بجٹ میں تنخواہ دار طبقے ، کاروباری افراد کوریلیف ملنے کا امکان

بجٹ میں تنخواہ دار طبقے ، کاروباری افراد کوریلیف ملنے کا امکان

مالی بوجھ بڑھانے والے 24 سرکاری ادارے نجکاری کی زد میں آئینگے ، مشیر خزانہ جی ڈی پی 4فیصد بڑھی، ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے متجاوز کی توقع، خرم شہزاد

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور رجسٹرڈ کاروباروں کو ریلیف دینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے ۔مشیر خزانہ خرم شہزاد نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ تنخواہ داروں اور دستاویزی معیشت میں شامل کاروباروں کے لیے ہدفی اقدامات تیار کیے جا رہے ہیں، حکومت توانائی کے نرخوں میں کمی اور ٹیکس ریٹس کے بہتر انتظام پر بھی کام کر رہی ہے ۔مشیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں پاکستان کی جی ڈی پی 4 فیصد تک بڑھ سکتی ہے ، ملک کو بیرونی اکاؤنٹس میں مضبوطی دینے کے لیے ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے ۔خرم شہزاد نے آئی ایم ایف کے ساتھ آئندہ اقتصادی جائزے کی تیاریوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس بار حکومت محتاط اور پائیدار اقتصادی پالیسی پر عمل پیرا ہے تاکہ بار بار بیلنس آف پیمنٹس کے بحران سے بچا جا سکے ۔ انہوں نے بتایا کہ 24 سرکاری ادارے جو مالی بوجھ بڑھا رہے ہیں، نجکاری کے عمل میں آئیں گے ۔انہوں نے افراط زر میں کمی اور عوام پر دباؤ کے حوالے سے کہا کہ مہنگائی 25-9630 فیصد سے تقریباً 5 فیصد پر آ گئی ہے ، اور حکومت کا مقصد شہریوں کی کمائی بڑھانا ہے ۔ خرم شہزاد نے ٹیکس وصولیوں میں کمزوریوں پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے وفاق نے گزشتہ سال 13 کھرب روپے ٹیکس جمع کیے ، جس سے وفاقی ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 11.3 فیصد رہا، جبکہ عالمی معیار تقریباً 18 فیصد ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی ٹیکس مجموعی طور پر کم ہیں اور 2028 تک اس کو تین گنا بڑھانے کی ضرورت ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں