پنجا ب یونیورسٹی میں طلبہ کے درمیان تصادم کو کئی دن بیت چکے مگر غلط اور صحیح کی بحث ختم ہونے میں ہی نہیں آرہی۔حکمت و تدبر اور فہم و فراست کا تقاضا تویہی تھا کہ میں اس لاحاصل بحث میں نہ پڑتا کیونکہ اسلامی جمعیت طلبہ میری پہلی محبت ہے تو پختون ثقافت میری کھوئی ہوئی میراث ہے۔میں یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا کہ زمانہ طالبعلمی میں جمعیت سے نہ صرف منسلک رہا بلکہ ہراول دستے میں متحرک و فعال کردار اداکیا۔البتہ اب صورتحال یہ ہے کہ جمعیت کے احباب مجھے راندہ درگاہ سمجھتے ہیں تو مخالفین ہنوز ''جماعتییـ‘‘ کی پھبتی کستے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ میں اس ایشو پر اپنی رائے کا اظہار کرنے سے گریزاں تھا۔لیکن اطراف کے اٹھائی گیروں نے اس شد ومد سے ڈھول پیٹا کہ میں باجود کوشش کے خاموش اور لاتعلق نہیں رہ پایا۔جمعیت کے چاہنے والے بیشمار ہیں تو مخالفین بھی ان گنت۔ایک طرف اس کی محبت میں گھائل پروانے کوئی بات سننے کو تیار نہیں تو دوسری طرف اس کی نفرت پر مائل افراد کسی دلیل پر کان نہیں دھرتے۔حقیقت یہ ہے کہ سچ کا کھوج لگانے کے لیے اعتدال و توازن درکار ہوتا ہے جو کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
جس دن پنجاب یونیورسٹی میں جھگڑا ہوا ،اس دن سے ہی میری رائے یہ تھی کہ طلبہ کو لڑانے میں اساتذہ کی گمراہ کن سیاست کا عمل دخل ہے۔سابقہ وائس چانسلر کے برعکس موجوہ رئیس الجامعہ ڈاکٹر ظفرمعین انتہائی معقول شخص ہیں مگر ان کی تقرری عارضی ہے اور حتمی فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے اس لیے مجاہد کامران کی لابی نے ابھی تک ہار نہیں مانی۔قائم مقام وائس چانسلر ہونے کے ناتے ان کے اختیارات بھی محدود ہیں اس لیے وہ تعیناتیوں ،تقرریوں اور تبادلوں سے گریز کر رہے ہیں اس لیے سابقہ وائس چانسلر کے نوازے ہوئے لوگ بدستور اپنے عہدوں پر موجود ہیں۔یہ واقعہ ایک تیر سے دوشکار کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے کہ ایک طرف تو جمعیت کو دیوار سے لگا دیا جائے اور دوسرا یہ تاثر ابھر کر سامنے آئے کہ موجودہ وائس چانسلر نااہل ہیں ،ان سے معاملات سنبھل نہیں رہے لہٰذا مجاہد کامران کوہی واپس لایا جائے۔بعد ازاں جو واقعات رونما ہوئے ان سے اس تاثر کی تصدیق ہوتی چلی گئی۔مثال کے طور پر جس دن پشتون اور بلوچ طلبہ لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے کے لیے تشریف لائے ،میں وہاں موجود تھا۔میری موجودگی میں علامہ اقبال ٹائون سرکل کے ڈی ایس پی نے سیکرٹری لاہور پریس کلب سے درخواست کی کہ ان طلبہ پر خصوصی شفقت کی جائے اور قواعد سے ہٹ کر پریس کانفرنس کرنے دی جائے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے سرکل میں تو پنجاب یونیورسٹی آتی ہی نہیں ،اور آپ کس حیثیت میں پریس کانفرنس کروا رہے ہیں؟تو انہوں نے ہچکچاتے ہوئے کہا،لاہور پولیس کے پورے ڈویژن کو متحرک کیا گیا ہے اور ہمیں اوپر سے ہدایات ہیں کہ جمعیت کے مخالف طلبہ کو پروٹوکول دیا جائے۔پریس کانفرنس کے دوران پنجاب یونیورسٹی کے ایک افسر جو سابقہ وائس چانسلر کے چہیتے ہیں ،ان طلبہ کو سمجھاتے رہے کہ کیا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا۔
اس واقعہ کا تناظر اور پس منظر یہ ہے کہ کامران مجاہد نے اپنے دور میں جمعیت کا مکو ٹھپنے کی ہر ممکن کوشش کی۔پہلے آئی ایس او کو متحرک کیا گیا ،پھر تحریک انصاف کے اسٹوڈنٹ ونگ پر دست شفقت رکھا گیا لیکن جب یہ سب تدبیریں ناکام رہیں تو پھر ایک دیرپا حکمت عملی اختیار کی گئی جس سے بیک وقت کئی مقاصد حاصل کیے جا سکیں ۔بلوچستان سے خصوصی کوٹے پر 700طلبہ و طالبات کو میرٹ سے ہٹ کر داخلہ دیا گیا۔ان طلبہ کو ہاسٹل اور میس سمیت ہر حوالے سے رعایت دی گئی ۔اس اقدام کا ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ بین الصوبائی سطح پر سابقہ وائس چانسلر کی امیج بلڈنگ ہوئی اور دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ طلبہ و طالبات میں سے ہی ایک بہت بڑے گروہ کی تائید و حمایت حاصل ہو گئی ۔جس طرح ہماری اسٹیبلشمنٹ مخصوص ایجنڈے کے حصول کے لیے ایک جماعت کو تراشتی ہے اور پھر اسے ختم کرنے کے لیے کسی نئے گروہ کو سامنے لاتی ہے اسی طرح یہ واقعات بھی ''لڑائو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کا حصہ ہیں۔پشتون تو اسلامی جمعیت طلبہ کا میمنہ و میسرہ ہیں ،جمعیت کے ایک تہائی ناظمین اعلیٰ کا تعلق خیبر پختون خوا سے ہے اور آج بھی جمعیت کی زمام کار ایک پختون ناظم اعلیٰ کے ہاتھ میں ہے تو جمعیت اور پختون جھگڑے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔
میری اطلاعات کے مطابق یوم پاکستان کے حوالے سے جمعیت کی تقریبات پہلے سے طے تھیں جنہیں سبو تاژ کرنے اور طلبہ کوآپس میں لڑوانے کے لیے اچانک پشتون کلچر ڈے منانے کا فیصلہ کیا گیا اور بلوچ طلبہ کو چارے کے طور پر استعمال کیا گیا۔توقعات کے عین مطابق جمعیت کے بعض کارکنان نے مشتعل ہو کر پشتون کلچر ڈے کی تقریب پر دھاوا بول دیا جس کے ردعمل میں بلوچ اورپشتون طلبہ نے تمام حدود و قیود پھلانگتے ہوئے جمعیت طالبات کی اس تقریب کو بھی تہس نہس کر دیا جس میں سمعیہ راحیل قاضی شریک تھیں۔
جمعیت کی سوچ ،فکر وعمل اور مزاج پر بہت سے اعتراضات ہو سکتے ہیں مگر مخالفت پر ادھار کھائے لوگوں نے اس قدر گرد اڑائی کہ جس ویڈیو میں جمعیت کے ایک کارکن کو بلوچ اور پشتون طلبہ بے رحمی سے پیٹ رہے ہیں اسے بھی جمعیت کے کھاتے میں ڈال دیا۔تکلف برطرف ایسا محض پنجاب میں ہی ممکن ہے کہ میرٹ سے ہٹ کر داخلہ لینے والے پشتون اور بلوچ طلبہ مقامی طلبہ کی درگت بنائیں اور پھر سرکار سے پروٹوکول بھی پائیں ۔اول تو کسی پنجابی طالبعلم کا پشاور یونیورسٹی یا کوئٹہ یونیورسٹی میں داخلہ ہی ممکن نہیں لیکن بالفرض محال وہاں اگر کوئی ایسا واقعہ رونما ہوا ہوتا تو اب تک پنجابیوں کا جینا محال کیا جا چکا ہوتا۔
محولہ بالا استدلال کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں جمعیت کو کلین چٹ دے رہا ہوں یااس واقعہ سے بری الذمہ قرار دے رہا ہوں ۔عمران خان کی پٹائی سے پشتون طلبہ سے لڑائی تک جمعیت مسلسل بلنڈرز کرتی چلی آ رہی ہے۔نقش کہن بدل رہا ہے ،جمعیت بھی خود کو وقت کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہے مگر اس کی رفتار بہت دھیمی ہے۔زمانہ قیامت کی چال چل رہا ہے اور جمعیت کچھوے کی رفتار سے رینگ رہی ہے۔مانا کہ مخالفین سازشیں بُنتے ہیں مگر جمعیت جیسے منظم گروہ سے ایسی عدم بلوغت کی توقع نہیں کی جا سکتی کہ اس کے سامنے کیلے کا چھلکا پھینکا جائے تو وہ پہلو تہی کرتے ہوئے بچ نکلنے کے بجائے یہ کہے کہ اچھا آج پھر پھسلنا پڑے گا۔
نوٹ: کالم نگار نے سطور بالا میں اپنا موقف بیان کیا ہے۔ اگر کوئی صاحب اس بارے میں اپنا نکتہ نظر بیان کرنا چاہیں تو صفحات حاضر ہیں (ادارہ)