی پرستش ہماری معاشرتی روح میں رچی بسی ہے۔ آس پاس کہیں کسی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے، تو تذکرہ اُس کا ہم جس للک سے کرتے ہیں، اُسی سے خواہش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہم عاصمہ جہانگیر صاحبہ کے اس خیال سے متفق ہیں کہ پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا ہو گا، آرٹیکل 62، 63 کی درستی کے ساتھ وہ راستے بند کرنے ہوں گے، جو پچھلی آمریتیں چھوڑ گئیں، عوام کی طاقت دکھانا ہو گی، تبھی سیاست دانوںکو ریلیف ملے گا۔
بس اتنا اضافہ کہ جب سیاست دانوں کو ریلیف مل جائے، تو تھوڑا ریلیف عوام کو بھی فراہم کر دیں۔ اور کچھ نہیں تو بلدیاتی نظام ہی کو اپنی حقیقی شکل میں بحال کر دیا جائے۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں