آڑو اور آلو بخارے کے درخت بول نہیں سکتے مگر ان کے پھل اس قدر دلکش ہوتے ہیں کہ لوگ کھنچے چلے آتے ہیں اور ان کے آنے سے ایک نیا راستہ بن جاتا ہے۔ چینی کہاوت
شنگھائی کے تاریخی میوزیم میں کانسی کی ملمع کاری سے ایستادہ ایک ریشم کا کیڑا بھی محفوظ ہے جو زمانہ قدیم میں چینی باشندوں کی طویل جدوجہد کی یاد دلاتا ہے‘ اس لیے چینی صدر شی جن پنگ ''ون بیلٹ ون روڈ فورم‘‘ کے موقع پر 100 سے زائد ملکوں کے نمائندہ وفود سے خطاب کرتے ہوئے اس کا ذکر کرنا نہیں بھولے۔ ریشم سازی کو قدیم چین میں صنعت کا درجہ حاصل تھا اور ریشم کے پارچہ جات کو بطور کرنسی بھی استعمال کیا جاتا تھا‘ مگر دِقت یہ تھی کہ چینی باشندوں کو دیگر خطوں تک رسائی حاصل نہ ہونے کے سبب ریشم کی مصنوعات برآمد نہ ہو پاتیں۔ ہر چینی حکمران نے اپنے دورِ اقتدار میں اس اڑچن کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی‘ بالخصوص ہان خاندان نے چینی علاقوں کو افریقہ، ایشیا اور یورپ سے جوڑنے کے لیے پہاڑوں کو کاٹ کر راستے بنانے کے منصوبوں کا آغاز کیا اور ان نئے راستوں کو ریشمی شاہراہیں یا سلک روڈز کہا گیا۔ ان سِلک روڈز کے ذریعے نہ صرف تجارتی ساز و سامان کا تبادلہ ہوا بلکہ ثقافت و تہذیب، علم و فکر اور عقائد و مذاہب کو بھی نئی منڈیاں میسر آئیں۔ آج بھی چینی حکام اپنے آبائواجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے تجارتی راہداریوں اور ریشمی سڑکوں کا جال بچھانے کے ایک بہت بڑے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس کا نام ''ون بیلٹ ون روڈ‘‘ ہے۔ یہی وہ منصوبہ ہے جس کی کوکھ سے چین پاکستان معاشی راہداری نے جنم لیا۔ ون بیلٹ ون روڈ (OBOR) منصوبے کے تحت چین تین براعظموں میں انفراسٹرکچر کا جال بچھانا چاہتا ہے۔ ہم تو محض سی پیک کے تحت 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر نہال ہوئے جاتے ہیں‘ مگر چین اب تک 900 ارب ڈالر کے منصوبوں پر کام کا آغاز کر چکا ہے اور ''ون بیلٹ ون روڈ‘‘ پروگرام کے تحت ہر سال 150 ارب ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ون بیلٹ ون روڈ پروگرام کی وسعت کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ یہ دنیا بھر کی 65 فیصد آبادی، توانائی کے تین چوتھائی عالمی ذخائر اور 40 فیصد جی ڈی پی کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ گوادر کی پاکستانی بندرگاہ تو چین کے زیر انتظام ہے ہی‘ مگر اب ترکی کی تیسری بڑی بندرگاہ تین چینی کمپنیوں نے خرید لی ہے۔ چائنا یورپ ایکسپریس منصوبے کے تحت چینی شہروں کو یورپ سے ملانے کے لیے ریلوے کے 51 نئے ٹریک بچھائے جا چکے ہیں اور ان کی بدولت 27 چینی شہروں سے مال بردار گاڑیاں تجارتی سازوسامان لے کر یورپ کے مختلف شہروں کی طرف جا رہی ہیں۔ چین اور لائوس کے درمیان 418 کلومیٹر ریلوے ٹریک بچھایا گیا ہے۔ چین اور تھائی لینڈ کو ملانے کے لیے 873 کلومیٹر کا ٹریک تیار ہے۔ افریقہ میں نیروبی اور ممباسا کو جوڑنے کے لیے 471 کلومیٹر ریلوے ٹریک پر کام جاری ہے۔ انڈونیشیا میں تیز رفتار ٹرین چلانے کے منصوبے پر کام جاری ہے۔ بنگلہ دیش میں چینی کمپنیاں پُل بنا رہی ہیں۔ سری لنکا میں 1.1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ کمبوڈیا میں صنعتی پارک بن رہا ہے۔ ماسوائے بھارت کے، مالدیپ اور میانمار سمیت جنوبی ایشیا کے تمام ممالک ''ون بیلٹ ون روڈ‘‘ منصوبے کا حصہ بن چکے ہیں‘ حتیٰ کہ نیپال‘ جو بھارتی کا بغل بچہ شمار ہوتا ہے‘ نے بھی بھارت کی منشا اور مرضی کے خلاف اس منصوبے میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ اتوار اور پیر کو اس منصوبے کی تفصیلات بیجنگ میں ہونے والے ون بیلٹ ون روڈ فورم میں آشکار کی گئیں تو پوتن، اردوان، سوچی اور محمد نواز شریف سمیت 28 ممالک کے سربراہان موجود تھے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی‘ جو پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کے دعوے کیا کرتے تھے، خود اکیلے رہ گئے ہیں۔
چینی صدر شی جن پنگ کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ ہمیشہ نئے راستے دریافت کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور جہاں بھی جاتے ہیں اپنی گفتگو میں چینی کہاوتوں کو ضرور شامل کرتے ہیں۔ ون بیلٹ ون روڈ فورم کے موقع پر بھی عالمی مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کئی چینی کہاوتوں کا حوالہ دیا۔ کسی بھی بڑے منصوبے کے لیے پہلا قدم اٹھانا کس قدر مشکل ہوتا ہے، اس حقیقت کو بیان کرتے ہوئے چینی صدر نے کہا کہ ہمارے ہاں چین میں کہا جاتا ہے کہ ایک طویل مسافت اس وقت تک طے نہیں کی جا سکتی جب تک پہلا قدم نہ اٹھایا جائے۔ اسی طرح عربی کی مشہور کہاوت ہے کہ اہرامِ مصر ایک پتھر پر دوسرا پتھر رکھ کر ہی تعمیر کیے گئے۔ آخر میں انہوں نے انگریزی کہاوت کا حوالہ دیا کہ روم ایک دن میں تعمیر نہیں ہو گیا۔
جب سے وزیر اعظم نواز شریف چاروں وزرائے اعلیٰ کو لے کر چین گئے ہیں، بھانت بھانت کے تبصروں کا سلسلہ جاری ہے‘ بالخصوص وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ کیا نواز شریف کا سوشل بائیکاٹ کرنے کے لیے ساتھ گئے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر قومی مفادات کے تحت مخالفین کے ساتھ مل بیٹھنا سیاسی بالغ نظری ہے اور اس پر تنقید کے بجائے ان کی تعریف کی جانی چاہئے۔ البتہ میں کل سے یہ سوچ رہا ہوں کہ جب چینی صدر شی جن پنگ ''ون بیلٹ ون روڈ‘‘ فورم سے خطاب کرتے ہوئے سڑکوں، پُلوں اور شاہراہوں کی اہمیت بیان کر رہے تھے اور یہ بتا رہے تھے کہ نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کی ترقی و خوشحالی کا راز ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں پوشیدہ ہے تو ان کے سامنے براجمان وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کیا سوچ رہے ہوں گے؟ انہوں نے تو آج تک اپنے سیاسی کارکن کو یہی بتایا ہے کہ قومیں سڑکیں اور پُل بنانے سے نہیں بنتیں۔ وہ تو سیاسی بنیادوں پر ہر ایسے منصوبے کی مخالفت کرتے چلے آئے ہیں۔ پرویز خٹک کے پاس وقت ہو تو شنگھائی کے عجائب گھر میں رکھے ریشم کے کیڑے کو ضرور ملاحظہ کریں اور کسی چینی دوست سے اس کی تاریخ بھی معلوم کریں کہ کس طرح سلک روڈ نے چین پر اقتصادی ترقی کی راہیں کھول دیں۔ چونکہ چینی کہاوتوں کا ذکر ہو رہا تھا تو مجھے بھی ایک چینی کہاوت یاد آ رہی ہے ''کاغذ سے آگ کو ڈھانپا نہیں جا سکتا‘‘۔ امید ہے پرویز خٹک پاکستان واپس آنے کے بعد سڑکوں، پُلوں اور دیگر ذرائع مواصلات کی حقیقت کو سیاسی شعبدہ بازی کے کاغذ سے ڈھانپنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ ایک حقیقت ہے‘ جسے سیاسی شعبدہ بازی کے کاغذ سے ڈھانپنے کی کوشش نہ کی جائے تو اس سے مزید استفادہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس منصوبے کے تحت چین ہر سال 150 ارب ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
سِلک روڈز کے ذریعے نہ صرف تجارتی
ساز و سامان کا تبادلہ ہوا بلکہ ثقافت و تہذیب،
علم و فکر اور عقائد و مذاہب کو بھی نئی منڈیاں میسر
آئیں۔ آج بھی چینی حکام اپنے آبائواجداد
کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نئی منڈیوں تک
رسائی کے لیے تجارتی راہداریوں اور ریشمی سڑکوں
کا جال بچھانے کے ایک بہت بڑے منصوبے
پر کام کر رہے ہیں جس کا نام ''ون بیلٹ ون روڈ‘‘
ہے۔ یہی وہ منصوبہ ہے جس کی کوکھ سے چین
پاکستان معاشی راہداری نے جنم لیا۔