تنخواہ دار طبقے کو ریلیف ، ٹیکس نظام منصفانہ بنانے کا مطالبہ
مہنگائی کے مارے طبقے پر ٹیکس بوجھ 76ارب سے 550ارب تک پہنچ چکا ہے ٹیکس فری آمدن کی حد بڑھا 12لاکھ کی جائے ،سیلیریڈ کلاس الائنس کا مراسلہ
کراچی(رپورٹ:حمزہ گیلانی)سیلیریڈ کلاس الائنس پاکستان نے وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیوسے مطالبہ کیاہے کہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو نمایاں ریلیف فراہم کیا جائے اور ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ بنایا جائے ۔اس حوالے سے چیئرمین ایف بی آر اور ممبر پالیسی ان لینڈ ریونیو کو ارسال کردہ ایک تفصیلی مراسلے میں کہا گیا کہ تنخواہ دار طبقہ ملک کا سب سے زیادہ دستاویزی اور ٹیکس قوانین پر مکمل عمل کرنے والا طبقہ ہے ، تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران اسی طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ غیر متناسب حد تک بڑھا دیا گیاہے ۔مراسلے کے مطابق ٹیکس سال 2019 میں تنخواہ دار افراد سے حاصل ہونے والا انکم ٹیکس تقریباً 76 ارب روپے تھا جو مالی سال 2025-26 کے پہلے گیارہ ماہ میں بڑھ کر 518 ارب روپے سے تجاوز کر گیا جبکہ مالی سال کے اختتام تک یہ وصولیاں 550 ارب روپے سے زیادہ ہونے کا واضح امکان ہے ۔ الائنس کاکہنا ہے کہ یہ اضافہ ایسے وقت میں ریکارڈ کیا گیاجب مہنگائی، یوٹیلیٹی بلوں، رہائشی اخراجات اور دیگر ضروریات زندگی کی بڑھتی قیمتوں کے باعث تنخواہ دار طبقے کی حقیقی آمدنی اور قوت خرید مسلسل دباؤ کا شکار رہی۔
سلیریڈ کلاس الائنس نے مؤقف اختیار کیا کہ تنخواہ دار افراد کی آمدنی پرسیکشن 149کے تحت منبع پر ہی ٹیکس کٹوتی کر لی جاتی ہے جس کے باعث یہ طبقہ مکمل طورپردستاویزی ہے اور آمدنی چھپانے یا ٹیکس چوری کی کوئی گنجائش موجود نہیں، اسکے باوجود حالیہ مالیاتی قوانین کے ذریعے ٹیکس شرح میں اضافہ، مختلف ٹیکس کریڈٹس اور رعایتوں کے خاتمے اور اضافی سرچارج کے نفاذ نے ملازمین پر مالی دباؤ میں مزید اضافہ کیا ہے ۔الائنس نے اپنی سفارشات میں تنخواہ دار افراد کیلئے ٹیکس حد اور شرح میں کمی،9 فیصد اضافی سرچارج کے خاتمے اور سالانہ ٹیکس فری آمدن کی حد 6 لاکھ روپے سے بڑھا کر کم از کم 12 لاکھ روپے کرنے کامطالبہ کیا ہے ۔اسکے علاوہ میڈیکل الاؤنس پر دستیاب ٹیکس استثنا کو بنیادی تنخواہ کے 10فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کرنے اور ملازمت سے متعلق اخراجات جیسے ٹرانسپورٹ، انٹرنیٹ، پیشہ ورانہ تربیت اور سرٹیفکیشنز کے لیے کم از کم 15 فیصد معیاری ٹیکس کٹوتی کی اجازت دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے ۔مراسلے میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پنشن فنڈز،میوچل فنڈز، لائف انشورنس، سکوک اور دیگر دستاویزی سرمایہ کاری ذرائع پر ٹیکس مراعات بحال کی جائیں۔