"BGC" (space) message & send to 7575

لبرل پاکستان کا مذاق

نہ ہر سفید شے روشنی ہوتی ہے اور نہ ہر سیاہ چیز اندھیرا۔سیاہ فام برطانوی مورخ اور دانشور حبیب آکنڈے
لاعلمی نہیں غلط فہمی تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔یہ بات اہم نہیں کہ لوگ کیا جانتے ہیں ،اہم تو یہ ہے کہ وہ کیا جاننے کا دکھاواکرتے ہیں ۔روسی مصنف لیو ٹالسٹائی
آپ نے پاکستان میں کبھی کوئی ایسا جمعدار ،خاکروب یا بھنگی دیکھا ہے جو مسلمان ہو؟ہرگزنہیں دیکھا ہو گا کیونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آئینی اعتبارسے بھلے سب شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہوں مگر عملاً ایسی ملازمتیں ہندوئوں اور عیسائیوں کے لیے مختص ہیں۔تعصب کا یہ عالم ہے کہ اس ملازمت سے وابستگی کے پیش نظر پوری مسیحی برادری کے لیے ایک ایسا تضحیک آمیز لفظ استعمال کیا جاتا ہے جو یہاں نقل کرنے کی جسارت بھی نہیں کی جا سکتی ۔اس تنگ نظری،تعصب اورمحدود سوچ کوقدامت پسندی کہا جاتا ہے۔قدامت پسند معاشرے میں عمل ِتطہیر کے نام پر لوگوں کو تقسیم در تقسیم کیا جاتا ہے۔جیسا کہ ہمارے معاشرے میں مذہب ،عقیدے ،مسلک ،قومیت ،لسانیت اور علاقائیت کے نام پر نفرت کی دیواریں کھڑی کی گئیں۔قدامت پسند معاشرے کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہوتا ہے ہر فرد خود کو الہامی منصب دار، خدائی فوجدار ،معاشرے کی اصلاح کا علمبردار اور معاشرتی ٹھیکیدار گردانتے ہوئے دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی کو اپنا فرض منصبی سمجھتا ہے۔لوگوں کا رہن سہن اور طرز زندگی کیسا ہو؟کسے کس طرح کا لباس پہننا چاہئے؟ کون سے عقائد اور نظریات حق کا درجہ رکھتے ہیں اور کون سے باطل ہیں؟ ان کی خواہش اور کوشش 
ہوتی ہے کہ صیح اور غلط ،جائز اور ناجائز ،حلال اورحرام کا فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہو۔فحا شی اور عریانی ،حیا اور بے حیائی جیسی اصطلاحات کی تشریح کرنے کا اختیار انہیں حاصل ہو۔یہ قدامت پسندانہ رویئے جب اپنی انتہا کو پہنچتے ہیں تو پھر کفر کے فتوے جاری ہونے لگتے ہیں ،حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بانٹے جاتے ہیں اور غداری کے لیبل چسپاں ہوتے ہیں۔ہر مذہب کے پیروکار قدامت پسندی کے راستے پر چلتے ہوئے اپنی اپنی شریعت نافذ کرنے لگیں تو پرامن معاشرے اور خوشحال ریاست کی تشکیل خواب بن کر رہ جائے۔اس اڑچن سے نکلنے کے لیئے 17ویں صدی کے عظیم فلاسفر جان لاک نے لبرل اِزم کا نظریہ پیش کیا۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ''ہر فرد کو اپنی زندگی ،آزادی اور جائیدادپر فطری حق حاصل ہے۔‘‘باالفاظ دیگر کس کا طرز زندگی کیا ہو،کون کس طرح کے مشاغل اختیار کرتا ہے ،یہ طے کرنے کا اختیار آپ کو نہیں ہے۔نیز یہ کہ رواداری اور وسیع المشربی کو فروغ دیا جائے توایک ہی معاشرے میں مختلف خیالات و افکار ،نظریات ،عقائد ، مذاہب ،قومیت ،رنگ و نسل کے لوگ مل جل کر زندگی بسر کر سکتے ہیں۔
ٹالسٹائی نے درست کہا تھا،لاعلمی نہیں غلط فہمی معاشروں کو تباہی کے دہانے تک لے جاتی ہے۔اور فرق اس بات سے نہیں پڑتا کہ کسی اصطلاح کے حقیقی معنی کیا ہیں ،دیکھنا تو یہ ہے کہ لوگ اس سے کیا مرا دلیتے ہیں۔ہمارے ہاں لبرل اِزم کا ترجمہ روشن خیالی کیا گیا اور خدائی فوجداروں نے لوگوں کو گمراہ کرتے ہوئے بتایا کہ روشن خیالی تو دراصل آوارگی ،بے حیائی اور بے غیرتی کا دوسرا نام ہے۔اس مغالطے کی ایک اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں جو افراد لبرل اِزم کے پرچارک کے طور پر سامنے آئے ،ان کا اپنا ذاتی کردار جس نوعیت کا تھا ،عوام نے لبرل اِزم کو بھی اسی سانچے میں ڈھال لیا۔اس مروجہ مفہوم کے برعکس میں جب دنیا بھر کے اصحاب علم و خرد سے لبرل اِزم کا مطمح نظر سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں تو ایک دلکش خاکہ ا بھرتا ہے۔لبرل کے معانی تلاش کرنے کے لیئے انگریزی کی کوئی سی بھی ڈکشنری اٹھا کر دیکھتا ہوں تو فیاض ،سخی ،روادار،بردبار،فراخ دل ،بے تعصب ،حریت پسنداور غیر قدامت پسند جیسے الفاظ قہقہے لگاتے نظر آتے ہیںاور بے حیائی یا آوارگی سے ان الفاظ کا کوئی تال میل محسوس نہیں ہوتا۔رابرٹ فراسٹ معروف امریکی شاعر اور مصنف ہیں ،ان کے خیال میں ''اس وسیع الذہن شخص کو لبرل کہتے ہیں جو کسی بھی لڑائی میں اپنا رُخ خود متعین کرتا ہے‘‘امریکہ کے سابق صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے 1939ء میں ریڈیو پر اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے بنیاد پرست ،قدامت پسند اور لبرل کا فرق کچھ اس طرح سے بتایا۔''بنیاد پرست اس شخص کی مانند ہے جس کے دونوں پیر فضاء میں معلق ہوں۔قدامت پسند کی مثال اس شخص کی سی ہے جس کی دونوں ٹانگیں تو سلامت ہیں مگر اس نے ان کی مدد سے آگے بڑھنا نہیں سیکھا۔ان کے برعکس لبرل شخص وہ ہے جو اپنے دماغ کے ایما پر اپنے پیر اور ہاتھ استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے‘‘ہسپانوی دانشور اور معروف کتاب "The Revolt Of the masses"کے مصنف Jose Ortega Y Gasset نے تو دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔لبرل اِزم کی حقیقی تشریح و تعبیر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں''فیاضی جب اپنی انتہا کو پہنچتی ہے تو لبرل اِزم کہلاتی ہے۔اپنے دشمن باالخصوص کمزور دشمن کے ساتھ اشتراک وجود کے عزم کا اظہار لبرل اِزم ہے‘‘
جو کنویں کے مینڈک سمجھتے ہیں کہ لبرل اِزم اسلام سے متصادم ہے،وہ ہسپانوی مصنف کے الفاظ ذہن میں رکھتے ہوئے فتح مکہ کو یاد کریں ۔جب طاقت رکھنے کے باوجود کمزور دشمن کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا''آج تم پر کوئی قدغن نہیں ،جائو تم سب آزاد ہو‘‘یہی تو تھی دریا دلی اور فیاضی کی انتہا ۔لبرل اِزم کی اس سے واضح مثال اور کیا ہو سکتی ہے۔
''انسان تو آزاد پیدا ہوا تھا مگر اسے ہر جگہ زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے‘‘ہمارے ہاں پائے جاتے ''رٹو طوطوں ‘‘ کو روسو کے معاہدہ عمرانی کا یہ جملہ ایک آنکھ نہیں بھاتا اور اسے لبرل کہہ کر دھتکار دیا جاتا ہے لیکن ان عقل کے ا ندھوں کو کیا معلوم کہ اس سے کہیں زیادہ فصیح و بلیغ بات تو روسو سے لگ بھگ 1100سال پہلے حضرت عمر ؓ نے اس وقت کہی تھی جب گورنر عمرو بن العاصؓ کے بیٹے نے ایک قبطی غلام کو بلاوجہ کوڑا رسید کیا۔حضرت عمر ؓ نے اسے سرعام کوڑے لگوائے اور یہ تاریخی جملہ کہا''تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام سمجھنا شروع کر دیا جبکہ ان کی مائوں نے تو انہیں آزاد جنا تھا‘‘یہی تو وہ آزادی ہے جس کے تحفظ کی بات لبرل اِزم کا جزو لاینفک ہے۔ان گنت واقعات اور لاتعداد مثالیں پیش کی جا سکتی ہیںمگر جو حالتِ انکار میں ہیں وہ نہیں سمجھیں گے۔ہمارا المیہ تو یہ ہے کہ یہاںہر''اِزم‘‘ جعلی اور مسخ شدہ ہے۔وہ جو اپنے تئیں اسلام پسند ہیں ،وہ اسلام کی ''الف‘‘ سے نابلد ہیں تو لبرل اِزم کا جھنڈا لہرانے والوں کو لبرل اِزم کی ''ل‘‘ کا نہیں پتہ۔جس معاشرے کی ہر پیداوار میں جعلسازی ہو،ہر جنس میں کھوٹ ہو ،سب کچھ ملاوٹ زدہ ہو ،وہاں کوئی مولانا فضل الرحمان کے اسلام اِزم، بھٹو کے سوشلزم یا نوازشریف کے لبرل اِزم پر کیسے یقین کرے؟نوازشریف بیشک کہتے پھریں کہ پاکستان کا مستقبل جمہوری اور لبرل پاکستان ہے لیکن جب ان کے داماد کیپٹن (ر)صفدر، ممتاز قادری کو علی الاعلان اپنا ہیرو قرار دیتے ہیں اور ان کی کابینہ میں وزارت داخلہ کا اہم ترین قلمدان سنبھالے ہوئے چوہدری نثار سیکولراِزم پر لادینیت کا ٹھپہ لگاتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے میاں نوازشریف کی حِس مزاح بہت کمال ہے اور ان کی مذاق کرنے کی عادت گئی نہیں ابھی۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں