کراچی کے قلب میں‌واقع زینب مارکیٹ کے مسائل کب حل ہونگے

کراچی کے قلب میں‌واقع زینب مارکیٹ کے مسائل کب حل ہونگے

سب سے بڑا مسئلہ پارکنگ،دوسرا ٹریفک جام اورسنگین مسئلہ اسٹریٹ کرائم ہے خصوصاً رات کوبازار بند ہوتے وقت وارداتیں بڑھ جاتی ہیں، دکاندار خریداری کیلئے آنے والی خواتین کی تعداد مردوں سے کم نہیں، مہنگائی کے باعث قیمتیں بڑھ گئیں لیکن زینب مارکیٹ کی رونقیں کم نہ ہوسکیں

یہاں برآمد کیلئے منسوخ ہونے والے گارمنٹس اوردیگرمعیاری ملبوسات مناسب قیمت پرملتے ہیں،اسٹوڈنٹ ندا مظفر اوردیگرخریدارخواتین کی گفتگو کراچی(سروے رپورٹ:مظہر علی رضا/ تصاویر: ماجد حسین) شہر کے مرکز صدر میں واقع زینب مارکیٹ کو گارمنٹس کی خریداری میں شہر بھر میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ زینب مارکیٹ میں ایکسپورٹ کوالٹی کی مردانہ اور زنانہ گارمنٹس کی وسیع ورائٹی متوسط اور پوش طبقے دونوں کو ہی اپنی طرف کھینچنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔ یہاں مردانہ جینز، شرٹس،ٹی شرٹس،اپرز، زنانہ جینز، ٹاپ،شرٹس و ٹی شرٹس کے ساتھ ساتھ بچوں کے ملبوسات کی بھی وسیع ورائٹی دستیاب ہے، زینب مارکیٹ میں قائم دکانوں کی تعداد200کے لگ بھگ ہے،اس مارکیٹ کی وجہ شہرت یہاں ایکسپورٹ کوالٹی کی گارمنٹس کی دستیابی بتائی جاتی ہے، کہا جاتا ہے کہ زینب مارکیٹ میں برآمد کیلئے منسوخ ہوجانے والی شپمنٹس کی گارمنٹس کی وسیع ورائٹی یہاں دستیاب ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس مارکیٹ میں شہر کے تقریباً تمام علاقوں سے خریدار آتے ہیں جس میں متوسط کے ساتھ ساتھ پوش علاقوں کے رہائشی بھی شامل ہیں۔ زینب مارکیٹ شہر کے قلب صدر میں واقع ہونے کے باعث ٹریفک جام، پارکنگ اور تجاوزات کے روایتی مسائل سے دوچار ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ پارکنگ ہے، سڑک کے بالکل ساتھ واقع ہونے کے سبب یہاں کوئی پارکنگ نہیں ہے جس کے باعث دکاندار اور خریدار دونوں ہی اپنی موٹر سائیکلیں اور کاریں سڑک کے کنارے پارک کردیتے ہیں جس سے ٹریفک کی روانی میں خلل آنے کے ساتھ ساتھ خریداروں کو بھی مشکلات پیش آتی ہیں، سڑ ک کے کنارے پارک کی ہوئی موٹرسائیکلیں زیادہ تر مارکیٹ کے دکانداروں ہی کی ملکیت ہوتی ہیں، اس حوالے سے دکانداروں کا موقف ہے کہ چوری چکاری کے باعث وہ اپنی موٹر سائکلیں اورگاڑیاں دکانیں کے سامنے پارک کرنے پر مجبور ہیں، بعض دکانداروں نے پارکنگ پلازہ کے مقام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارکنگ پلازہ اس قدر دور ہے کہ کوئی بھی دکاندار اپنی موٹر سائیکل یا گاڑی وہاں پارک کرکے مارکیٹ میں آنے کی زحمت نہیں کرے گا،زینب مارکیٹ کا دوسرا مسئلہ ٹریفک جام کا ہے تاہم اس ٹریفک جام میں بڑا سبب خود مارکیٹ کے اطراف کی گئی غلط پارکنگ ہے،زینب مارکیٹ میں آنے والے خریداروں میں خواتین کی تعداد کسی طور بھی مردوں سے کم قرار نہیں دی جاسکتی، مہنگائی کے باعث زینب مارکیٹ میں بھی فروخت ہونی والی اشیا خصوصاً ملبوسات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تاہم مہنگائی کے باوجود زینب مارکیٹ کی رونقیں کم نہ ہوسکیں، مارکیٹ میں اوسط درجے کی مردانہ و زنانہ جینز 700روپے جبکہ ٹی شرٹس 150 تا 450 روپے میں فروخت ہوتی ہیں تاہم ایکسپورٹ کوالٹی یا مسترد کی ہوئی ٹی شرٹس زیادہ قیمت میں فروخت ہوتی ہیں، مارکیٹ میں خریداری کیلئے آئی ہوئی ایک خاتون نے بتایا کہ وہ بین الاقوامی فوڈ چین میں کام کرتی ہیں اور اکثر جینز اور ٹی شرٹس کی خریداری کیلئے زینب مارکیٹ میں آتی ہیں،انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ میں جینز بھاؤ تاؤ کے بعد600روپے تک مل جاتی ہے جبکہ شرٹس اور ٹی شرٹس کے نرخ کوالٹی کے مطابق مختلف ہوتے ہیں، گلشن اقبال کے پوش علاقے سے آئی ہوئی ایک اور کالج اسٹوڈنٹ ندا مظفر نے بتایا کہ وہ جینز اور شرٹس کی خریداری کیلئے ہمیشہ زینب مارکیٹ ہی آتی ہیں کیونکہ یہاں دستیاب گارمنٹس معیاری ہونے کے ساتھ ساتھ قیمت میں بھی مناسب ہوتے ہیں،ندا مظفر کا کہنا تھا کہ زینب مارکیٹ میں خریداری کیلئے بھاؤتاؤ بہت کرنا پڑتا ہے،اپنے دوستوں کے ہمراہ زینب مارکیٹ میں خریداری کیلئے آئے ہوئے وقار اور دانش کا کہنا تھا کہ عید کی آمد کے ساتھ ہی زینب مارکیٹ کے دکانداروں نے بھی نرخوں میں 25تا 50 فیصد اضافہ کردیا ہے،وقار کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال جو ٹی شرٹ 250روپے میں ملتی تھی، اب300روپے میں فروخت کی جارہی ہے جبکہ اسی طرح گزشتہ سال جس جینز کی قیمت550روپے تک تھی وہ اب700روپے تک پہنچ چکی ہے ،زینب مارکیٹ کے دکانداروں اور خریداروں نے مارکیٹ کے ایک اور مسئلے اسٹریٹ کرائم کی جانب توجہ دلائی،اس حوالے سے دکانداروں کا کہنا تھا کہ شام کے اوقات خصوصاً رات کو مارکیٹ بند کرتے ہوئے علاقے میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں بڑھ جاتی ہیں جس کے باعث دکانداروں کے ساتھ ساتھ خریدار بھی پریشان رہتے ہیں،اسٹریٹ کرائم کی وجہ سے ہی رات کو دکاندار ٹولیوں کی شکل میں مارکیٹ سے روانہ ہوتے ہیں ،اس حوالے سے دکانداروں کا کہنا تھا کہ رات کو مارکیٹ بندہوتے وقت پولیس کی نفری کو یہاں موجود ہونا چاہیے تا کہ دکاندار اور خریدار دونوں سکون سے خرید و فروخت کرسکیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں