گندم کی قلت کی بنیادی وجہ اسمگلنگ ہے، عبدالرؤف ابراہیم
چار ماہ کے دوران ملک سے تقریباً 27 ملین ٹن گندم اچانک غائب ہوگئی بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو بحران کا سامنا ہوسکتا ہے ،چیئرمین گروسرز
کراچی(رپورٹ:حمزہ گیلانی)چیئرمین گروسرز اینڈ ہول سیلرز ایسوسی ایشن عبدالرؤف ابراہیم نے گندم کی درآمد اور ملک میں آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں گندم کی قلت کی بنیادی وجہ اسمگلنگ ہے ، چار ماہ کے دوران ملک سے تقریباً 27 ملین ٹن گندم اچانک غائب ہوگئی، حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو آئندہ دنوں میں آٹے کے بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔ دنیا نیوز کو خصوصی طور پر عبدالروف ابراہیم نے بتایا کہ گزشتہ سال گندم کی فصل وافر ہونے کے باوجود حکومتی بدانتظامی کے باعث صورتحال خراب ہوئی، حکومت نے کسانوں کو مناسب سپورٹ پرائس نہیں دی جبکہ کسانوں سے 55 روپے فی کلو کے حساب سے گندم خریدنا بھی ناانصافی تھی۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی ناقص پالیسیوں کے باعث رواں سال گندم کی پیداوار میں تقریباً 20 فیصد کمی ہوئی ہے ، جبکہ کھاد کی قیمت 9 ہزار روپے سے بڑھ کر 17 ہزار روپے تک پہنچنے سے بھی گندم کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی۔چیئرمین گروسرز اینڈ ہولسیلرز کے مطابق ملک میں گندم کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کیلئے 7 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم کی درآمد کافی نہیں ہوگی۔ ٹی سی پی کے ذریعے گندم کی درآمد نومبر میں متوقع ہے ، تاہم اس دوران ذخیرہ اندوز آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں روزانہ تقریباً 12 ہزار ٹن جبکہ پورے سندھ میں 24 ہزار ٹن گندم کی اشد ضرورت ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments