"KNC" (space) message & send to 7575

آزادی اور بھوک

پاکستان‘ امریکہ‘ ایران یا بھوک اور افلاس؟ افغانستان کے طالبان کو طے کرنا ہے کہ ان کا اصل دشمن کون ہے؟ انہیں کس کے خلاف لڑنا ہے؟
بھوک نے افغانستان میں ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ وہ دروازوں پر دستک نہیں دے رہی‘ بلا اجازت اندر گھس آئی ہے۔ 'رائٹر‘ کی خبر دل دہلا دینے والی ہے۔ اکثریت نانِ جویں کو ترس رہی ہے۔ پاکستان اور ایران سے نکالے گئے مہاجرین‘ جو نسبتاً آسودہ حال تھے‘ واپس جا رہے ہیں اور نہیں جانتے کہ کھائیں گے کہاں سے۔ 'رائٹر‘ نے ایران سے لوٹنے والے ایسے ہی ایک خاندان کی کہانی لکھی ہے۔ طالبان حکومت کے ترجمان کا بیان روایتی ہے۔ بے خبری اور بے حسی کا مظہر۔
1979ء ہی کا سال تھا جب افغانستان بھی ایران کے ساتھ ایک رومان میں داخل ہوا۔ سوویت یونین کے خلاف جہاد کو گلیمرائز کیا گیا۔ نئے بت تراشے گئے‘ گلبدین‘ احمد شاہ مسعود‘ برہان الدین ربانی کے روپ میں۔ بتایا گیا کہ قرونِ اولیٰ کے مجاہدین کا دوسرا جنم ہوا ہے۔ یہ پہلے سوویت یونین سے لڑتے رہے‘ پھر ایک دوسرے پر پل پڑے۔ اگر کوئی عمارت سوویت یونین کی یلغار سے بچ گئی تھی تو اسے گلبدین اور احمد شاہ مسعود کی لڑائی نے کھنڈر بنا دیا۔ ردِعمل میں طالبان نمودار ہوئے اور آج ان کی حکمرانی کی کوکھ سے نئے بحران جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے سب سے بڑے خیر خواہ اور دوست کو اپنا سب سے بڑا دشمن بنا لیا۔ آج پوری دنیا میں کوئی نہیں جو اس مشکل میں ان کے کام آ سکے۔ پاکستان ان کے سامنے ایک ڈھال تھا۔ انہوں نے اس کو توڑ ڈالا۔
اس حکمتِ عملی کو کیا نام دیا جائے؟ ان مزاحمت کاروں نے افغان عوام کو کیا دیا؟ اگر سوویت یونین آ جاتا تو کیا وہ اس سے بڑ ھ کر بربادی لاتا؟ آج تاریخ کا طالب علم کیا سوچتا ہے؟ 46 برس کی اس داستان کا عنوان 'رائیگانی‘ کے سوا کیا ہے؟ جن ہیروز کو ہمارے تخیل یا مفاد نے جنم دیا‘ ان کا قصیدہ لکھا جائے یا ان کی بے بصیرتی کا نوحہ؟ آزادی کی 'نیلم پری‘ کیا ایسی ہوتی ہے؟ تین نسلوں کی زندگی کس کی حیات سے مماثلت رکھتی ہے؟ شیر سے یا گیدڑ سے؟
میں اپنی گزشتہ سو‘ ڈیڑھ سو سال کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتا ہوں تو مجھے منیر نیازی یاد آتے ہیں:
تھا منیر آغاز ہی سے راستہ اپنا غلط
اس کا اندازہ سفر کی رائیگانی سے ہوا
بیسویں صدی کے آغاز میں جب دنیا کی تاریخ اور جغرافیہ نئی کروٹ لے رہے تھے‘ ہم یہ سمجھ نہیں سکے کہ تاریخ کا دھارا کس سمت میں بہہ رہا ہے۔ ایک آدھ استثنا کے ساتھ ہماری فکری و سیاسی قیادت ماضی کی اسیر رہی۔ تیسری دنیا کے ساتھ ایک المیہ یہ ہوا کہ اسے نظریے کا رومان لاحق ہو گیا۔ لوگوں کو بتایا گیا کہ ان کو درپیش مسائل کا علاج کسی خاص نظریے کو اپنانے میں ہے۔ اس سے یہ فائدہ تو ہوا کہ زندگی کو ایک وسیع تر اور اعلیٰ سطح پر دیکھنے کا رجحان پیدا ہوا۔ انسان کا رُخ ذات کے بجائے اجتماع کی طرف ہوا۔ اس اعتراف کے ساتھ یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ یہ نظریاتی سوچ مسائل کا کوئی قابلِ عمل حل پیش نہیں کر سکی۔ اس نے انسان کو ماضی پرست اور دقیا نوسی بنایا۔ اس کے برخلاف یورپ میں فکری سفر کا رُخ مستقبل کی طرف تھا۔ وہاں اصرار ماضی سے نجات پر تھا۔ ہر نقشِ کہن کو مٹانے کا جذبہ پیدا ہوا۔ بادشاہت‘ جاگیر داری‘ مذہب‘ ہر اُس نقش کو مٹا دیا گیا یا اس کی نئی صورت گری ہوئی جس کا تعلق روایت سے تھا۔ میکس ویبر جیسے اہلِ علم نے تجزیہ کیا ہے کہ سرمایہ دارانہ اخلاقیات کے پیدا کرنے میں مذہب کی نئی تعبیر پروٹسٹنٹ ازم نے کیا کردار ادا کیا۔ اس طرزِ فکر نے یورپ کے لیے نئی دنیا کا دروازہ کھولا۔ اہلِ مشرق کے پاس 'پس چہ بایدکرد؟‘ جیسے سوال رہ گئے۔ انہیں ماضی کو مستقبل سے جوڑنا تھا جس میں وہ کامیاب نہ ہو سکے۔
یورپ اور امریکہ جیسی جدیدیت کی علمبردار قوتوں نے ایک طرف ترقی کا نیا راستہ اپنایا اور دوسری طرف مشرق کی نفسیات کا بھی گہرا مطالعہ کیا۔ اس مطالعے نے مشرقِ وسطیٰ‘ برصغیر اور جنوبی ایشیا کو مسخر کرنے میں ان کی راہنمائی کی۔ انہوں نے اس نفسیات کو سمجھ کر عرب دنیا پر تسلط جمایا اور اس کے ساتھ اسی کو افغانستان میں استعمال کیا۔ انہیں معلوم تھا کہ جہاد کیسے مسلمان کو بے تیغ لڑنے پر ابھارتا ہے۔ افغانستان میں اس کی اس طرح آبیاری کی کہ ایک تیر سے دو شکار کر لیے۔ سوویت یونین بھی اور مسلمان بھی۔ مسلمانوں کو ایک خارجی دشمن کے پیچھے لگا دیا۔ اشتراکیت کے تصورِ انقلاب اور مسلمانوں کے جذبۂ جہاد نے ان قوموں کو داخلی مسائل سے بیگانہ کر دیا۔ وہ اپنے مسائل کا سبب خارج میں تلاش کرتے رہے‘ درآں حالیکہ وہ داخل میں تھا۔
یہ نفسیاتی ڈھانچہ بدقسمتی سے آج بھی وہی ہے۔ افغانستان کے طالبان کو دوسری بار موقع ملا تھا کہ وہ اپنی قوم کو خوشحال بناتے۔ ساری توجہ داخلی مسائل پر مرتکز کرتے۔ پاکستان سے اگر ان کو کوئی جائز شکایت تھی تو بھی اسے مؤخر کرتے اور تعاون کی طرف بڑھتے کہ پاکستان ان کی معیشت کے لیے شہ رگ ہے۔ یہاں ان کے ہمدرد کم نہیں تھے۔ اس طرح انہیں داخلی حمایت بھی میسر آتی۔ افسوس کہ انہوں نے بھی خارج میں اپنے دشمن تلاش کیے۔ جب کوئی اور نہ ملا تو پاکستان کو دشمن بنا لیا۔ اس کی قیمت افغانستان کے عوام ادا کر رہے ہیں۔
افغانستان میں 46 برس سے مزاحمت کے نام پر تین نسلوں کو بر باد کر دیا گیا۔ آج بھوک نے وہاں ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ پاکستان افغانوں کے لیے ایسے ہی تھا جیسے پاکستان کے لیے دبئی اور سعودی عرب۔ یہاں سے لوگ پیسہ کماتے اور وہاں خاندانوں کی پرورش کرتے۔ برسوں سے ایک افغان میرے محلے سے کوڑا لے کر جاتا ہے۔ بارہا اس نے مجھ سے چھوٹی موٹی رقم ادھار لی کہ افغانستان بھیجنی ہے۔ کبھی علاج کے لیے‘ کبھی شادی کے لیے۔ طالبان نے یہ سب مواقع برباد کر دیے۔ افسوس یہ ہے کہ اس کا احساس طالبان کو ہے نہ ان کے خیر خواہوں کو۔
طالبان کو اور مسلم دنیا کو سوچنا ہے کہ ان کو پہلے کس کے خلاف مزاحمت کرنی ہے؟ بھوک‘ افلاس اور جہالت کے خلاف یا خارج میں بیٹھی قوتوں کے خلاف؟ ترجیح کا درست تعین ہی ان کے لیے امید کا راستہ کھول سکتا ہے۔ سوچنا یہ ہے کہ دنیا میں مشرق ہی کیوں میدانِ جنگ ہے؟ وہیں پہ بدامنی اور افلاس کیوں ہے جہاں نظریاتی جنگیں لڑی گئیں؟ افغانستان اور ایران سے لے کر وینزویلا اور کیوبا تک کیا ہو رہا ہے اور کیوں؟ آزادی کی نام نہاد جنگ نے افغانستان کو کیا دیا؟ کیا وہ غیرت اور آزادی باقی ہیں جن کو بچانے کے لیے اس راستے کا انتخاب کیا گیا؟ افغانوں کی وہ نسل اب بال بچے دار ہے جس کا بچپن پاکستان کی چوکوں اور چوراہوں پر بھیک مانگتے گزر گیا۔ یہ شیر کی زندگی ہے یا گیدڑ کی؟ افغانستان کے طالبان کو سوچنا ہے کہ اس وقت ان کا سب سے بڑا دشمن کون ہے؟ وہ بھوک جو افغانستان کے گھر گھر میں گھس چکی یا پاکستان جو اَب بھی ان کا خیر خواہ ہے؟
یہ نظریاتی کشمکش ہو یا قوت کا کھیل‘ قیمت ہمیشہ عوام ادا کرتے ہیں۔ گلبدین‘ اشرف غنی اور حامد کرزئی جیسے لوگ کہاں ہیں؟ آج گلبدین بیمار ہوتے ہیں تو ملائیشیا کے جدید ترین ہسپتال میں علاج ہوتا ہے۔ ملک کا وزیراعظم عیادت کے لیے آتا ہے۔ ایک بیمار افغان شہری کو کیا یہ سہولت حاصل ہے؟ پہلے وہ پشاور اور اسلام آباد آ جاتا تھا‘ آج وہ کہاں جائے؟ اس کا جواب کیا گلبدین یا ملا ہبت اللہ کے پاس موجود ہے؟ فاعتبروا یا اولی الابصار۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں